رسائی کے لنکس

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ احتساب عدالت نے مناسب وقت دیئے بغیر فرد جرم عائد کی، فرد جرم کی کارروائی پر اعتراضات اور تیاری کے لیے وقت دیا جائے۔ درخواست میں کہا گیا ہےکہ نیب کی جانب سے عبوری ریفرنس داخل کرایا گیا ہے اس لیے حتمی ریفرنس داخل ہونے تک ٹرائل روکا جائے

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنے خلاف فرد جرم کی کارروائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا، مقدمے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست بھی جمع کرا دی گئی۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنی درخواست میں احتساب عدالت کے جج اور چیئرمین نیب کو فریق بنایا ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ احتساب عدالت نے مناسب وقت دیئے بغیر فرد جرم عائد کی، فرد جرم کی کارروائی پر اعتراضات اور تیاری کے لیے وقت دیا جائے۔

درخواست میں کہا گیا ہےکہ نیب کی جانب سے عبوری ریفرنس داخل کرایا گیا ہے اس لیے حتمی ریفرنس داخل ہونے تک ٹرائل روکا جائے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آئین کے آرٹیکل 264 سی کے تحت کسی بھی دائر ریفرنس کی نقول ملزم کو فراہم کیے جانے کے سات دن کے بعد فرد جرم عائد کی جا سکتی ہے، اور اگر جج اس مدت سے پہلے فردجرم عائد کرے تو اسے آرٹیکل 17 سی کے تحت اس کی وجوہات بیان کرنا پڑتی ہیں لیکن اسحاق ڈار کے معاملہ میں ایسا نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ نیب نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنسز دائر کیے ہیں اور اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا ریفرنس ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG