رسائی کے لنکس

logo-print

پلاسٹک کا فضلہ آبی کیڑوں سے پرندوں کو منتقل ہونے لگا


فائل فوٹو

بہت سے پرندے اپنی خوراک کے لیے دریاؤں اور جھیلوں پر انحصار کرتے ہیں اور پانی سے چھوٹے موٹے کیڑے پکڑ کر کھاتے ہیں۔ حال ہی میں پانی سے خوراک حاصل کرنے والے پرندوں پر تجربات کے دوران سائنس دانوں کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ان کے معدے میں پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات موجود ہیں، جب کہ وہ زمین کی سطح یا پانی سے براہ راست کچھ نہیں کھاتے۔

برطانیہ کے علاقے ویلز میں واقع کارڈف یونیورسٹی اور ایکسٹر یونیورسٹی کی گرین پیس ریسرچ لیبارٹریز کے تحت ہونے والی ایک سائنسی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آبی پرندے پانی سے کیڑے پکڑ کر اپنے گھونسلوں میں بچوں کو کھلا رہے ہیں، ان کے معدے میں پلاسٹک کے باریک ذرات بڑی تعداد میں پائے گئے۔

آبی پرندے اپنی خوراک کے لیے پانی میں پائے جانے والے کیڑوں اور حشرات پر انحصار کرتے ہیں۔ مگر اب ان کیڑوں کی خوراک میں وہ پلاسٹک بھی شامل ہو چکا ہے جو کوڑے کرکٹ کے ساتھ پھینک دیا جاتا ہے اور وہ ندی نالوں میں بہتا ہوا دریاؤں اور پھر سمندروں میں پہنچ جاتا ہے۔

اس عمل کے دوران پلاسٹک مسلسل ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتا ہے اور چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں اور ذرات میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ کئی برسوں سے سمندروں سے ایسی مچھلیاں مل رہی ہیں جن کے پیٹ میں بڑی مقدار میں پلاسٹک کے ٹکڑے پائے جاتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کا فضلہ آبی حیات کی افزائش اور صحت کے لیے مسلسل ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

اب یہ پہلا موقع ہے کہ سائنس دانوں کو ان پرندوں کے بچوں کے معدے میں بھی پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات مل رہے ہیں جن کی خوراک ان کے والدین پانی سے ڈھونڈ کر لاتے ہیں۔

پانی میں لاتعداد مختلف سائز اور حجم کے کیڑے پائے جاتے ہیں۔ وہ مچھلیوں اور دیگر آبی جانوروں کے ساتھ ساتھ ان پرندوں کی بھی خوراک بنتے ہیں جو پانی پر انحصار کرتے ہیں۔

انسانی لاپرواہی سے پھینکا گیا پلاسٹک کا فضلہ نہ ٖصرف براہ راست مچھلیوں اور آبی حیات کی خوراک بن کر ان کی نسلوں کے لیے خطرہ بن رہا ہے بلکہ وہ آبی پرندوں کے ساتھ ساتھ ان کے بچے بھی اس کا نشانہ بن رہے ہیں۔

نئی سائنسی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پلاسٹک کے پانچ ملی میٹر سائز کے ذرات جنہیں مائیکرو فائبر کہا جاتا ہے، ندی نالوں میں بہتے ہوئے دریاؤں یا سمندروں میں پہنچ کر دیگر چیزوں کے ساتھ کیڑوں کی خوراک بن جاتے ہیں جنہیں آبی پرندے شکار کر لیتے ہیں۔

یہ ریسرچ ایک سائنسی جریدے گلوبل چینج بیالوجی میں شائع ہوئی ہے۔

کارڈف یونیورسٹی کے واٹر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے معاون سربراہ اور اس تحقیق کے سربراہ پروفیسر سٹیو آرمروڈ کہتے ہیں کہ میں گزشتہ چالیس برسوں سے دریاؤں اور آبی پرندوں پر تحقیق کر رہا ہوں۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہماری تحقیق ایک روز یہ بھی منکشف کرے گی کہ یہ خوبصورت پرندے پلاسٹک کھانے سے خطرات کے دہانے پر پہنچ جائیں گے۔ ہمیں سوچنا ہو گا کہ آلودگی کس کس سطح پر ہمیں متاثر کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے یہ خوبصورت اور خوش الحان پرندے، جن کی خوراک آبی کیڑے ہیں، وہ بھی ہماری پھیلائی ہوئی آلودگی سے محفوظ نہیں رہے۔ ہم کئی عشروں سے بلا سوچے سمجھے پلاسٹک کی آلودگی پھیلا رہے ہیں۔

کارڈف یونیورسٹی کے سائنس دانوں کی اس ٹیم کو پلاسٹک کے یہ ذرات ان 166 نمونوں میں سے ملے، جنہیں 15 مقامات سے حاصل کیا گیا تھا۔ ان میں سے 14 مقامات سے حاصل کردہ نمونوں میں مائیکرو پلاسٹک موجود تھا۔ یہ مقامات شہری آبادیوں کے قریب تھے ۔

اس سے قبل کارڈیف یونیورسٹی کی ایک اور تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ساؤتھ ویلز کے دریاؤں میں پائے جانے والے کیڑوں میں مائیکرو پلاسٹک کے ذرات موجود ہیں۔

تحقیق میں شریک ایکسٹر یونیورسٹی کی گرین پیس لیبارٹریز کے ریسرچ فیلو ڈاکٹر ڈیوڈ سانٹیلو کہتے ہیں کہ ہمیں اس تحقیق سے یہ پتا چلا ہے کہ پانی سے کیڑے پکڑ کر کھانے والے آبی پرندوں میں، روزانہ تقریباً مائیکرو پلاسٹک کے 200 ذرات منتقل ہو رہے ہیں۔ ہمیں جو ذرات ملے ہیں ان میں سے 75 فی صد کے لگ بھگ کی لمبائی پانچ ملی میٹر تک تھی، جب کہ باقی ذرات کی لمبائی اس سے زیادہ تھی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پلاسٹک کے یہ ذرات، پولسٹر، نائیلون اور پولی پروپلین پر مشتمل تھے۔

پروفیسر آرمروڈ کہتے ہیں کہ کوویڈ 19 کی اس عالمی وبا کے دوران ہمیں یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ پلاسٹک کی آلودگی ہمارے ماحول کے لیے بدستور ایک بڑے خطرے کے طور پر موجود ہے اور ہم اپنی زندگیاں ایک محفوظ ماحول میں گزارنے کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے اس خطرے پر اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG