رسائی کے لنکس

logo-print

سینیٹ میں سابق صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تیاریاں


سپیکر ننسی پیلوسی، دونلڈ ٹرمپ کے معاخذے کی دستاویز پر دستخط کر رہی ہیں۔ 13 جنوری 2021

امریکی ایوانِ نمائندگان کی طرف سے آج پیر کے روز ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف آرٹیکل آف امپیچمنٹ سینیٹ میں داخل کیا جائے گا۔ تاہم ریپبلکن سینیٹرز کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ وہ سابق صدر کے اس مواخذے کی کارروائی کی مخالفت کرتے ہیں، چنانچہ یہ امکانات کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں کہ امریکی ایوانِ کانگریس سابق صدر ٹرمپ کے خلاف کیپیٹل ہل کے محاصرے اور اس پر ہلہ بولنے پر اکسانے کے الزامات کے تحت کارروائی کر سکے گی۔

سینیٹ میں مواخذے کی کارروائی 8 فروری سے شروع ہونے والے ہفتے کے دورن متوقع ہے۔ یہ مختصر تاخیر ا س لیے کی جا رہی ہے تاکہ وہ ڈیموکریٹ اور ری پبلیکن قانون ساز، جو ٹرمپ کے خلاف پراسیکیوٹرز اور ان کے دفاع کے لیے پیش ہونے پر راضی ہوئے ہیں، انہیں تیاری کے لیے وقت مل سکے۔

کیونکہ سینیٹ کو کچھ اضافی وقت ان نامزدگیوں کی توثیق کے لیے درکار ہے جنہیں صدر جو بائیڈن نے مقرر کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو سزا دینے کے لیے سینیٹ کی دو تہائی اکثریت درکار ہو گی۔ جب کہ اس وقت سینیٹ میں ڈیموکریٹس اور ری پبلیکنز کی پچاس پچاس نشستیں ہیں۔ مواخذے کے لیے ضروری ہے کہ تمام ڈیموکریٹ سینیٹرز اور 17 ری پبلیکن سینیٹرز اس کے حق میں ووٹ دیں۔

اگر سینیٹ سے مواخذہ منظور ہو جاتا ہے تو پھر الگ سے سادہ اکثریت کے ذریعے ٹرمپ کو مستقبل میں کوئی بھی وفاقی عہدہ حاصل کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔

سابق صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس سے روانہ ہو رہے ہیں۔ 20 جنوری 2021
سابق صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس سے روانہ ہو رہے ہیں۔ 20 جنوری 2021

ایوان کے ڈیموکریٹس بغاوت پر اکسانے کے واحد الزام پر مواخذے کی پیروی کریں گے۔ انہیں امید ہے کہ ریپبلکنز کی جانب سے کیپیٹل ہل پر چھ جنوری کے حملے کی سخت مذمت صدر ٹرمپ کے خلاف کارروائی میں مدد کرے گی اور بعد میں ایک الگ ووٹنگ کے ذریعے ٹرمپ کو دوبارہ کوئی عہدہ حاصل کرنے سے روکا جا سکے گا۔

تاہم کیپیٹل ہل پر حملے کے بعد سے اب ریپبلکن پارٹی کے ارکان میں زیادہ دلچسپی دکھائی نہیں دیتی اور جیوررز کا کردار ادا کرنے والے ریپبلکن سینیٹرز اب صدر ٹرمپ کا دفاع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے اس سے قبل کے مواخذے کی سماعت کے دوران کیا تھا۔

اب جب کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف دوسرا ٹرائل قریب آ رہا ہے، ایک امریکی عہدے دار نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے وفاقی عہدے دار اراکین کانگریس کے خلاف متعدد دھمکیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جن میں قانون سازوں کو ہلاک کرنے یا ان پر امریکی کیپیٹل سے باہر حملے کے بارے میں متعدد آن لائن دھمکیاں شامل ہیں۔

عہدے دار نے اتوار کے روز کہا کہ دھمکیوں اور ان خدشات کے باعث کہ مسلح مظاہرین کیپیٹل ہل پر ہلہ بولنے کے لئے واپس آ سکتے ہیں، امریکی کیپیٹل کی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں کو نیشنل گارڈ کے ہزاروں فوجیوں کو واشنگٹن میں بر قرار رکھنا پڑا ہے، جب کہ سینیٹ سابق صدر ٹرمپ کے خلاف ٹرائل کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG