رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی حکومت کا کشمیر میں حالات معمول پر آنے کا دعویٰ


بھارتی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے الزام عائد کیا کہ پاکستان جموں و کشمیر کے حالات خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لہذٰا، وہاں سیکورٹی سخت رکھی گئی ہے۔

بھارت کے وزیرِ داخلہ امت شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالات معمول پر آ گئے ہیں اور وادی کے کسی پولیس اسٹیشن کی حدود میں کرفیو بھی نافذ نہیں ہے۔

بدھ کو بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا میں کشمیر کی تازہ ترین صورتِ حال پر رپورٹ پیش کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی رابطوں کی مکمل بحالی کا اختیار مقامی انتظامیہ کو دیا گیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ سروس کی بحالی قومی مفاد سے بالاتر نہیں ہے۔

امت شاہ نے الزام عائد کیا کہ پاکستان جموں و کشمیر میں مختلف کارروائیوں کی سرپرستی کر رہا ہے۔ لہذٰا، سیکورٹی صورتِ حال کے پیشِ نظر جب مقامی انتظامیہ سمجھے گی کہ مواصلاتی رابطے بحال کر دیے جائیں تو اس پر عمل درآمد ہو جائے گا۔

بھارتی وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر میں ادویات کی بھی قلت نہیں ہے۔ شہریوں کو صحتِ عامہ کی سہولیات مل رہی ہیں جب کہ ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے موبائل وینز بھی وادی میں موجود ہیں۔

بھارتی پارلیمنٹ میں کشمیر کی صورتِ حال پر کانگریس نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
بھارتی پارلیمنٹ میں کشمیر کی صورتِ حال پر کانگریس نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے مختلف رہنماؤں کی جانب سے جموں و کشمیر کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ کانگریس رہنماؤں کا کہنا تھا کہ تین ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی کشمیر کی صورتِ حال معمول پر نہیں آ سکی۔

البتہ، بھارت کے وزیر داخلہ نے ان تمام خدشات کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کے حالات اب معمول پر آ چکے ہیں۔

بھارت نے پانچ اگست کو آرٹیکل 370 ختم کرتے ہوئے کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کر دی تھی۔ اس اقدام سے قبل بھارت نے مزید فوجی دستے کشمیر میں تعینات کر دیے تھے۔

بھارت کی حکومت نے جموں و کشمیر میں نقل و حمل پر پابندیوں کے علاوہ مواصلاتی رابطے بھی منقطع کر دیے تھے اور مزاحمتی تنظیموں کے اہم رہنماؤں کو بھی نظربند کر دیا گیا تھا۔

پاکستان نے ان بھارتی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے تھے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا تھا کہ بھارت نے اس اقدام کے ذریعے 80 لاکھ سے زائد کشمیری شہریوں کو گھروں میں محصور کر دیا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تنازع کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کو بھارت نے مسترد کر دیا تھا۔

بھارت کا یہ مؤقف رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت شملہ اور لاہور معاہدوں کے تحت دو طرفہ امور باہمی مذاکرات سے ہی طے کرنے کے پابند ہیں۔ لہذا، کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی ضرورت نہیں۔

بھارت کی اپوزیشن جماعتوں خصوصاً کانگریس نے بھی حکومت کے اس اقدام کی مخالفت کی تھی۔ کانگریس نے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ کشمیر کی اصل صورتِ حال سے پارلیمان کو آگاہ کرے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG