رسائی کے لنکس

logo-print

نسلی امتیاز کے خلاف کرکٹرز بھی میدان میں


(فائل فوٹو)

امریکہ میں سیاہ فام شخص کی پولیس تحویل میں ہلاکت اور ملک بھر میں ہنگاموں کے بعد کرکٹ کے حلقوں میں بھی نسلی امتیاز کے خلاف باز گشت سنائی دے رہی ہے۔

ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ڈیرن سیمی نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور تمام کرکٹ بورڈز مجھ جیسے کھلاڑیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو نہیں دیکھ رہے۔ کیا وہ مجھ جیسے لوگوں کے ساتھ ہونے والی معاشرتی نا انصافی پر نہیں بولیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ صرف امریکہ میں ہی نہیں ہو رہا بلکہ یہ سیاہ فام افراد کے ساتھ روزانہ ہوتا ہے۔

سیمی نے مزید کہا کہ اب یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں ہے۔ اس بار میں آپ کی طرف سے کچھ سننا چاہتا ہوں۔

یاد رہے کہ امریکہ میں 46 سالہ سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ پولیس کی تحویل میں تھا اور ایک اہلکار نے اس کی گردن پر اپنا گھٹنا رکھا تھا جو بعد ازاں دم توڑ گیا تھا۔

سیمی نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ اگر کرکٹ سے تعلق رکھنے والے افراد رنگت کی بنیاد پر ہونے والی ناانصافی کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے تو آپ بھی مسائل کا حصہ تصور کیے جائیں گے۔

انگلینڈ کے کرکٹ بورڈ نے اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں انگلش وکٹ کیپر جوز بٹلر کو سیاہ فام فاسٹ بالر جوفرا آرچر کو گلے لگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس تصویر پر انگلش کرکٹ بورڈ نے لکھا کہ ہم نسلی امتیاز کے خلاف کھڑے ہیں۔

اسی طرح ویسٹ انڈیز کے جارح مزاج بلے باز کرس گیل نے اپنے انسٹا گرام پوسٹ پر کہا کہ سیاہ فام افراد کی زندگی بھی اسی طرح اہم ہے جس طرح کسی دوسرے شخص کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ دنیا گھوم چکی ہیں اور سیام فام ہونے کی وجہ سے انہیں بھی نسلی امتیاز پر مبنی جملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم کرس گیل نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں کب اور کہاں نسلی امتیاز کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

کرس گیل کے مطابق نسلی امتیاز صرف فٹ بال میں ہی نہیں بلکہ یہ کرکٹ میں بھی ہے۔

یاد رہے کہ کرکٹ میں نسلی امتیاز نے اس وقت توجہ حاصل کی تھی جب انگلینڈ کے فاسٹ بالر جوفرا آرچر کو نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گئے میچ میں تماشائیوں کی جانب سے رنگت کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

جوفرا آرچر کے ساتھ تماشائی کے رویے پر نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں اور کرکٹ بورڈ نے انگلش کرکٹر سے معذرت کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG