رسائی کے لنکس

logo-print

پُرتشدد انتہا پسندی کا الزام مذہبِ اسلام پر دینا غلط ہوگا: کیری


بقول اُن کے، مذہبِ اسلام ماننے والوں کو امن اور سلامتی کا درس دیتا ہے، جب کہ دہشت گردی اور پُر تشدد انتہا پسندی چند افراد کا قبیح ذاتی فعل ہے۔۔۔یہ بات سریحاً غلط ہوگی کہ دہشت گردی کا الزام اسلام کو دیا جائے

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ’پُرتشدد انتہا پسندی دنیا کے لیے سنگین خطرے کا باعث بنی ہوئی ہے، جس کا مقابلہ مل کر ہی کیا جا سکتا ہے‘۔

تاہم، اُنھوں نے واضح کیا کہ ’اسلام ایک پُرامن مذہب ہے، اور یہ بات سریحاً غلط ہوگی کہ دہشت گردی اور پُر تشدد انتہا پسندی کے لیے کسی طور اسلام کو قصور وار ٹھہرایا جائے‘۔

اُنھوں نے یہ بات ڈیووس میں ’ورلڈ اکانامک فورم‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

کیری نے کہا کہ ’مذہبِ اسلام ماننے والوں کو امن اور سلامتی کا درس دیتا ہے، جب کہ دہشت گردی یا پُر تشدد انتہا پسندی چند افراد کا قبیح ذاتی فعل ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ،‘یہ ذاتی عناصر ہی ہیں جو مذہب کا نام لے کر دنیا میں تباہی، قتل عام اور بربادی پھیلا رہے ہیں، جس کی مذہب ہرگز اجازت نہیں دیتا‘۔

اِس سلسلے میں، اُنھوں نے پاکستان و افغانستان میں طالبان اور شدت پسند کارروائیوں کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’داعش خلافت کی دعوے دار ہے اور ہلاکتوں کے عمل میں پیش پیش ہے۔ اسی طرح، بوکو حرام دہشت گردی اور قتلِ عام کا بازار گرم کیے ہوئے ہے۔ ساتھ ہی، متعدد دہشت گرد دھڑے دنیا کے کئی مقامات پر سرگرم ِعمل ہیں اور اُن کے پاس جدید اسلحہ، تربیت یافتہ لڑاکا فورس اور بے تحاشہ مالی وسائل ہیں، جن کا عالمی برادری مل کر ہی مقابلہ کر سکتی ہے‘۔

کیری نے اعلان کیا کہ 18 فروری کو صدر اوباما نے واشنگٹن میں ایک بین الاقوامی اجلاس بلایا ہے، جس میں انسداد دہشت گردی اور پُرتشدد انتہا پسندی کے ساتھ جاری لڑائی کو مزید مؤثر کرنے کی ضروری حکمتِ عملی پر غور ہوگا اور اُسے ترتیب دینے کے لیے سفارشات پیش ہوں گی اور ایک عالمی اعلامیے کا اعلان ہوگا۔

جان کیری نے کہا کہ امریکہ کی قیادت میں داعش کے خلاف لڑائی میں 60 ممالک کا بین الاقوامی اتحاد شریک ہے، جس کی تشکیل چھ ستمبر کو ہوئی اور جس میں بڑی تعداد اسلامی ملکوں کی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ داعش کے خلاف عراق اور شامل میں اب تک 2000سے زائد فضائی کارروائیاں عمل میں لائی گئی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ایبولہ، ایڈز اور دوسری مہلک بیماریوں کی طرح، داعش اور بوکو حرام کی پُرتشدد انتہا پسندی صرف متعلقہ ملکوں یا امریکہ کے لیے مضر نہیں، بلکہ عالمی برادری کے لیے شدید ترین خطرے کا باعث ہے۔

پاکستان کی مثال دیتے ہوئے، امریکی وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ دورہٴ پاکستان کا ذکر کیا، جس دوران اُنھوں نے اعلیٰ سول اور فوجی قیادت سے ملاقاتیں اور تفصیلی بات چیت کی۔

اُنھوں نے بتایا کہ ناسازگار موسم کے باعث وہ پشاور کے پبلک آرمی بوائز اسکول کا دورہ تو نہیں کرپائے۔ تاہم، حکام نے 16 دسمبر کی اس المناک دہشت گردی سے متعلق ایک تصویری جھلک پر مبنی رپورٹ کا بندوبست کیا، جس میں ہونہار اور پُراعتماد بچوں کو اسکول آتے، کلاس رومز میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے انہماک کے ساتھ دلچسپی لیتے ہوئے دکھایا گیا، کہ یکایک دہشت گرد کلاسوں میں داخل ہوتے ہیں اور بے گناہ، پُراعتماد، پھول جیسے ننھے منھے بچوں پر گولیاں چلا کر اُن کا قتل عام کیا۔ یہ تمام واقع دل دہلانے والا معاملہ ہے۔

جان کیری نے اجلاس کو بتایا کہ اس دہشت گردی کے سلسلے میں، پاکستانی انٹیلی جنس اہل کاروں نے انتہا پسندوں کا ایک ریڈیو پیغام ’انٹرسیپٹ‘ کیا جس میں یہ درندے، اپنے سرغنوں سے ہدایات لیتے ہوئے، کہتے ہیں کہ ’ہم نے اپنا کام مکمل کیا۔ اسکول کےتمام بچوں کو موت کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ اب ہمارے لیے مزید کیا حکم ہے؟ اس پر، ہدایات صادر کرنے والے اُنھیں کہتے ہیں کہ،’آپ ڈٹے رہو، فوجی آنے والے ہیں، اُنھیں بھی ایک ایک کرکے ذبح کردو‘۔

اپنے خطاب میں، اُنھوں نے نوبیل انعام یافتہ، ملالہ یوسف زئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملالہ کی یہ دلی خواہش ہے کہ خیبر پختون خواہ اور پاکستان کا ہر ایک لڑکا اور لڑکی تعلیم حاصل کرے۔

افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ تعلیم کی حصول میں بچیوں کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان سے پیرس تک ہونے والی دہشت گردی یہ بات واضح کرتی ہے کہ انسداد دہشت گردی عالمی برادری کی ’اولین ترجیح ہونی چاہیئے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق، بوکو حرام، رفتہ رفتہ، کمسن بچوں کو خودکش بم حملوں میں جھونک رہا ہے، جو ایک قبیح ترین عمل ہے، اور اِن عناصر کی ذہنی کیفیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

سعودی امام کے فتوے کا حوالہ دیتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی ملکوں کے عالمِ دین اور امام معتدل مذہبی خیالات کی تلقین کریں اور پُر تشدد انہا پسندی اور دہشت گردی کی سخت ترین الفاظ میں کھل کر مذمت کریں۔

اپنی تقریر کے آغاز میں، جان کیری نے سعودی فرمان روا شاہ عبداللہ کی موت پر دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے، اُنھیں فراخدلانہ خراج عقیدت پیش کیا۔ اُنھوں نے خصوصی طور پر مرحوم سعودی حکمراں کو ایک ’دلیر، فہم و فراست کا مالک، بین الامذاہب کے مابین مکالمے کے یکتا حامی اور انسداد دہشت گردی کے کام کی بڑھ چڑھ کر حمایت کرنے والا ایک جری شخص قرار دیا‘، جنھیں، بقول اُن کے، ’دنیا ہمیشہ یاد رکھے گی‘۔

XS
SM
MD
LG