رسائی کے لنکس

logo-print

لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟


(فائل فوٹو)

جب سے لاک ڈاون ہوا ہے شہناز کو تمام کام والی باجیوں نے رخصت پر بھیج دیا ہے۔ کرونا وائرس کا خوف ہی اتنا ہے کہ کوئی نہیں چاہتا کہ وہ کام والی کو اپنے گھر تک رسائی دے۔

شہناز کے پاس محلے کے ہی چار گھروں کے بہت سے کاموں کے سبب پیسے مل جاتے تھے کہ اس کا شوہر کچھ نہ بھی کمائے تو اس کے گھر کا خرچ چل رہا تھا۔

لیکن غربت، کام ختم ہونے اور مسلسل گھر بیٹھے رہنے کی فکر کے ساتھ ان دنوں سب سے بڑا مسئلہ شوہر کی مار پیٹ اور روزانہ کا جھگڑا ہے۔ جس کے باعث شہناز اور اس کے بچوں کے ڈراور خوف میں اضافہ ہوا ہے۔ بلکہ اب وہ شدت سے منتظر ہیں کہ لاک ڈاون ختم ہو تو اسے اس روز کی مار سے نجات مل سکے۔

یہ کہانی ایک گھر کی نہیں اس صورتِ حال میں بہت سے گھرانوں میں گھریلو تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہیں لیکن جو وجہ یکساں ہے وہ ایک ہی جگہ پر دیر تک ساتھ وقت گزارنا ہے۔

شہریار بزنس کرتے ہیں اور ان دنوں کاروبار بند ہونے کے سبب ان کا وقت گھر پر گزرتا ہے۔ بچے اسکول نہیں جارہے ان کی شرارتیں اور روز کی شکایتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب وہ بچوں کو مار پیٹ کرنا ہی مسئلے کا حل سمجھ رہے ہیں۔ جس کے سبب اب بچے خوفزدہ اور میاں بیوی کے درمیان تلخی بڑھتی جارہی ہے۔

پاکستانی نژاد ماہر نفسیات ڈاکٹر خالد سہیل کینیڈا میں مقیم ہیں اور ان دنوں اپنے پاس آنے والے ایسے بہت سے کیسز کو ڈیل کر رہے ہیں۔ جو اس لاک ڈاؤن سے ذہنی اور نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہیں۔

لاک ڈاؤن کے باعث لوگ زیادہ تر وقت گھروں پر ہی گزار رہے ہیں۔
لاک ڈاؤن کے باعث لوگ زیادہ تر وقت گھروں پر ہی گزار رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن سے قبل تمام افراد کی ایک روٹین تھی جواب متاثر ہوئی ہے۔ لوگ اب گھروں تک محیط ہیں یا گھر سے بیٹھ کر کام بھی کر رہے ہیں۔

یوں فیملی کا اب وقت ایک ساتھ زیادہ گزر رہا ہے یہی وجہ ہے ان کے درمیان تصادم اور اختلاف رائے بھی بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ہر شخص کا ایک 'کمفرٹ زون' ہے. کوئی اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزار کر ان سے بات کر کے مطمئن ہوجایا کرتا تھا اب یہ بھی میسر نہیں تو ایسے میں غصہ بڑھ رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق ضروری نہیں کہ یہ پرتشدد رویہ میاں بیوی کے درمیان ہی ہو یہ کسی بھی رشتے کے ساتھ ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر خالد نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے دوران دفاتر بند ہونے سے ایک خاتون کو گھر بیٹھ کر کام کرنا پڑا۔ لیکن اس کام کے دوران انہیں اپنے گھر میں جب بار بار مداخلت کا سامنا کرنا پڑا تو معمولی روک ٹوک خاصی سنگین لڑائی میں تبدیل ہو گئی۔ اور نوبت اب یہاں تک آن پہنچی ہے کہ وہ خاتون اپنی والدہ سے الگ ہونے کا سوچ رہی ہیں۔

اُن کے بقول اسی طرح ایک کیس میں میاں بیوی کے درمیان ہونے والی لڑائی جب پر تشدد ہو گئی تو اولاد نے والد کو تشدد سے روکنے کے لیے سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

ڈاکٹر خالد کہتے ہیں کہ پہلے معمولات اور تھے اور اب جب سب ساتھ ہیں تو بچوں کو یہ جاننے کا موقع مل گیا کہ ان کے والدین کے درمیان اختلافات کس نہج پر ہیں۔

ایدھی فاونڈیشن کی ڈائریکٹر بلقیس ایدھی کا کہنا ہے کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بھوک اور غربت کا ہے۔ اور اسی وجہ سے گھروں میں لڑائی جھگڑے بڑھ رہے ہیں۔

بلقیس ایدھی کے بقول ان کے پاس خواتین کی بڑی تعداد اپنے گھر کے مسائل اور ان کے حل کے لیے آتی ہے۔ لہذٰا وہ ہر ممکن کوشش کرتی ہیں کہ صلح ہو جائے۔ لاک ڈاؤن کے باعث جھگڑا اس بات پر زیادہ ہو رہا ہے کہ گھر میں راشن نہیں ہے۔ خرچہ پورا نہیں ہو رہا۔ ایسے میں تلخ کلامی کے علاوہ مار پیٹ کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں۔

پاکستان میں انسداد گھریلو تشدد اور انسانی حقوق کا ادارہ جو حکومت پاکستان کی سرپرستی میں کام کر رہا ہے۔ اس کی ہیلپ لائن1099 پر ان دنوں رابطہ کرنے والوں کو انتظار کی زحمت اٹھانا پڑتی ہے۔

کیا تشدد کا شکار ہونے والا مدد کے حصول کے لیے انتظار کرنے کی ہمت کر سکتا ہے۔ اس سوال کے جواب میں مددگار ہیلپ لائن 1098 کے بانی اور سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ ضیا اعوان کا کہنا تھا کہ جو ظلم کا شکار ہو رہا ہو اسے مدد حاصل کرنے کے راستے ڈھونڈنا پڑتے ہیں۔

اُن کے بقول ان دنوں اُن کے پاس کافی کالز موصول ہو رہی ہیں۔ لیکن لاک ڈاؤن کے باعث اُنہیں لوگوں کی مدد کرنے میں دُشواری کا سامنا ہے۔ کرونا کے باعث اسٹاف بھی کم ہے۔ 20 سال سے ہیلپ لائن چل رہی ہے، لیکن ایسے حالات کبھی نہیں ہوئے۔

ضیا اعوان کے مطابق انہیں ذاتی نمبر پر مدد کی کالز موصول ہورہی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لاک ڈاؤن ختم ہونے پر تشدد کے واقعات کے سیلاب کا سامنا ہو گا۔

اُن کے بقول ابھی مظلوم کا سارا وقت ظالم کے ساتھ گزر رہا ہے۔ مدد کا حصول مشکل ہے۔ ضیا کہتے ہیں کہ حکومت کو نجی شعبے کے ساتھ مل کر ایسی ہیلپ لائن بنانی چاہیے، جو ایسے افراد کی کونسلنگ کر کے اُن کی مدد کرے۔

ضیا اعوان کا کہنا ہے کہ شہریوں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ لہذٰا ان مشکل حالات میں گھریلو تشدد کا شکار ہونے والوں کی مدد کرنا بھی ضروری ہے۔

ایڈوکیٹ ضیا اعوان
ایڈوکیٹ ضیا اعوان

ڈاکٹر خالد سہیل کا کہنا ہے کہ ان حالات میں سماجی فاصلوں کے ساتھ ساتھ جذباتی فاصلوں کی بھی ضرورت ہے۔ اگر مشکل کی اس گھڑی میں فیملی کے افراد ایک دوسرے کو سمجھیں اور طے کر لیں کے کہ ان مشکل حالات کا مل کر مقابلہ کرنا ہے۔

ڈاکٹر خالد کہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے باعث جہاں تشدد کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ تو وہیں کئی گھرانوں کی تنظیم نو بھی ہو رہی ہے۔ میاں، بیوی کو ایک دوسرے کو مزید سمجھنے کا موقع مل رہا ہے۔ اور والدین اور بچوں کے درمیان رشتہ بھی مضبوط ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر خالد کے مطابق، "ان حالات کے بعد بہت سے خاندان یہ فیصلہ لینے کے قابل ہوں گے کہ اب وہ ساتھ چل سکتے ہیں یا نہیں۔ کیونکہ ہر شخص کا ایک 'بریکنگ پوائنٹ' ہوتا ہے جسے میں ڈیل بریکر کہتا ہوں۔ یہ کسی میں جلدی اور کسی میں دیر سےکام کرتا ہے۔"

ماہرین کے بقول لاک ڈاؤن کے باعث گھریلو تشدد کا شکار ہونے والے کے پاس آپشنز بہت کم ہیں۔ لیکن ایسے افراد کو اپنے رشتوں کو ازسر نو جانچنے کا موقع بھی مل رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG