رسائی کے لنکس

logo-print

تارکین وطن باپ بیٹی کے ڈوبنے کا واقعہ، امریکی سیاست میں ہلچل


ہلاک ہونے والے تارک وطن رمیرز کی ایلیہ تانیہ شوہر کی نعشیں دیکھنے کے لیے سرد خانے جا رہی ہیں۔

ایل سیلویڈور کے ایک تارک وطن اور اس کی 23 ماہ کی بیٹی کے دریائے ریو گرانڈے میں تیر کر میکسیکو سے امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران ڈوب کر ہلاک ہونے کی تصاویر جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو امیگریشن اور سیاسی پناہ کے قوانین کے حوالے سے امریکی سیاست کے تمام دھڑوں میں ہلچل مچ گئی۔

بالآخر صدر ٹرمپ کو بھی اس معاملے پر رد عمل دینے کافیصلہ کرنا پڑا۔ اپنی ایک ٹوئٹ میں انہوں نے اس کی ذمہ داری ڈیموکریٹک پارٹی پر ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ڈیموکریٹک پارٹی نے سیاسی پناہ سے متعلق قوانین میں تبدیلی کر دی ہوتی تو اس طرح کا واقعہ پیش نہ آتا۔

ڈوب کر ہلاک ہونے والے باپ بیٹی کی تصاویر پہلے میکسیکو کے ایک اخبار میں شائع ہوئی، جس کے فوراً بعد نیو یارک ٹائمز سمیت امریکہ کے معروف اخباروں اور اداروں نے اسے نمایاں طور پر شائع کیا اور اس کے بعد یہ تصاویر وائرل ہو گئیں۔ پھر ان کے حوالے سے انسانی بنیادوں پر تنقید کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔

ریوگرینڈے دریا کے امریکی کنارے پر وہ مقام جہاں باپ بیٹی زندگی کی بازی ہار گئے
ریوگرینڈے دریا کے امریکی کنارے پر وہ مقام جہاں باپ بیٹی زندگی کی بازی ہار گئے

تفصیلات کے مطابق ایل سیلویڈور کے شہری آسکر ایلبرٹو مارٹینز رمیرز نے امریکہ میں سیاسی پناہ کے لیے درخواست دینے کے تھکا دینے والے طویل عمل سے گھبرا کر اپنی بیوی اور تقربیاً دو سالہ بچی کے ساتھ میکسیکو سے دریائے ریو گرینڈے میں تیر کر امریکہ میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔ دریا میں تیر کر وہ اپنی 23 ماہ کی بچی کو تو دریا کے امریکی کنارے تک پہنچانے میں کامیاب ہو گیا۔ لیکن جب وہ اپنی بیوی کو کنارے پر لانے کے لیے اس کی طرف بڑھا تو بچی نے بھی دریا میں چھلانگ لگا دی۔ رمیرز اپنی بچی کو بچانے کے لیے اس کی طرف پلٹا، لیکن دریا کی تند و تیز لہرین ان دونوں کو بہا لے گئیں۔ بعد میں باپ بیٹی کی نعشیں دریا سے نکالی گئیں۔

ہلاک ہونے والے تارک وطن رمیرز کی دو برس کی بچی کی لاش مردہ خانے سے نکالی جا رہی ہے
ہلاک ہونے والے تارک وطن رمیرز کی دو برس کی بچی کی لاش مردہ خانے سے نکالی جا رہی ہے

صدر ٹرمپ نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا ہے کہ انہیں یہ بہت برا لگا۔ تاہم انہوں نے اس کی ذمہ داری ڈیموکریٹک پارٹی پر ڈالتے ہوئے کہا کہ اس نے امیگریشن سے متعلق قوانین تبدیل نہیں کیے جس کے باعث تارکین وطن کو غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے کی ترغیب ملتی ہے۔

تاہم امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما چک شومر نے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کیسے یہ تصاویر دیکھ کر یہ احساس نہیں کر سکتے کہ یہ بھی انسان تھے جو تشدد اور ظلم کے حالات سے گھبرا کر اتنا بڑا خطرہ مول لیتے ہوئے ایک بہتر زندگی کی تلاش میں امریکہ آنا چاہتے تھے۔

انہوں سینیٹ میں اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ میں داخلے کے مقامات پر ضرورت کے مطابق عملہ تعینات ہوتا اور سیاسی پناہ کے کیسز نمٹانے کے لیے مناسب تعداد میں جج موجود ہوتے اور ہمارے سیاسی پناہ کے قوانین کا پورا اہتمام کیا جاتا تو یوں قیمتی زندگیاں ضائع نہ ہوتیں۔

آئندہ صدارتی انتخاب کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار برنی سینڈرز نے فیس بک پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ ہولناک واقعہ ہے۔ صدر ٹرمپ کی پالیسیاں سیاسی پناہ کے حصول مشکل سے مشکل بنا رہی ہیں اور خاندانوں کو تقسیم کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ظلم ہے۔

رمیرز کی والدہ اپنی ہلاک ہونے والی دو سالہ پوتی کے کھلونے دکھا رہی ہیں
رمیرز کی والدہ اپنی ہلاک ہونے والی دو سالہ پوتی کے کھلونے دکھا رہی ہیں

رپبلکن سینیٹر اور ہوم لینڈ سیکورٹی کمیٹی کے چیئرمین رون جانسن نے امید ظاہر کی کہ ان تصاویر کو دیکھ کر کانگریس اس بارےمیں حقیقی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پہلے ہی کافی وقت گزر چکا ہے اور سینیٹ اور ایوان نمائندگان کو فوری طور پر اس مسئلے کے حل کے لیے کچھ کرنا ہو گا۔

ایل سیلویڈور کی وزیر خارجہ الیگزینڈریہ ہل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت رمیرز کے خاندان کی مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم انہوں نے ایل سیلویڈور کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ترک وطن کے لیے اس خطرناک طریقے کے استعمال کرنے سے گریز کریں۔

امریکی اہل کاروں نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ برس کے دوران امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش میں 283 تارکین وطن ہلاک ہو گئے تھے۔

ادھر امریکہ کے سرحدی محافظوں نے منگل کے روز بتایا کہ انہوں نے اسی دریا میں تیر کر امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ہنڈورس کے ایک شخص اور اس کے چھوٹے بچے کی جانیں بچائی تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG