رسائی کے لنکس

logo-print

سندھ: ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کے باوجود ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیوں؟


فائل فوٹو

معاشی ماہرین نے موجودہ حالات میں سندھ کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے پر حیرانی کا اظہار کیا ہے جب کہ حزب اختلاف نے بھی اس اقدام کو نہ سمجھ آنے والی منطق قرار دیا ہے۔

سندھ میں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں گریڈ ایک سے 16 تک کے سرکاری ملازمین کے لیے 10 فی صد جب کہ گریڈ 17 سے اوپر کے افسران کی تنخواہوں میں پانچ فی صد اضافہ کیا گیا ہے۔

پوسٹ بجٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے ایک بار پھر اپنی حکومت کی جانب سے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اسے کابینہ کا فیصلہ قرار دیا ہے۔

اُن کے بقول، "لوگوں نے صوبائی حکومت کے اس فیصلے پر تنقید بھی کی لیکن ہم تنخواہیں بڑھا کر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مشکل حالات میں سرکاری ملازمین کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔"

وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق انہوں نے نجی شعبے کے دفاتر اور تجارت سے وابستہ مالکان کو بھی ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنانے کا کہا ہے۔

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فردوس شمیم نقوی کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے صوبائی ملازمین کی تنخواہیں بڑھانا مناسب نہیں ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ صوبائی حکومت کا حجم بہت بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے حکومت کے اخراجات بھی زیادہ ہو گئے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومتی نوکریوں میں کشش پیدا کر کے یہاں سفارشی کلچر، نااہل افراد کی تعیناتی کی جا رہی ہیں۔ پبلک سروس میں لوگوں کو وہ تنخواہیں مل رہی ہیں جو پرائیویٹ سیکٹرز میں سوچی بھی نہیں جاسکتیں۔

فردوس نقوی نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس بات کی تھی کہ سرکاری محکموں کو ضم کر کے اخراجات پر قابو پایا جاتا اور اس پیسے کو ترقیاتی اسکیمز پر خرچ کیا جاتا تاکہ صوبے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔

اپوزیشن لیڈر نے اعتراف کیا کہ مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور سرکاری ملازمین کی تلافی کرنے میں کوئی قباحت نہیں لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کیا پیغام دینا چاہ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی انتظامیہ مزید فعال اور بہتر کارکردگی دکھا رہی ہوتی تو ملازمین کی تنخواہوں کی صورت میں غیر ترقیاتی اخراجات بڑھانے کی منطق سمجھ میں آتی لیکن اس صورتِ حال میں صوبائی حکومت کا یہ اقدام بالکل مناسب نہیں۔

'تنخواہوں میں اضافہ ووٹ بینک قائم رکھنے کے لیے ہے'

وفاقی حکومت اور ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب نے بھی اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا ہے۔

ایسے وقت میں موجودہ مالی سال کی پہلی تین سہ ماہیوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کو منتقل کی جانے والی رقوم ہدف سے 42 فی صد کم وصول ہوئی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے بھی ٹیکس وصولیوں کا ہدف پورا نہیں ہوا ہے۔

آئندہ مالی سال میں بھی وفاقی حکومت کی جانب سے ریونیو ٹارگٹ پورا نہ کرنے اور پھر لامحالہ طور پر صوبوں کو کم منتقلی کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سینئر صحافی اور مقامی چینل 'دنیا نیوز' کی بزنس ڈیسک کے ایڈیٹر حارث ضمیر کا کہنا ہے کہ ایک جانب ملک میں شرح نمو میں تاریخی کمی دیکھی جا رہی ہے، ایسے میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ صوبے میں برسرِ اقتدار جماعت کی جانب سے ووٹ بینک کو قائم رکھنے کی ایک کوشش دکھائی دیتی ہے۔

انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اپنے عوامی تاثر کو درست رکھنے کی کوشش میں جہاں وفاقی حکومت نے وصولیوں کے اہداف غیر حقیقی اور ناقابلِ حصول رکھے ہیں وہیں سندھ حکومت بھی اس مشکل معاشی صورتِ حال میں پارٹی مفادات کو عزیز رکھے ہوئے ہے۔

سندھ حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 'غریب پرور، سماجی تحفظ اور معاشی استحکام انیشی ایٹو' متعارف کرایا ہے جس میں شہری علاقوں میں غربت کے خاتمے کے پروگرام کے لیے تین ارب روپے رکھے ہیں۔

دیہی علاقوں میں چھوٹے کاشت کاروں کے لیے غربت کے خاتمے کے پروگرام کے لیے دو ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ اسی طرح 'سندھ پیپلز سپورٹ پروگرام' کے تحت بھی 20 ارب روپے نقد رقم کی تقسیم کے لیے مختص کیے ہیں۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ پروگراموں پر عمل درآمد کے لیے صوبائی حکومت کو صوبے میں غربت سے متعلق قابل بھروسہ ڈیٹا کیسے میسر آئے گا؟

سندھ کے 18.38 ارب روپے کے خسارے کے بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات میں سات فی صد تک اضافہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا شدہ صورتِ حال کے باعث معاشرتی تحفظ اور استحکام کے مختلف پیکجز کی فراہمی بتائی گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ جو کہ صوبے کے وزیرِ خزانہ کا بھی قلمدان رکھتے ہیں، نے بتایا کہ آئندہ سال صوبے کے ترقیاتی بجٹ کا ہدف 233 ارب روپے رکھا گیا ہے جو گزشتہ مالی کے سال کے تجویز کردہ ترقیاتی حجم سے 51 ارب روپے کم ہے۔

صوبے میں آئندہ مالی سال میں 155 ارب روپے کے صوبائی ترقیاتی بجٹ، 15 ارب روپے ضلعی ترقیاتی بجٹ جب کہ 54 ارب روپے کا کام غیر ملکی فنڈنگ اور آٹھ ارب روپے کا ترقیاتی کام وفاقی حکومت کی گرانٹ سے مکمل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

صوبے کی خراب معاشی صورتِ حال کے باعث محکمہ صحت کے علاوہ کسی بھی محکمے میں نئی ترقیاتی اسکیمز کے لیے کوئی پیسے مختص نہیں کیے گئے ہیں۔ صحت کے شعبے میں 19 ارب اضافی اور تعلیمی شعبے میں 22.9 ارب کا اضافہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ آئندہ مالی سال کے صوبۂ سندھ کے بجٹ میں وفاقی ٹیکس وصولی کا ہدف 760 ارب روپے یعنی 65 فی صد جب کہ صوبائی ٹیکسز کی وصولی کا ہدف 313 ارب روپے یعنی 26.8 فی صد ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG