رسائی کے لنکس

logo-print

کینیا کے خلاف مضبوط ترین ٹیم میدان میں اتارنے کا عزم


شاہد آفریدی صحافیوں سے بات کررہے ہیں

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ وہ بدھ کو ہونے والے میچ میں کینیا کے خلاف ایک مضبوط ٹیم کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ گذشتہ اتوار کو چنائے میں کھیلے جانے والے میچ میں کینیا صرف 69رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی اور نیوزی لینڈ نے یہ میچ دس وکٹوں سے جیتا تھا۔

لیکن منگل کو سری لنکا کے شہر ہمبنٹوٹا میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی ٹیم کو آسان حریف نہیں سمجھتے۔”ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جب بڑی ٹیموں کو شکست کا سامنا کرناپڑا ہے“۔

2007ء کے کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم آئرلینڈ جیسی نئی ٹیم کے ہاتھوں شکست کے بعد پہلے ہی راؤنڈ سے باہر ہوگئی تھی جب کہ کینیا 1996ء میں ویسٹ انڈیز اور 2003ء میں سری لنکا جیسی مضبوط ٹیموں کو شکست سے دوچار کرچکی ہے۔

حالیہ برسوں میں پاکستانی ٹیم مختلف نوعیت کے بحرانوں کا شکار رہی ہے اور گذشتہ سال اس کے تین اہم کھلاڑیوں، سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر، کی آئی سی سی کی طرف سے معطلی اور بعد ازاں پابندی کے بعد ٹیم مشکلات کا شکار نظر آئی۔

اس بارے میں شاہد آفریدی کا کہنا تھا ”شروع میں کچھ مشکل وقت تھا کہ اس باعث ہمیں ٹیم کو دوبارہ ترتیب دینااور اسے تیار کرنا تھا جس کا اثر میری کارکردگی پر بھی پڑا، لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ ٹیم پوری طرح تیار ہے اور لوگوں کو توقع ہے کہ یہ ٹیم کچھ کرسکتی ہے“۔

پاکستانی ٹیم میں احمد شہزاد ابتدائی بلے باز کے طور پر ایک اچھا اضافہ ہے اور ان کی حالیہ میچوں میں انھوں نے متاثر کن کارکردگی پیش کی ہے۔ باؤلنگ کے شعبے میں وہاب ریاض کو ٹیم کے لیے کارآمد قرار دیا جارہا ہے ۔

پاکستان اور کینیا کے مابین ورلڈ کپ 2011ء کے سلسلے میں میچ سری لنکا کے شہر ہمبنٹوٹا میں کھیلا جائے گا۔

کینیا کے کپتان جمی کمانڈے منگل کو پریکٹس کے دوران معمولی زخمی ہوگئے لیکن ٹیم کے میڈیا منیجر کا کہنا ہے ” خطرے کی کوئی بات نہیں ہے اور جمی پاکستان کے خلاف میچ کے لیے بالکل ٹھیک ہوں گے“۔

XS
SM
MD
LG