رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں لاک ڈاون ختم کرنے کے معاملے پر سیاسی طوفان


گورنر اینڈریو کومو

امریکہ کے مختلف حصوں میں کرونا وائرس بڑھتا جا رہا ہے۔ ایسے میں، ملک میں ایک نئی سیاسی بحث چھڑ گئی ہے اور وہ یہ کہ امریکہ میں کاروبار زندگی کا دوبارہ آغاز کب کیا جائے۔

سیاستدان، اقتصادی اور طبی ماہرین سب ہی اس بحث میں مصروف ہیں کہ آنے والے ہفتوں میں کیا یہ محفوظ ہوگا کہ لوگ اپنے گھروں سے نکل کر معمولات زندگی شروع کریں اور اسکول کھول دیئے جائیں۔ لیکن، اس سے پہلے کہ کوئی فیصلہ کیا جائے، سیاسی رہنما اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ اس کے بارے میں فیصلے کا اختیار کسے حاصل ہے۔

اس سلسلے میں صدر ٹرمپ اور ڈیموکریٹک گورنروں کے درمیان اختلاف رائے نمایاں ہے۔ وائٹ ہاوس کے لئے وائس آف امریکہ کی نامہ نگار پیٹسی ویڈا کوسوارا نے اپنی رپورٹ میں اس جانب اشارہ کیا ہے کہ ڈیموکریٹک گورنروں کا ایک گروپ اس بات کا اجتماعی فیصلہ کرنا چاتا ہے کہ وہ اپنی اپنی ریاستوں میں کاروبار زندگی کا ازسرنو آغاز کب سے کرنا چاہتے ہیں۔

نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو نے الزام لگایا ہے کہ اس مسئلے پر صدر، بقول ان کے، واضح طور پر ٹکراؤ کی جانب جا رہے ہیں۔ گورنر کومو نے مزید کہا کہ ''اس سے سیاسی تفریق کا آغاز ہو سکتا ہے، جو ایک بدترین صورتحال ہوگی''۔

نیویارک کے اینڈریو کومو اور دوسرے گورنر حضرات مل کر ایک ایسی حکمت عملی تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کی تحت ان کی ریاستوں میں گھروں پر رہنے کی بندش کو دھیرے دھیرے نرم کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ کرونا وائرس سے نیویارک کی ریاست سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔

ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ فیصلے کا اختیار مکمل طور پر گورنروں کو حاصل نہیں ہے۔ وائس آف امریکہ کے ایک سوال کے جواب میں سوموار کے دن ٹرمپ نے کہا کہ اس مسئلے پر مکمل اختیار انھیں حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''میں آپ کو واضح طور پر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ امریکہ کے صدر کو اپنے دائرہ اختیار کے تحت اتھارٹی ہے اور فیصلہ صدر ہی کرتا ہے''۔

ٹرمپ کے بیان نے قومی ایمرجنسی کے پس منظر اور ریاست اور وفاقی اتھارٹی کے مابین اختیارات کی تقسیم کے معاملے پر ایک سیاسی اور آئینی طوفان کھڑا کردیا ہے۔

امریکن انٹرپرائز انسٹیٹوٹ سے منسلک آئینی کے امور کے اسکالر ایڈم وائٹ کا خیال ہے کہ ایمرجنسی کی صورت میں بھی صدر کو مکمل اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ جو چاہیں کریں۔ تاہم، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ گورنروں اور میئرز کے مقابلے میں صدر مختلف صورتحال سے دوچار ہیں۔

یاد رہے کہ اس وبا کے دوران وفاقی حکومت نے اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دی ہے کہ ریاستوں کے پاس ہر قسم کا سامان اور وسائل موجود ہوں۔ قانون سازوں نے معیشت کی اعانت کے لئے دو ٹریلین ڈالر کے منصوبے کی منظوری بھی دی ہے۔

جب کہ اس بات پر اختلافات جاری ہیں کہ معمول کی زندگی کی جانب لوٹنے کے احکامات دینے کا اختیار کسے حاصل ہے، صحت کے شعبے کے لئے ٹرمپ کے اعلیٰ مشیر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ کرونا وائرس اپنے نظام الاوقات کا تعین خود کرے گا۔

صدر ٹرمپ ملک کے کچھ حصوں کو یکم مئی تک کھولنے پر غور کر رہے ہیں ڈاکٹر فاؤچی کا کہنا ہے کہ یہ بات بہت زیادہ خوش امیدی پر مبنی خیال کی جا سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG