رسائی کے لنکس

logo-print

ایرانی پارلیمنٹ نے امریکی فوج کو 'دہشت گرد' قرار دے دیا


(فائل فوٹو)

ایران کی پارلیمنٹ نے ایک بل منظور کیا ہے جس میں امریکی فوج کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔

مذکورہ بل میں امریکہ کی مسلح افواج، امریکی محکمۂ دفاع 'پینٹاگون' کے ملازمین اور اس سے وابستہ دیگر اداروں اور ایجنٹس کو بھی دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔

بل میں ان کمانڈروں کو بھی دہشت گرد ٹھہرایا گیا ہے جنہوں نے قاسم سلیمانی پر حملے کا حکم دیا تھا۔

بل میں امریکی فورسز سے متعلق کہا گیا ہے کہ ان فورسز کی فوجی، انٹیلی جنس، مالی، تیکنیکی یا کسی بھی قسم کی مدد کو دہشت گردی کی معاونت سمجھا جائے گا۔

قطر کے نشریاتی ادارے 'الجزیرہ' کے مطابق مذکورہ بل کے ذریعے گزشتہ سال اپریل میں منظور ہونے والے ایک بل میں ترامیم کی گئی ہیں جس میں امریکی سینٹرل کمانڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تھا۔

ایرانی قانون سازوں نے 'قدس فورس' کے لیے 20 کروڑ یورو کے بجٹ کی منظوری بھی دی ہے۔ یہ بجٹ قدس فورس کی 'دفاعی طاقت بڑھانے' کے لیے دی گئی ہے۔

دوسری جانب امریکہ نے ایران کے وزیرِ خارجہ جوّاد ظریف کو ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جواد ظریف جمعرات کو نیو یارک میں ہونے والے اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ آنا چاہتے تھے۔ لیکن امریکہ نے انہیں ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق یہ بات پیر کو ایک اعلیٰ عہدے دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائی ہے۔

خیال رہے کہ 1947 میں اقوام متحدہ کے ایک معاہدے کے تحت امریکہ پابند ہے کہ وہ غیر ملکی سفارت کاروں کو اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کی اجازت دے۔ لیکن واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ سیکیورٹی، دہشت گردی اور اپنی خارجہ پالیسی کی وجوہات کی بنا پر ویزا دینے سے انکار کر رہا ہے۔

اس معاملے سے متعلق امریکی محکمۂ خارجہ نے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ البتہ اقوامِ متحدہ میں ایرانی مشن نے کہا ہے کہ انہوں نے جواد طریف کے ویزا سے متعلق میڈیا میں چلنے والی خبریں دیکھی ہیں۔ لیکن انہیں اب تک حکام کی جانب سے ایسی کوئی باضابطہ ہدایات موصول نہیں ہوئی ہیں۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے بھی اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

خیال رہے کہ جواد ظریف کا یہ دورۂ نیو یارک واشنگٹن اور تہران میں کشیدگی بڑھنے سے پہلے ہی ترتیب دیا گیا تھا۔ تاہم جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ ایرانی وزیرِ خارجہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنائیں گے۔

یاد رہے کہ امریکہ نے جواد ظریف پر امریکہ میں جائیداد خریدنے سے متعلق پابندیاں بھی عائد کی ہوئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG