ایران: قاسم سلیمانی کے جنازے میں بھگدڑ، 56 افراد ہلاک
ایران: قاسم سلیمانی کے جنازے میں بھگدڑ، 56 افراد ہلاک
قاسم سلیمانی کے جنازے کے مناظر (فائل فوٹو)
ویب ڈیسک —
نیوز ایجنسی رائیٹرز کا کہنا ہے کہ ایران میں جنرل قاسم سلیمانی کے جنازے میں بھگدڑ مچنے سے کم سے کم 56 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قاسم سلیمانی کے آبائی شہر کرمان میں بھگدڑ کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ان کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک تھے۔ بھگدڑ میں 48 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کی ایمرجنسی میڈیکل سروس کے سربراہ پیر حسین نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھگدڑ کے نتیجے میں ہمارے کئی شہری ہلاک ہوئے ہیں اور متعدد زخمی ہیں۔
سرکاری ٹی وی نے اپنی رپورٹس میں 56 ہلاکتوں کا ذکر کیا ہے جب کہ 45 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
تہران میں جنرل قاسم سلیمانی کی نمازِ جنازہ ادا
1/8ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ایرانی صدر حسن روحانی قاسم سلیمان کی میت کے قریب کھڑے ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای نے دعا کرائی۔ قاسم سلیمان کی میت اتوار کو عراق سے ایران لائی گئی تھی۔ ان کے جسد خاکی کے ساتھ ہی ایرانی ملیشیا کے کمانڈر ابو مہدی کی میت بھی موجود تھی۔
مزیدShow less
2/8جنرل قاسم سلیمانی ایران کی قدس فورس کے سربراہ تھے۔ حملے میں ان کے ساتھ ساتھ ایرانی ملیشیا کے کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی مارے گئے۔ ان پر عراقی دارالحکومت بغداد میں جمعہ تین جنوری کو امریکہ نے فضائی حملہ کیا تھا۔
مزیدShow less
3/8قاسم سلیمانی کے جلوس جنازہ میں عام لوگوں اور خواتین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر لوگوں نے قاسم سلیمانی کی تصاویر ہاتھوں میں اٹھائی ہوئی تھی۔
مزیدShow less
4/8جلوس جنازہ میں شرکا کی تعداد کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا جا رہا تاہم ہزاروں افراد نے اظہار عقیدت کے طور پر قاسم سلیمانی کے جلوس جنازہ میں شرکت کی۔
مزیدShow less
5/8جلوس جنازہ میں شامل افراد نے قاسم سلیمانی سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔
مزیدShow less
6/8قاسم سلیمانی کے جلوس جنازہ میں بیشتر نوجوانوں نے اپنے سروں پر سرخ پٹیاں بھی باندھی ہوئی تھیں اور وہ جوشیلے انداز میں امریکہ کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔
مزیدShow less
7/8ایرانی جنرل کے جنازے کے جلوس میں شریک افراد ماتم بھی کر رہے تھے جب کہ اس دوران اسپیکرز پر بلند آواز میں مختلف ترانے بجائے جا رہے تھے۔
مزیدShow less
8/8عراق میں امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے جنرل قاسم سلیمانی اور دیگر فوجی حکام کی میتیں ایران کے قومی پرچم میں لپیٹی گئی تھیں۔
مزیدShow less
Previous slide
Next slide
جنرل قاسم سلیمانی کون تھے؟
جنرل سلیمانی پاسدارانِ انقلاب کی 'قدس فورس' (سپاہِ قدس) کے سربراہ تھے۔ قدس فورس غیر روایتی طرزِ جنگ، انٹیلی جنس آپریشنز اور بیرونِ ملک کارروائیوں کی نگران فورس ہے اور اس کے سربراہ کی حیثیت سے جنرل سلیمانی ایران کے اندر اور مشرقِ وسطیٰ میں سرگرم ایران نواز جماعتوں اور مسلح گروہوں میں بہت اثر و رسوخ رکھتے تھے۔
گزشتہ ہفتے تین جنوری کو امریکہ نے عراق میں ایک ڈرون حملے میں انہیں ہلاک کر دیا تھا۔
امریکہ نے جمعے کو علی الصبح بغداد ایئر پورٹ کے قریب اس وقت میزائل داغا تھا جب جنرل سلیمانی ایران نواز عراقی ملیشیا کتائب حزب اللہ کے ڈپٹی چیف ابو مہدی المھندس کے ہمراہ کار میں سوار تھے۔
جنرل قاسم کی ہلاکت پر ایران نے شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہوا ہے۔
خیال رہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کی نمازِ جنازہ پیر کو تہران میں ادا کی گئی تھی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔ قاسم سلیمانی کو آج ان کے آبائی شہر کرمان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔