رسائی کے لنکس

logo-print

ڈیموکریٹ مباحثہ: امیدواروں کی یک زبان ہو کر بلوم برگ پر تنقید


برنی سینڈرز نے مباحثے کے دوران کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ کرنے کے لیے اگر بلوم برگ جیسے شخص کا انتخاب کیا تو اس سے ووٹرز کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا جاسکے گا۔

رواں برس نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے نامزدگی حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کے درمیان مختلف ریاستوں میں پارٹی انتخابات اور مباحثوں کا سلسلہ جاری ہے۔

بدھ کو ریاست 'نیواڈا' میں ہونے والے مباحثے کے دوران دیگر ڈیمو کریٹک امیدواروں نے نیویارک کے سابق میئر مائیکل بلوم برگ کو نشانہ بناتے ہوئے ان پر شدید تنقید کی اور اُنہیں 'پیرا شوٹر' قرار دیا۔

مائیکل بلوم برگ ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار کے لیے نامزدگی کے خواہش مند ہیں۔ تاہم وہ پارٹی کے ابتدائی مباحثوں، کاکس اور پرائمری میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ البتہ اب انہوں نے اپنی اشتہاری مہم پر بڑی رقم لگانا شروع کر دی ہے جس پر اُنہیں کڑی تنقید کا بھی سامنا ہے۔

بلوم برگ کی انتخابی مہم کے منتظمین نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ اگر بلوم برگ ملک کے صدر منتخب ہو گئے تو وہ اپنی کمپنی فروخت کر دیں گے۔

بدھ کو مباحثے کے دوران سینیٹر الزبتھ وارن نے بلوم برگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک ضدی ارب پتی شخص کے مقابلے میں دوسرے ارب پتی شخص کو لانے کا رسک نہیں لیا جا سکتا۔

یاد رہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے حتمی صدارتی امیدوار کا مقابلہ تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہو گا جن کا تعلق ری پبلکن جماعت سے ہے۔

سینیٹر الزبتھ وارن، برنی سینڈرز اور پیٹ بٹیجج نے مائیکل بلوم برگ کو ہدف تنقید بنایا۔
سینیٹر الزبتھ وارن، برنی سینڈرز اور پیٹ بٹیجج نے مائیکل بلوم برگ کو ہدف تنقید بنایا۔

سینیٹر وارن نے کہا کہ صدارتی الیکشن کے لیے اگر ایسے شخص کا انتخاب کیا جو ٹیکس ریٹرن چھپاتا ہو، خواتین سے بدسلوکی میں ملوث ہو اور نسلی امتیاز پر مبنی پالیسیز کا حامی ہو تو ڈیموکریٹس صدارتی انتخاب میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

اسی طرح نیو ہیمپشر سے پرائمری انتخاب میں کامیاب ہونے والے برنی سینڈرز نے کہا کہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ کرنے کے لیے اگر بلوم برگ جیسے شخص کا انتخاب ہوا تو اس سے ووٹرز کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا جا سکے گا۔

بلوم برگ نے جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں سینیٹرز صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر برنی سینڈرز ڈیموکریٹس کے صدارتی امیدوار ہوئے تو ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ چار برس کے لیے ملک کے صدر ہوں گے۔

آئیووا کاکس میں تمام امیدواروں پر برتری حاصل کرنے والے ساؤتھ بینڈ شہر کے سابق میئر پیٹ بٹیجج نے مباحثے کے دوران کہا کہ ہمیں ایسے امیدوار کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے جو پارٹی کو تباہ کر دے اور ایسے امیدوار کو بھی نہیں چننا چاہیے جو پارٹی کو خریدنا چاہتا ہو۔

انہوں نے کہا کہ اس امیدوار کا انتخاب کرنے کی ضرورت ہے جو خالصتاً ڈیموکریٹ ہے۔ انہوں نے بلوم برگ اور برنی سینڈرز کو ہدف تنقید بنایا۔

ڈیمو کریٹک پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنے کے خواہش مندوں میں بلوم برگ گزشتہ سال نومبر میں شامل ہوئے تھے۔ بدھ کو مباحثے کے دوران اُنہوں نے کہا کہ وہ بھاری رقم ایک بڑے مقصد کے لیے خرچ کر رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ "میں یہ رقم صدر ٹرمپ سے نجات کے لیے خرچ کر رہا ہوں۔ اگر میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا تو یہ نہ صرف میرے بچوں بلکہ امریکہ کے لیے بڑی خدمت ہو گی۔"

صدر ٹرمپ نے بھی ڈیمو کریٹک مباحثے پر تبصرہ کیا۔ فینکس میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ بلوم برگ کو خوب آڑے ہاتھوں لیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG