رسائی کے لنکس

مشترکہ آپریشنز کے امکانات، توقعات


مشترکہ آپریشنز کے امکانات، توقعات

سوات آپریشن میں ملا فضل اللہ کے گروپ کو علاقے سے منتشر کر دیا گیا تھا جس کے بعد وہ افغانستان کے مشرقی علاقے خصوصاً کنڑ چلے گئے تھے، اور اب تنظیمی طاقت حاصل کر نے پریہ عناصر واپس آرہے ہیں

ٹورنٹو میں سکیورٹی اور دفاعی امور کےاسٹیٹفور کارپوریشن سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار، کامران بخاری کا کہنا ہے کہ سوات آپریشن میں ملا فضل اللہ کے گروپ کو علاقے سے منتشر کر دیا گیا تھا جس کے بعد وہ افغانستان کے مشرقی علاقے خصوصاً کنڑ چلے گئے تھے، اور اب ’تنظیمی طاقت ‘ حاصل کر نے پریہ عناصر واپس آرہے ہیں۔

اُن کے بقول، ’دوسرا یہ کہ، اُن کے لیے پاکستان کے اندر اچھا خاصا موقعہ ہے۔ لگتایوں ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان کے حکیم اللہ گروپ کے ساتھ شمالی وزیرستان میں حملے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔‘

اُنھوں نےیہ بات جمعرات کی شام ’وائس آف امریکہ‘ سے خصوصی گفتگو میں کی۔ اُن سے پاکستان کے دیر بالا میں ہونے والے حملے اور پاکستان کے اِس بیان کے بارے میں تبصرہ کرنے کو کہا گیا تھا کہ امریکی فوج نے نورستان اور کنُڑ کے افغان صوبوں سے اپنی چوکیاں خالی کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے اُس کی وجہ سے طالبان جنگجو اِس علاقے کو پاکستان کے اندر حملے کرنے کے لیے استعمال کرر ہے ہیں۔

جب اُن سے تازہ حملوں کے بارے میں پوچھا گیا تو کامران بخاری کا کہنا تھا کہ ’کسی حد تک ‘پاکستان کا گلہ بجا ہے۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ مبالغہ آرائی‘ پر مبنی تاثر ہے، کیونکہ کچھ علاقوں میں تعیناتی کم ہوسکتی ہے ’لیکن مکمل طور پر چوکیاں خالی نہیں کی گئیں‘۔

یہ معلوم کرنے پر کہ کیا کوئی ایسا طریقہٴ کار ہوسکتا ہے کہ دونوں، یعنی پاکستانی اور اتحادی فوجیں، سرحدی علاقے پر مشترکہ طور پرتعینات ہوں تاکہ دونوں کا عدم اطمینان ختم ہو، اُنھوں نے کہا کہ عملی طور پر یہ ممکن نہیں۔ ’اِس کے لیے، سب سے پہلے ایک رضامندی اور سمجھوتے کی ضرورت پیش آئے گی کہ کِن عسکریت پسند عناصر کو ہدف بنانا ہے۔۔۔ پاکستان کا یہ نقطہ ٴنظر ہے کہ جو ہمیں مار رہے ہیں پہلے اُن پر توجہ دیں گے۔ امریکہ کے لیے ترجیح ہیں وہ لوگ جو افغانستان میں افغان کارروائی کر رہے ہیں، بالخصوص حقانی نیٹ ورک ۔‘

اُن کے بقول، پاکستانی حکام کا یہ کہنا ہے کہ آپ نے با لآخر طالبان سے بات چیت کرنی ہے اور یہ کہ آپ نے چلے جانا ہے۔ ’اور اِس وقت اگر ہم شانہ بشانہ لڑنا شروع کردیں اور ہر اُس شخص کو مارنا شروع کردیں تو ہم اپنے حالات کو مزید خراب کردیں گے جو پہلے ہی کچھ اچھے نہیں ہیں۔ اور اگر آپ نےبات چیت ہی کرنی ہے تو پھر آپ ذرہ اِس پر آئیں کہ کِن لوگوں سے بات چیت ہوسکتی ہے؟ ‘

اُنھوں نے مزید کہا کہ، ’ امریکہ کی جانب سے یہ ہے کہ بات چیت ضرور کرنی ہے لیکن حقانی نیٹ ورک سے نہیں، کیونکہ اُن کے تانے بانے القاعدہ سے ملتے ہیں۔ اب اِس کے اوپر آکے بات رک جاتی ہے۔اِس لیے، میں سمجھتا ہوں کہ کوئی مشترکہ کارروائی چاہے وہ سرحد پر ہو۔۔۔ اب جو خبریں آ رہی ہیں کہ مشترکہ انٹیلی جنس آپریشنز ہوں گے ہائی ویلیو ٹارگیٹس کےخلاف، میں نہیں سمجھتا کہ وہ کامیاب ہوں گے۔۔۔ ‘

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG