رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ کا سینیٹ میں مواخذے کی کارروائی سے قبل نئی قانونی ٹیم کا اعلان


فائل فوٹو

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینیٹ میں اپنے مواخذے کی کارروائی شروع ہونے سے چند روز قبل وکلا کی نئی ٹیم کا اعلان کر دیا ہے۔

وکیلِ صفائی ڈیوڈ شان اور بروس کاسٹر نو فروری کو سینیٹ میں سابق صدر کا دفاع کریں گے۔

اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کے وکلا کی ٹیم میں شامل ریاست ساؤتھ کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے وکیل بچ باورز اور ڈیبرا باربیئر نے خود کو صدر ٹرمپ کی قانونی ٹیم سے الگ کر لیا تھا۔

سابق صدر ٹرمپ پر چھ جنوری کو کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل پر ہونے والے حملے کے لیے اپنے حامیوں کو اکسانے کا الزام ہے۔ ایوانِ نمائندگان نے 13 جنوری کو اس الزام پر ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ کیا تھا اور اب اُنہیں سینیٹ میں مجرم ٹھہرانے کی کارروائی کا سامنا ہے۔

ٹرمپ کے آفس نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ سابق صدر کی قانونی ٹیم میں شامل ہونے والے دونوں وکلا نے سینیٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دفاع کی ذمہ داری کا خیرمقدم کیا ہے۔

ٹرمپ آفس کے مطابق ڈیوڈ شان پہلے بھی سابق صدر اور ان کے مشیروں کی معاونت کر رہے تھے۔

ٹرمپ کی قانونی ٹیم میں شامل وکیل بروس کاسٹر نے کہا ہے کہ امریکہ کی تاریخ میں جس طرح اب آئین کی طاقت کو آزمایا جائے گا اس طرح پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ہمارا قانون مضبوط ہے اور لچکدار ہے۔ ان کے بقول یہ ایسی دستاویز ہے جو زمانوں کے لیے تحریر کی گئی ہے۔ اور یہ ایک مرتبہ پھر جماعتی طرفداری کو شکست دے گا۔

سابق صدر ٹرمپ کو مجرم ٹھہرانے کے لیے سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ اس وقت ایوان میں دونوں جماعتوں کے 50، 50 ارکان ہیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی کو صدر ٹرمپ کے مواخذے کے لیے ری پبلکن پارٹی کے 17 ارکان کی حمایت درکار ہو گی۔ تاہم بیشتر ری پبلکن سینیٹرز ٹرمپ کے صدارتی دفتر میں نہ ہونے کے بعد مواخذے کی کارروائی شروع کرنے پر تحفظات رکھتے ہیں۔ اور ان میں سے کئی ایک کا کہنا ہے کہ چونکہ صدر اب اپنے دفتر میں موجود نہیں ہے اس لیے ان کا مواخذہ غیر آئینی ہے۔

اگر صدر ٹرمپ سینیٹ میں مجرم قرار پاتے ہیں تو وہ دوبارہ کوئی وفاقی عہدہ نہیں سنبھال سکیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو 2019 میں بھی مواخذے کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ایوانِ نمائندگان نے اس وقت کے صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی منظوری دی تھی۔

ٹرمپ پر الزام تھا کہ انہوں نے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے اور کانگریس کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم سینیٹ نے فروری 2020 میں ٹرمپ کو اس الزام سے بری کر دیا تھا۔

اس بار سابق صدر کو سینیٹ میں اپنے حامیوں کو بغاوت پر اکسانے کے الزام کا سامنا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG