رسائی کے لنکس

logo-print

آتشزدگی سے سی پیک کے ’ریکارڈ کو نقصان نہیں پہنچا‘


آتشزدگی کے سبب کئی دفاتر کا ریکارڈ متاثر ہوا تھا اور یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری سے متعلق ریکارڈ کو بھی آتشزدگی کے دوران نقصان پہنچا ہے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا ہے کہ اتوار کو اسلام آباد کے ایک حساس علاقے میں واقع سرکاری عمارت میں ہونے والی آتشزدگی کے دوران چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے ’سی پیک‘ سے متعلق کوئی بھی ریکارڈ تباہ نہیں ہوا۔

نفیس ذکریا نے پلاننگ، ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارمز ڈویژن کے بارے میں اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ آتشزدگی کا شکار ہونے والی عمارت میں سی پیک منصوبے کے بارے میں ’’ایک چھوٹا سا ریسرچ یونٹ تھا، جس کا ریکارڈ ڈیجیٹل صورت میں تھا اور وہ محفوظ ہے۔‘‘

پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب ’’عوامی مرکز‘‘ کہلانے والی کثیر المنزلہ سرکاری عمارت میں وفاقی متحسب سمیت کئی اہم سرکاری دفاتر واقع تھے جن میں سے ایک ’سی پیک‘ منصوبے کے بارے میں ریسرچ سینٹر بھی تھا۔

آتشزدگی کے سبب کئی دفاتر کا ریکارڈ متاثر ہوا تھا اور یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری سے متعلق ریکارڈ کو بھی آتشزدگی کے دوران نقصان پہنچا ہے۔

تاہم وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے وضاحتی بیان میں ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔

اربوں ڈالر مالیت کے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو پاکستانی حکام ملک اور خطے کے لیے ایک ’’گیم چینجر‘‘ قرار دیتے ہیں اور اس حوالے سے اس منصوبے کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

اتوار کو ہونے والی آتشزدگی سے کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق شارٹ سرکٹ آتشزدگی کا سبب بنا جس پر قابو پانے میں کئی گھنٹے لگے تھے۔

XS
SM
MD
LG