رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: پاکستان کی فوج کے لیے 'ملٹری ٹریننگ پروگرام' کی بحالی کا فیصلہ


صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹر نیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروگرام (آئی ایم ای ٹی) میں پاکستانی فوج کے افسران کی شمولیت پر گزشتہ برس اگست میں پابندی عائد کی تھی۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کی حکومت نے اپنے فوجی تربیتی اور تعلیمی پروگرام میں پاکستان فوج کے افسران کی شمولیت کی بحالی کی منظوری دے دی ہے۔

اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹر نیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروگرام (آئی ایم ای ٹی) میں پاکستانی فوج کے افسران کی شمولیت پر گزشتہ برس اگست میں پابندی عائد کی تھی۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے ایک ای میل میں کہا ہے کہ پاکستان کے لیے امریکی فوجی تربیتی پروگرام میں شمولیت کی بحالی کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعاون کا فروغ اور مشترکہ ترجیحات کو ایک موقع فراہم کرنا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ہم ٹھوس اقدامات کے ذریعے ایسی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں جس سے خطے کی سیکیورٹی اور استحکام کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔

امریکی فوجی تربیتی پروگرام میں پاکستان کی شمولیت کی بحالی کا فیصلہ ایسے موقع پر سامنے آیا ہے کہ جب رواں سال امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے درمیان دو ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ پاکستان نے فوجی پروگرام میں شرکت کے لیے افسران کا انتخاب کرنا شروع کر دیا ہے جنہیں امریکہ روانہ کیا جائے گا۔

پاکستان کے لیے فوجی تربیتی پروگرام میں شرکت کی بحالی کانگریس کی منظوری سے مشروط ہے۔

امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان کی متعلقہ کمیٹیوں کے ری پبلکن اور ڈیموکریٹک ارکان نے فوری طور پر امریکی حکومت کے اس فیصلے پر بیان نہیں دیا ہے۔

آئی ایم ای ٹی پروگرام کے تحت امریکہ کے فوجی تعلیمی اداروں، آرمی وار کالج اور نیوی وار کالج میں غیر ملکی فوجی افسران تربیت حاصل کرتے ہیں۔

سینیٹ کی منظوری کے بعد پاکستان فوج کے افسران امریکہ میں فوجی تربیتی پروگرام کا حصہ بن سکیں گے۔

یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست 2018 میں پاکستان کی سیکیورٹی امداد روکنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد پاکستان فوج کے افسران پر مشتمل دستہ امریکی فوجی تربیتی پروگرام میں شرکت نہیں کر سکا تھا۔

غیر ملکی فوجی دستوں کی امریکہ کے فوجی تربیتی اداروں میں شرکت امریکی فوج کی روایت ہے۔ پاکستان کے فوجی دستے اس سے قبل بھی یہاں تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ کے اسلام آباد میں نمائندے جلیل اختر کے مطابق فوجی تربیتی پروگرام کی بحالی کے اعلان پر پاکستان کے دفتر خارجہ کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

اس حوالے سے تجزیہ کار طلعت مسعود کا کہنا تھا کہ فوجی تربیتی پروگرام بحال کرنا امریکہ کے طرف سے اس بات کا عندیہ ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا چاہتا ہے۔ جو ماضی میں میں تلخیاں تھیں وہ بہت حد تک کم ہوئی ہیں۔

ان کے بقول پاکستان نے جس قسم کا کردار افغانستان میں ادا کیا ہے اور جو تعاون امریکہ کو فراہم کیا اس کی وجہ سے امریکہ کی انتظامیہ اور مقتدر حلقوں میں کی سوچ میں تبدیلی آ رہی ہے اسی وجہ سے فوجی تربیتی پروگرام بحال ہوا۔

طلعت مسعود نے کہا کہ پاکستان اور چین کی گہرے اسٹریٹجک تعلقات کے باوجود اسلام آباد اس بات کا خواہاں تھا کہ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات بہتر کیے جائیں۔ امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے کہ پاکستان کا پوری طرح انحصار چین پر ہو۔ تعلقات کو بہتر کرنے میں واشنگٹن کے مفاد میں ہے۔

ادھر پاکستان کی فوج کے ریٹائرڈ بریگیڈئر سید نذیر نے کہا ہے کہ اگرچہ پاکستان اور امریکہ کے سفارتی تعلقات میں اتار چڑھاؤ دیکھا جاتا رہا ہے لیکن ملٹری ٹو ملٹری تعلقات نسبتاً بہتر رہے ہیں۔

ان کےبقول امریکہ کو اب بھی پاکستان سے یہ توقع ہے کہ وہ افغان امن عمل میں مزید کردار ادا کرے۔ اس خطے سے فوجی انخلا کے لیے کے امریکہ پاکستان سے تعاون کا خواہاں ہے۔

پاکستان کی فوج کے ریٹائرڈ لیفٹینٹ جنرل امجد شعیب کا کہنا ہےکہ اس خطے میں امریکہ کے مفادات وابستہ ہیں وہ پاکستان کے ساتھ ملٹری ٹو ملٹری تعلقات، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے میں بھی تعاون کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی طالبان اور امریکہ کے مذاکرات جاری ہیں اور افغانستان میں ان کی فورسز بھی موجود ہیں اس لیے پاکستان کے فوجی اداروں کے ساتھ تعلقات کو استوار رکھنا امریکہ کے مفاد میں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG