رسائی کے لنکس

logo-print

حلب کے محصور علاقوں میں خوراک کی فراہمی میں مدد دی جائے: مستورا


شام کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے روس پر زور دیا ہے کہ حلب اور اُس کے قرب و جوار کے علاقوں میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عالمی ادارے کو معاملات سنبھالنے کی اجازت دی جائے، سولینز کو شام کے کشیدگی کے شکار شہر سے نکلنے کی اجازت دی جائے۔
جمعے کے روز سوٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اسٹیفن ڈی مستورا نے ’’اصولی بنیاد پر‘‘ ایسے علاقوٕں کو خالی کر دیا جائے جہاں انسانی ہمدری کے کام کی ضرورت ہے؛ اور بتایا کہ حلب ایک نازک موڑ پر پہنچا ہوا ہے، جہاں شہر میں پھنسے ہوئے 300000 افراد کے لیے درکار خوراک تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔

اسٹیفن ڈی مستورا کے الفاظ میں ’’حلب کی آبادی کے لیے مشکل وقت آچکا ہے۔ اور مشرقی حلب میں دستیاب اشیا بمشکل تین ہفتوں کی ضرورت پوری کرسکتی ہے۔ یہ پہلا نکتہ ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ لوگوں تک رسد پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ لڑائی میں وقفہ کیا جائے۔ اس لیے، میں اسے اسی حوالے سے بیان کروں گا۔ اشیا کی بے حد کمی ہے اور وقت ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے۔ میرے خیال میں یہی ایک وجہ ہے کہ روس کو چاہیئے کہ معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرے‘‘۔
اب، اُنہی کی طرف سے بیان کردہ بات کے مطابق، معاملہ انسانی ہمدردی کا ہے۔ اگر یہ کامیاب ہوتا ہے تو اس میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ ہاں، اگر یہ ہو سکتا ہے اور اس میں کامیابی ہو تو اس میں بہتری کی ضرورت ہوگی۔ اور میرے خیال میں بہتری کے لیے روسیوں کو بہت کچھ کرنا ہوگا۔ اس صورت میں، ہمیں پورے معاملے کو درست زاویے سے دیکھنا ہوگا، بہتری کا دارومدار اسی بات پر ہے‘‘۔

ڈی مستورا نے اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے کے سربراہ، اسٹیفن او برائن کی جانب بھی دھیان مبذول کرایا، جنھوں نے کہا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 48 گھنٹوں کے لیے لڑائی روک دی جائے، تاکہ ہنگامی طور پر شہر میں خوراک اور دیگر رسد پہنچائی جاسکے، 17 جولائی سے حکومت کی حامی افواج نے کمک کو کاٹ کر رکھ دیا ہے۔

ڈی مستورا ایک روز قبل سامنے آنے والے اوبرائن کے بیان کی طرح روسی تجویز پر رد عمل ظاہر کر رہے تھے، جس میں تجویز دی گئی تھی کہ مشرقی حلب کے باغیوں کے زیر کنٹرول چار علاقوں کو کھول دیا جائے، تاکہ شہری اور جنگجو باہر نکل سکیں، جو ہتھیار ڈالنا چاہتے ہیں۔ ڈی مستورا نے اس بات پر سوال اٹھایا کہ لڑائی جاری رہنے کی صورت میں یہ کس طرح ہوسکتا ہے۔

بقول اُن کے ’’آپ محصور علاقے سے لوگوں کو کس طرح نکال سکتے ہیں، جب ہزاروں لوگ پھنسے ہوئے ہوں، گولیاں بم باری اور جھڑپیں جاری ہوں‘‘۔

ڈی مستورا نے بین الاقوامی ریڈ کراس کے بیان کو سراہا جس میں روسی تجویز کا خیرمقدم کیا گیا تھا۔ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ ایسے علاقے میں جانے کے لیے تمام فریق کو اجازت ہونی چاہیئے۔

روسی وزیر دفاع سرگئی شوگو نے جمعرات کو بیرون حلب کے علاقے میں بڑے پیمانے پر انسانی ہمدردی کی کارروائی کی ضرورت ہے، تاکہ اُن شہریوں کی مدد کی جاسکے جنھیں دہشت گردوں نے یرغمال بنا رکھا ہے، ساتھ ہی ایسے لڑاکوں کی مدد ہو جو ہتھیار ڈالنا چاہتے ہیں‘‘۔

ڈی مستورا نے کہا کہ وہ روسی اہل کاروں کی وضاحت کے منتظر ہیں کہ یہ منصوبہ کس طرح سے آگے بڑھ سکتا ہے، ساتھ ہی اُنھوں نے اقوام متحدہ کے اِس مؤقف کا اعادہ کیا کہ کسی شہری کو زبردستی حلب سے نہیں نکالا جانا چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG