رسائی کے لنکس

logo-print

نربھیا ریپ کیس: مجرمان کی سزائے موت پر عمل درآمد دو ہفتے کے لیے موخر


فائل فوٹو

بھارت کی دہلی کورٹ نے نربھیا ریپ کیس میں سزائے موت پانے والے مجرمان کی پھانسی کی سزا یکم فروری تک موخر کر دی ہے۔

بھارت کے صدر رام ناتھ کووند نے 2012 کے اس ریپ کیس کے ایک مجرم مکیش کمار کی رحم کی اپیل گزشتہ روز مسترد کی تھی۔

دہلی کی ایڈیشنل سیشن کورٹ نے ریپ کیس کے چاروں مجرمان کو یکم فروری کو صبح چھ بجے پھانسی دینے کے نئے وارنٹ جاری کیے ہیں۔

قبل ازیں ان چاروں مجرمان کو 22 جنوری کی صبح سات بجے پھانسی دیے جانے کے وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔

ریپ کیس کے مجرمان 32 سالہ مکیش کمار، 26 سالہ وینے شرما، 31 سالہ اکشے کمار سنگھ اور 25 سالہ پاون گپتا نے سات سال قبل 2012 میں میڈیکل کی ایک طالبہ نربھیا کا چلتی بس میں ریپ کیا تھا۔ جس پر ان مجرمان کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ گزشتہ ہفتے عدالت نے ان کے ڈیتھ وارنٹ جاری کیے تھے۔

ڈیتھ وارنٹ کے اجرا کے موقع پر نربھیا کی ماں بھی عدالت میں موجود تھیں۔ انہوں نے ان احکامات کو انصاف کی جیت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے عدالت پر خواتین کا اعتماد بڑھے گا۔

بھارتی اخبار 'ٹائمز آف انڈیا' کی رپورٹ کے مطابق دہلی کی کورٹ کے ایڈیشنل اینڈ سیشن جج جسٹس ستیش کمار ارورا نے مکیش کمار کی رحم کی اپیل پر تاخیر سے کارروائی پر ناگواری کا اظہار کیا۔

جسٹس ستیش کمار ارورا کا کہنا تھا کہ چاروں مجرموں کو رحم کی اپیل دائر کرنے کے لیے مناسب وقت دیا گیا تھا تاہم ان میں سے بھی صرف ایک نے درخواست دائر کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ سزا پر عمل درآمد میں تاخیر کے حربے ہو سکتے ہیں لیکن ان حربوں سے کب تک کامیاب ہوں گے؟ جب ملزمان کی سزا پر عمل در آمد کے لیے ڈیتھ وارنٹ جاری ہو گئے تھے تو انہوں نے قانونی عمل شروع کیوں نہیں کیا۔

سرکاری وکیل عرفان احمد نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ چار مجرمان میں سے ایک نے صدر سے رحم کی اپیل کی تھی جس کی اپیل مسترد کر دی گئی ہے۔ باقی تین مجرموں نے اپیل دائر نہیں کی۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ مجرموں میں سے کسی کی بھی کوئی درخواست کسی بھی فورم پر زیر سماعت نہیں ہے اس لیے ان کے ڈیتھ وارنٹ جاری کیے جائیں۔

جیل کے قواعد کے مطابق جب کسی بھی مجرم کی رحم کی اپیل مسترد کی جاتی ہے تو اس کی سزا پر عمل در آمد دو ہفتے بعد ہوتا ہے۔

دوسری جانب تین دیگر مجرمان کے وکیل اے پی سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ ان کو موکلوں کے خلاف ایک کیس دہلی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے جب تک اس کیس کا فیصلہ نہیں ہو جاتا ان کی سزا پر عمل درآمد نہیں ہو سکتا۔

واضح رہے کہ ان چاروں مجرموں نے نربھیا کے ریپ سے قبل ایک دکان سے چوری کی تھی۔ جس پر دہلی ہائی کورٹ نے اس کیس میں ان کو 10 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم انہوں نے اس کیس میں اپیل دائر کی تھی۔

نربھیا ریپ کیس

میڈیکل کی 23 سالہ طالبہ نربھیا کو 16 دسمبر 2012 کی شب دہلی کی ایک چلتی بس میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ مجرموں نے ان پر وحشیانہ تشدد بھی کیا تھا۔

نربھیا کا علاج ابتدا میں دہلی میں اور پھر سنگاپور میں ہوا تھا مگر وہ جانبر نہ ہو سکی تھیں اور چند روز کے اندر ان کی موت واقع ہو گئی تھی۔

واقعے پر بھارت سمیت دنیا بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ بھارت میں انسانی حقوق کی تنظیمیں کئی روز تک سراپا احتجاج رہی تھیں۔ واقعے کے بعد نئی دہلی پولیس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد بھارت میں ریپ سے متعلق قوانین بھی مزید سخت کر دیے گئے تھے۔

واقعے میں ملوث تمام چھ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان میں ایک نابالغ ملزم کا کیس بچوں کی عدالت میں زیرِ سماعت رہا تھا جسے عدالت نے جرم ثابت ہونے پر تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔

ایک ملزم رام سنگھ نے دہلی کی تہاڑ جیل میں خود کُشی کر لی تھی۔

مقامی عدالت نے تمام ملزموں کو ستمبر 2013 میں سزائے موت دی تھی جس کی توثیق دہلی ہائی کورٹ نے مارچ 2014 میں کی۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے بھی مئی 2017 میں ذیلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔ سپریم کورٹ نے مجرموں کی نظرِ ثانی کی اپیلیں بھی خارج کر دی تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG