رسائی کے لنکس

logo-print

کیا صدر ٹرمپ ثقافتی جنگ کو ہوا دے رہے ہیں؟


جمعے کے روز صدر نے مائونٹ رشمور نیشنل میموریل کا دورہ کیا۔

امریکہ میں جاری ثقافتی جنگ میں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا وزن ایک فریق کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔ اپنی حالیہ تقریروں اور ٹویٹر پیغامات میں، صدر ٹرمپ نے پولیس فورس میں نسل پرستی کے مسئلے کو حل کرنے اور کنفیڈریسی دور کی یاگاروں اور مجسموں کو ہٹانے کیلئے زور پکڑتی تحریک کو مسترد کر دیا ہے۔

حب الوطنی اور امریکی تاریخ کے روایتی بیانیے پر زور دیتے ہوئے، صدر ٹرمپ اپنے سیاسی حامیوں سے کلچر وار کی اپیل کر رہے ہیں، جبکہ اپنے مخالفین کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ملک کیلئے خطرناک قرار دے رہے ہیں۔

جمعے کے روز ماؤنٹ رش مور میں پہاڑوں پر کنندہ چار امریکی صدور کی شبیہوں کے پس منظر میں اور پھر اگلے روز وائٹ ہاؤس کے باغیچے میں ملک کے یوم آزادی پر تقریر کرتے ہوئے، صدر ٹرمپ نے انارکی پسندوں، مارکسی نظریات کے حامیوں اور بائیں بازو کے خیالات رکھنے والے شدت پسندوں پر مشتمل مشتعل ہجوموں سے لاحق اندرونی خطرات کے بارے میں خبردار کیا۔

انھوں نے کہا ''ایسے لوگ ہمارے ملک کے بانیوں کے مجسموں اور ہماری واجب التعظیم یادگاروں کو مٹانا چاہتے ہیں، اور ہمارے شہروں میں متشدد جرائم کا سلسلہ شروع کرنے کے خواہاں ہیں''۔

صدر ٹرمپ کے مطابق، بائیں بازو کے خیالات پر مشتمل ثقافتی انقلاب برپا کرنے والے چاہتے ہیں کہ امریکہ کی تاریخ اور اقدار بدل دی جائیں۔

رائے عامہ کے جائزوں میں سیاہ فام امریکیوں کی حامی بلیک لائیوز میٹر نامی تحریک کیلئے امریکیوں میں وسیع پیمانے پر حمایت پائی جاتی ہے، اور ساٹھ فیصد سفید فام امریکیوں سمیت دو تہائی امریکیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس تحریک کی حمایت کرتے ہیں۔

اس اختتام ہفتہ ڈیموکریٹ جماعت کے ممکنہ صدارتی امیدوار جو بائیڈن کی انتخابی مہم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایک منقسم سوچ رکھنے والے صدر کی وجہ سے امریکہ مشکل میں تھا اور وہ صدر کو اپنے سوا کسی کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

دوسری جانب، چند ریپبلکن قانون ساز صدر کے بیانات کی تعریف کر رہے ہیں۔

اتوار کے روز فاکس نیوز پر ایک انٹرویو کے دوران ریاست ٹینیسی کی سینیٹر مارشا بلیک برن کا کہنا تھا کہ اُن کے نزدیک یہ صدر ٹرمپ کی بہترین تقاریر میں سے تھیں۔

پیر کے روز صدر ٹرمپ نے ایک قدم مزید آگے بڑھاتے ہوئےامریکن نیسکار تنظیم کی جانب سے ریس ٹریک سےکنفیڈریٹ دور کا پرچم ہٹانے پر تنظیم کے واحد سیاہ فام ریس ڈرائیور ویلسز اور ریسنگ تنظیم پر سخت تنقید کی۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نیسکار کی جانب سے ریس ٹریک سے پرچم ہٹانے کے بعد، اس کی ٹیلی وژن ریٹنگ کم ترین درجے پر چلی گئی ہے۔

ریپبلکن جماعت کے ایک سینیٹر جو کہ صدر ٹرمپ کے زبردست حامی ہیں، انہوں نے بہرحال ریس کار اور سیاہ فام ڈرائیور کی حمایت کی۔

سینیٹر لنڈسے گراہم نے بھی فاکس نیوز ریڈیو پر بات کرتے ہوئے نیسکار کی جانب سے کنفیڈریٹ دور کا پرچم ہٹانے کی حمایت کی ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب امریکہ میں کرونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا سے ایک لاکھ تیس ہزار سے زیادہ امریکی مر چکے ہیں، کچھ ری پبلکن سینیٹر صدر ٹرمپ کی جانب سے اپنی انتخابی مہم کی توجہ کا مرکز ثقافتی جنگ پر مرکوز رکھنے پر کسی قدر برہم ہیںؐ۔

صدر ٹرمپ کے چند ناقدین ثقافتی جنگ کیلئے ان کی اپیلوں کو ملک کے سیاسی ایجنڈے کی تشکیل کیلئے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی ایک حکمت عملی خیال کرتے ہیں۔

ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر، جینیفر مارسیکا کے مطابق، صدر ٹرمپ کرونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا اور معیشت کی گرانی کی بجائے ثقافتی جنگ سے منسلک موضوعات پر بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

پیر کے روز گیلپ پول کے جاری کردہ رائے عامہ کے جائزے میں اکانوے فیصد ریپبلکن ووٹر صدر ٹرمپ کے حامی ہیں۔ لیکن کسی بھی جماعت سے تعلق نہ رکھنے والے آزاد ووٹروں میں صدر کی مقبولیت میں تینتیس فیصد کمی ہوئی ہے، جبکہ ڈیموکریٹ جماعت کے صرف دو فیصد ووٹروں نے صدر کے بارے میں مثبت رائے دی ہے۔

جائزہ مرتب کرنےوالے ایک محقق کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی مقبولیت کے حوالے سےری پبلکن اور ڈیموکریٹ ووٹروں میں صدر کے حق اور برخلاف اناسی پوائنٹ کا فرق، گیلپ سروے میں آج تک جماعتی وابستگی کی بنیادوں پر کسی بھی صدر کیلئے پسندیدگی اور ناپسندیدگی کے حوالے سےسب سے بڑا فرق ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG