رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کشمیر پر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے: ٹرمپ


صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اچھے ہیں اور ہم پہلے کبھی پاکستان کے اتنے قریب نہیں تھے جتنے اب ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کے موقع پر ایک مرتبہ پھر پیش کش کی ہے کہ وہ کشمیر کے معاملے پر ثالث کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے یہ بات منگل کو ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات سے قبل اپنے ابتدائی کلمات میں کہی جس کے دوران انہوں نے چند سوالات کے جواب بھی دیے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے دوران دونوں اطراف کے وفود بھی شامل تھے۔

دونوں کی ملاقات کے آغاز سے قبل ٹیلی ویژن چینلز نے ان کی مختصر گفتگو اور سوالات کے جواب براہ راست نشر کیے۔

ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اچھے ہیں اور ہم پہلے کبھی پاکستان کے اتنے قریب نہیں تھے جتنے اب ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے کلمات میں کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، اور یہ کہ پاکستان امن و استحکام کے لیے کردار ادا کرتا رہے گا۔

انھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ سے درباہ ملاقات کر کے خوشی ہوئی۔

ٹرمپ سے سوال کیا گیا آیا آئندہ ماہ وہ بھارت کے علاوہ پاکستان کا بھی دورہ کریں گے جس پر اُن کا کہنا تھا کہ دورہ طے ہو چکا ہے، ایسا کرنا اب ممکن نہیں ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کے مابین بہت ہی اچھے تعلقات رہے ہیں۔ بقول ان کے، ’’ہمارے اچھےتعلقات ہیں۔ میں یہ کہوں گا کہ اس سے قبل شاید پاکستان کے ساتھ کبھی ہمارے اتنے قریبی تعلقات نہیں رہے، جتنے آج ہیں‘‘۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستانی وزیر اعظم ان کے بہت ہی اچھے دوست ہیں، جن کے ساتھ ملنے کا ایک اور موقع ملا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’’ہم بہت سی باتوں پر گفتگو کریں گے، جن میں تجارت بھی شامل ہے؛ چونکہ تجارت بہت ہی اہمیت کی حامل ہے۔ اور اب تجارت میں کافی اضافہ ہو چکا ہے۔ چند سرحدوں پر تو ہم مل کر کام کر رہے ہیں؛ کشمیر پر بات کرتے رہتے ہیں، اور اس پر کہ پاکستان و بھارت کے درمیان کیا ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں، اگر ہم کچھ کر سکتے ہیں تو ہم یقینی طور پر کریں گے۔ ہم نے اس معاملے پر نظر رکھی ہوئی ہے جسے ہم بہت ہی قریب سے دیکھ رہے ہیں‘‘۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ’’بہت سے معاملات ہیں جن پر ہم بات کرنا چاہیں گے۔ اہم معاملہ افغانستان کا ہے، چونکہ امریکہ اور پاکستان کو اس بارے میں تشویش لاحق ہے۔ اور خوش قسمتی سے ہم ایک ہی پیج پر ہیں۔ دونوں افغانستان میں قیام امن کے خواہاں ہیں؛ جب کہ دونوں چاہتے ہیں کہ طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے ذریعے افغانستان میں پرامن عبوری دور قائم ہو‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’پھر بھارت کا معاملہ بھی ہے۔ ہم پاکستانیوں کے لیے یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اور ہم ہمیشہ یہی توقع رکھتے ہیں کہ امریکہ مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا، چونکہ کوئی اور ملک ایسا نہیں کر سکتا۔"

'صدر ٹرمپ پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں'

دریں اثنا پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کے دوران پاکستان کا دورہ کرنے کی یقینی دہانی کرائی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکہ کے صدر ٹرمپ سے دوستانہ ماحول میں تفصیلی ملاقات ہوئی اور وہ بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیر اعظم نے صدر ٹرمپ سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے معاملے پر پاکستان کی حمایت طلب کی ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ کے مطابق صدر ٹرمپ کے ساتھ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورتِ حال، افغان امن عمل پر بھی مشاورت ہوئی ہے۔

وزیر خارجہ قریشی کے بقول اس کے ساتھ وزیر اعظم نے پاکستان سے متعلق امریکی کی 'ٹریول ایڈوائزری' کو بہتر کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔

شاہ محمود قریشی کے بقول دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں یہ فیصلہ ہو ا کہ امریکہ کا ایک تجارتی وفد پاکستان کا دورہ کرے گا۔

پاکستان کے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کے دوارن وزیر خارجہ قریشی وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر ٹرمپ ثالثی کی پیش کش پہلے بھی کر چکے ہین لیکن ان کے بقول بھارت اسے مسترد کرتا رہا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ معاملات میں ہمیشہ تیسرے فریق کی مداخلت کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ ان کے بقول نئی دہلی کے یکطرفہ اقدامات کے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG