رسائی کے لنکس

کمزور ٹیموں کی مایوس کن کارکردگی، تجریہ نگاروں کااظہار مایوسی


کمزور ٹیموں کی مایوس کن کارکردگی، تجریہ نگاروں کااظہار مایوسی
کمزور ٹیموں کی مایوس کن کارکردگی، تجریہ نگاروں کااظہار مایوسی

عالمی کپ کرکٹ 2011ء میں کمزور ٹیموں کی مایوس کن کارکردگی نے جہاں میگا ایونٹ کے بعض میچوں میں شائقین کی دلچسپی کم کر دی ہے وہیں کرکٹ سے حد درجہ شوق رکھنے والے افراد نے اظہار مایوسی بھی کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر کمزور ٹیموں کی کارکردگی اسی طرح رہی تو آئی سی سی کے سربراہ ہارون لورگاٹ کے اس فیصلے کو تقویت ملے گی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ورلڈ کپ 2015ء میں ٹیموں کی تعداد کم کرکے دس کردینی چاہئے۔ ان میں سے ٹاپ سیون یا نائن براہ راست ٹورنامنٹ میں حصہ لینے کی اہل ہوں گی جبکہ دیگر چھوٹی ٹیموں کا انتخاب ون ڈے لیگ کے ذریعے ہونا چاہئے۔

کمزور سمجھی جانے والی ٹیموں میں سے آئر لینڈ کے ہاتھوں انگلینڈ کی شکست کے علاوہ اب تک کوئی بھی بڑا مقابلہ سامنے نہیں آ سکا اور زیادہ تر مقابلے یک طرفہ ہی رہے۔ اس صورتحال میں شائقین کی دلچسپی دن بدن کم ہوتی جارہی ہے اور اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ چھوٹی ٹیموں کے میچ والے دن اسٹیڈیم خالی رہے جبکہ پاکستان اور سری لنکا کے میچ کی ٹکٹوں کی خریداری کے وقت رش کا یہ عالم تھا کہ انتظامیہ کو پولیس بلوانا پڑی۔

پھر آج کے میچ میں جس طرح بنگلہ دیش نے 58 رنز بناکردیکھنے والوں کو مایوس کیا اس سے تجزیہ نگاروں کو یہ کہنے کاموقع مل گیا ہے کہ "ورلڈ کپ کی اصل شروعات کوارٹر فائنل سے ہی ہو گی"۔

کچھ اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ آج کے میچ سے قبل کینیا بھی نیوزی لینڈ کے ہاتھوں 69 رنز پر آؤٹ ہو چکا ہے جو اس ورلڈ کپ کا دوسرا کم ترین اسکور ہے۔اس کے علاوہ پاکستان کینیا کو 112، سری لنکا کینیڈا کو 122، زمبابوے کینیڈا کو 123 اور پاکستان کینیڈا کو ہی 138 رنز پر آؤٹ کر چکا ہے ۔

مضبوط ٹیموں کی تباہ کن بالنگ کا حال دیکھیں توبیشترکمزور ٹیمیں 2 سو سے بھی زیادہ مارجن سے میدان چھوڑنے پر مجبور ہوئیں۔ سب سے بڑی شکست جنوبی افریقہ نے ہالینڈ کو 231 رنز سے دی۔ ویسٹ انڈیز نے ہالینڈ کو 215 رنز سے، سری لنکا نے کینیڈا کو 210 رنز سے جبکہ پاکستان نے کینیا کو 205 رنز سے شکست دی ۔

ایک اور غور طلب پہلو یہ ہے کہ چار میچ ایسے رہے کہ مضبوط ٹیموں نے مقررہ ہدف بغیر کسی نقصان کے یا صرف ایک وکٹ کھوکر ہی عبور کرلیا۔ ایسے مقابلوں میں نیوزی لینڈ نے کینیا اور زمبابوے کو دس، دس وکٹوں سے شکست دی جبکہ سری لنکا نے کینیا کو اور ویسٹ انڈیز نے بنگلہ دیش کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی ۔

کراچی کرکٹ ایمپائرز ایسوسی ایشن کے عہدیدار ندیم صدیقی کا وی او اے سے گفتگو میں کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی آج کی پرفارمنس مایوس کن رہی تاہم میں نہیں سمجھتا کہ آئی سی سی کو ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد محدود کردینی چاہئے۔ میری رائے یہ ہے کہ آئی سی سی ٹیموں کے انتخاب کا فارمیٹ کچھ اس طرح ترتیب دے کہ ورلڈ کپ کا ایونٹ 43 دن تک وسیع نہ ہو بلکہ یہ 20 سے 25 دن میں ختم ہوجانا چاہئے۔ طویل ایونٹ لوگوں میں دلچسپی کا باعث نہیں رہا۔ اس قدر طویل ایونٹ ختم ہوتے ہوتے دیکھنے والوں کی دلچسپی کم ہوتی چلی جائے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آئی سی سی پہلی فرصت میں ان ٹیموں کو ایونٹ سے نکال دے جو اس کی ممبر نہیں ہیں۔ آئرلینڈ، کینیا، کینیڈا اور نیدرلینڈ آئی سی سی کی رکن نہیں ہیں بلکہ انہیں دنیا کی دوسرے ٹیموں کے درمیان ہونے والے کوالیفائنگ راوٴنڈزکی ٹاپ فور ٹیموں کے طور پر منتخب کیا جاتا ہے۔ رہی بنگلہ دیش اور زمبابوے کی بات تو یہ کمزور ٹیمیں سہی مگر آئی سی سی کی باقاعدہ ممبر ہیں ۔ بنگلہ دیش نے آج کم اسکور کیا ہے تو کوئی بات نہیں کرکٹ میں ایسا ہوتا رہتا ہے، اسی ٹیم نے پہلے 250رنز بھی تو بنائے تھے۔

کرکٹ سے بے انتہا لگاوٴ اور تقریباً 30 سالوں سے ایمپائرنگ کرنے والے آئی سی سی ٹیسٹ انٹرنیشنل ایمپائر ریاض الدین کا بھی کم و بیش یہی کہنا ہے کہ آئی سی سی کو فوری طور پر کوئی نہ کوئی اسٹینڈرڈ یا کرائی ٹیریا ترتیب دینا پڑے گا جس سے ایونٹ کی خوبصورتی اور لوگوں کی دلچسپی بھی برقرار رہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح پیسہ اور وقت دونوں کی بچت ہوگی۔

XS
SM
MD
LG