رسائی کے لنکس

logo-print

لاہور بینالے: منفرد تصویری نمائش 'سورج اور چاند کے درمیان' میں لوگوں کی دلچسپی


بینالے کے دوسرے ایڈیشن میں 40 ممالک کے فنکار شریک ہو رہے ہیں۔ اس ایڈیشن کا مقصد لاہور کی قدیم تہذیب اور ثقافت کو دنیا بھر کے سامنے اجاگر کرنا بتایا جا رہا ہے۔

دوسرے لاہور بینالے 2020 کا آغاز حضوری باغ لاہور میں ہوا۔ جس میں اپنی نوعیت کی منفرد تصویری نمائش 'سورج اور چاند کے درمیان' کو لوگوں نے بہت پسند کیا۔

لاہور بینالے فائونڈیشن کے مطابق لاہور بینالے (LB02) کے دوسرے ایڈیشن میں 40 ممالک کے فنکار شریک ہو رہے ہیں۔ جس کے بعد بینالے کی تقریب نیشنل کالج آف آرٹس اور الحمرا کلچرل کمپلیکس میں بھی شروع ہو گی۔ بینالے کے دوسرے ایڈیشن کا مقصد لاہور کی قدیم تہذیب اور ثقافت کو دنیا بھر کے سامنے اجاگر کرنا ہے۔

تقریب میں شریک شارجہ آرٹ فائونڈیشن کی ڈائریکٹر ہور القاسمی نے بتایا کہ جب انہیں لاہور بینالے کا دعوت نامہ ملا تو وہ بہت خوش ہوئیں کیونکہ یہ نہ صرف اُن کے لیے عرب ممالک بلکہ پوری دنیا کے ساتھ رابطے کا ایک ذریعہ ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ہور القاسمی نے کہا کہ اِس طرح کی نمائش اور پروگراموں سے ایک دوسرے کی ثقافت کو بہتر انداز میں جاننے کا موقع ملتا ہے۔

ان کے بقول اس شہر میں بہت خوبصورتی ہے۔ یہ لوگوں کے لیے جاننا ضروری ہے کہ پاکستان کتنا خوبصورت ہے کیونکہ مغربی دنیا سمجھتی ہے کہ پاکستان بہت زیادہ قدامت پسند اور خطرناک ملک ہے لیکن ایسا کچھ طٓبھی نہیں ہے۔ مجھے یہاں لوگ بہت اچھے لگے۔

لاہور بینالے میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے فنکاروں، ڈائریکٹرز اور شوبز سے وابستہ افراد کو ایک دوسرے کا کام سمجھنے کا موقع ملے گا۔

بینالے کے دوسرے ایڈیشن میں مختلف فن پاروں، آرٹ ورک، مجسمہ سازی، آئل پینٹنگ اور فلم انڈسٹری سے متعلق کام کی نمائش ہو گی۔

فیض احمد فیض کی صاحبزادی سلیمہ ہاشمی سمجھتی ہیں کہ لاہور بینالے کا دوسرا ایڈیشن صرف لاہور کی ثقافت کو پروان چڑھانے کی بات نہیں ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی نمائش ہے۔

ان کے بقول اس نمائش میں لاہور وہ جگہ بنتی ہے جس میں دنیا کے مختلف ملکوں سے آرٹسٹ آ کر ایک دوسرے سے ملتے ہیں، گفتگو کرتے ہیں اور اپنا کام ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔

بینالے میں فن کاروں کو ساتھ بیٹھنے کا موقع ملتا ہے: سلیمہ ہاشمی
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:34 0:00

ان کا کہنا تھا کہ آرٹسٹ اپنے اپنے فن کے ذریعے نہ صرف ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں بلکہ لاہور کے شہریوں سے بھی گفتگو کرتے ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان کے مختلف فنکاروں کو بھی موقع ملتا ہے کہ آپس میں مل بیٹھیں، اپنا کام بھی دکھائیں۔

نمائش میں اٹلی سے آئے فلم ڈائریکٹر کلائیوڈ کنیکٹڈ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آنا اور لاہور بینالے میں شرکت کرنا ایک بہت شاندار تجربہ ہے کیونکہ روم کی بہت سی چیزیں، ثقافت اور بہت سے عمارتیں یہاں سے ملتی ہیں۔

کلائیوڈ کنیکٹڈ سمجھتے ہیں کہ اِس طرح کی نمائش سے ایک دوسرے کی فلم انڈسٹری کو سمجھنا اور اُن میں سرمایہ کرنا بہت آسان ہو گا کیونکہ یہاں کا آرٹ بہت حیران کر دینے والا ہے۔

ثقافتی پروگرامات ہونا ضروری ہیں: امین گل جی
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:22 0:00

منتظمین کے مطابق لاہور بینالے، لاہور شہر میں ثقافتی اور تاریخی مقامات پر کثیر فنکارانہ منصوبے فراہم کرتا ہے۔

بینالے کے دوسرے ایڈیشن میں پاکستان، اس خطے اور دنیا بھر کے فنکاروں کے ذریعہ 20 سے زیادہ نئے کمیشن تشکیل دیے جائیں گے۔ جس سے پاکستان کی ثقافت اور سیاحت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

بینالے کی افتتاحی تقریب میں صدر ڈاکٹر عارف علوی خصوصی طور پر شریک ہوئے۔ تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ اِس طرح کے پروگرامات پاکستان کی معاشی ترقی اور بہتر تصور پیش کرنے کے لیے بہت ضروری ہیں۔

لاہور بینالے کی اختتامی تقریب 29 فروری 2020 کو شالا مارباغ لاہور میں ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG