رسائی کے لنکس

کرکٹ کا ایک ستارہ جو چمکنے سے پہلے ہی بجھ گیا


زبیر احمد

کوچ بخت محمد نے بتایا کہ زبیر احمد کو پریکٹس کے دوران پہلی گیند کان پر اور دوسری گیند گردن پر لگی جس سے وہ گر گیا۔

کرکٹ پاکستان کا قومی کھیل تو نہیں ہے لیکن پورے پاکستان کی دل کی دھڑکن ضرور ہے۔ پاکستا ن میں کرکٹ میچزکے دوران لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ میچ سٹیڈیم میں دیکھیں۔ پاکستانیوں کی اکثریت کرکٹ میچ ٹی وی پر دیکھتی ہے۔

اس سال جب پاکستانی قوم 14اگست کو یوم آزادی کا دن منا رہی تھی، ایک نوجوان کرکٹر زبیر احمد مردان میں سر ناظم کرکٹ اکیڈمی میں نیٹ پریکٹس کے دوران سر پربال لگنے سے ہلاک ہو گیا۔ اس 18 سالہ نوجوان کی المناک موت نے مقامی کرکٹروں کو دکھ میں مبتلہ کر دیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’ زبیر احمد کی المناک موت ہمیں اس بات کی یادہانی کراتی ہے کہ کھیل کے دوران کھلاڑیوں کو اپنی حفاظت کے پورے انتظامات کرنے چاہیں۔ انہیں کھیل کے دوران ہیلمٹ پہنے رہنا چاہے۔ہماری ہمدردیاں زبیر کے خاندان کے ساتھ ہیں‘

یہ پرجوش کرکٹر انٹرمیڈیٹ جماعت کا طالب علم تھا اور سر ناظم کرکٹ اکیڈمی میں کرکٹ کی پریکٹس کے لیے باقاعدگی سے آتا تھا۔ اکیڈمی کے کو چ بخت محمدکے مطابق وہ سخت محنت کر کے کرکٹ میں اپنا مقام بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ کوچ نے مزید بتایا کہ زبیر احمد کو پریکٹس کے دوران پہلی گیند کان پر اور دوسری گیند گردن پر لگی جس سے وہ گر گیا۔ اسے فوری طور پرکیٹلانگ کے اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردان کے اسپتال میں لے جانے کا مشورہ دیا۔​

زبیر احمد کی وفات مردان اسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں ہوئی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ٹویٹ سے لگتا ہےکہ زبیر نے ہیلمٹ نہیں پہن رکھا تھا جبکہ سر ناظم کرکٹ اکیڈمی کے کوچ کا کہنا تھا کہ اس نےکھیل کے دوران اپنی حفاظت کے پورے انتظامات کیے ہوئے تھے اور ہیلمٹ بھی پہنا ہوا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG