رسائی کے لنکس

logo-print

'ایدھی ہمارے لیے روشنی کا مینار ہیں'


عبد الستار ایدھی (فائل فوٹو)

'ایدھی صاحب مجھ سے کہتے تھے، چلو بلقیس میرے ساتھ بھیک مانگنے چلو، میں ان سے کہتی مجھے بھیک مانگنا اچھا نہیں لگتا تو وہ مجھ سے کہتے ارے یہ کوئی بری بات نہیں ہے اس سے انسان میں عاجزی آتی ہے۔'

یہ کہنا ہے بلقیس ایدھی کا جو عبد الستار ایدھی کی اہلیہ اور ان وقتوں کی ساتھی ہیں جب میٹھادر سے ایک ڈسپنسری اور ایک ایمبولینس سے ایدھی صاحب نے انسانیت کی خدمت کا پودا لگایا تھا جو آج ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

آج پورے ملک میں ان ایمبولینسز کا نیٹ ورک تقریباً دو ہزار تک پہنچ چکا ہے جبکہ کراچی سے خیبر تک ایدھی سینٹرز موجود ہیں۔ لاوارث اور گمشدہ بچوں کو سنبھالنے سے لے کر ڈسپنسریاں، نرسنگ ہومز، شیلٹر ہومز، میت خانے اور لاوارث افراد کی تدفین کے لیے قبرستان ان سب کی بنیاد عبدالستار ایدھی اپنی زندگی میں ہی ڈال گئے تھے۔

انسانوں کی خدمت کے علاوہ جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے اسپتال کا قیام غرض کے خلق خدا کی خدمت کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جو ایدھی فاؤنڈیشن کی دسترس میں نہ ہو۔

سنہ 1966 میں عبد الستار ایدھی کی جیون ساتھی بننے والی بلقیس ایدھی جب بھی اپنے شوہر کو یاد کرتی ہیں تو ان کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھتا ہے۔

عبدالستار ایدھی کی تیسری برسی پر وائس آف امریکہ کی ٹیم جب بلقیس ایدھی سے خصوصی بات چیت کرنے میٹھادر کے مرکزی دفتر پہنچی تو وہ ایدھی صاحب کے اس دفتر میں بیٹھی تھیں جہاں کبھی عبدالستار ایدھی آنے والوں کا استقبال کیا کرتے تھے۔

ایدھی صاحب کی وفات کے بعد سے ایدھی فاؤنڈیشن کو درپیش چیلنجز کے سوال پر بلقیس ایدھی نے کہا کہ انھیں کسی مسئلے کا سامنا نہیں، ایدھی صاحب اتنا کچھ کر کے جا چکے ہیں کہ اگر کوئی مسئلہ آ بھی جائے تو مسئلہ نہیں لگتا۔ بقول ان کےم ’’وہ روشنی کا مینار تھے سب کچھ بنا کر دے گئے۔ ہم نے بس اسے سنبھالنا ہے۔‘‘

ایدھی صاحب مزاج کے کیسے تھے اس پر پرانی باتوں کو یاد کرتے ہوئے بلقیس صاحبہ نے ایک قصہ سنایا۔

’’ایک بار میں نے ایدھی صاحب سے پوچھا کہ پاگل خانے میں مرد اتنی بڑی تعداد میں کیوں آتے ہیں؟ تو وہ ہنس کر کہنے لگے کہ تم عورتیں اظہار کر لیتی ہو، اپنے دل کا حال کسی کو کہہ لیتی ہو اپنا غم بانٹ لیتی ہو۔ مرد ایسا نہیں کر پاتا اپنے اندر رکھتا ہے اور پھر اس کا انجام اسی صورت میں سامنے آتا ہے۔‘‘

جب ڈاکووں نے لوٹی ہوئی رقم واپس کر دی

گزرے وقتوں کا ایک اور قصہ بیان کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ایک بار ایدھی صاحب کسی لاوارث میت کی وصولی کے لیے اندروں پنجاب سفر پر نکلے۔ راستے میں انھیں کچھ ڈاکووں نے پکڑ لیا، جو کچھ ان کے پاس تھا ان سے لوٹ لیا۔ لیکن جب انھیں معلوم ہوا کہ وہ عبدالستار ایدھی ہیں تو ان سے معافیاں مانگنے لگے، ہاتھ چومے اور سو روپے چندے کے طور پر دیتے ہوئے کہا ’’بابا ہم جانتے ہیں کہ جب ہم مریں گے تو، تو ہی ہو گا جو ہمیں دفنائے گا، کیونکہ ہمارے اپنے تو نہیں آئیں گے۔‘‘

بلقیس ایدھی نے کہا کہ ایدھی صاحب کی شخصیت ہر خاص و عام کے لیے باعث عزت رہی۔ جب کراچی میں امن و امان کا مسئلہ درپیش تھا۔ تو کئی لاوارث لاشیں ہمارے رضاکار اٹھا کر لایا کرتے تھے۔ ہم لواحقین کا ایک ماہ تک انتظار کرتے اور پھر تدفین کر دیتے۔

بلقیس ایدھی بتاتی ہیں کہ ایک دفعہ کچھ خواتین آئیں جن کے ہاتھ میں اخبار تھا، وہ بولیں کہ ہمارا بچہ بے روزگار تھا، بری صحبت میں چلا گیا اب وہ مارا گیا ہے، ہم شرم کے مارے آپ کے پاس نہیں آئے ہمیں یقین تھا کہ اس کے کفن دفن کا انتظام ہو چکا ہوگا، ہمیں صرف اس کی قبر بتا دیں، تاکہ دعا کر سکیں۔

بلقیس ایدھی خود بھی ایک طویل عرصے تک نرسنگ کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں، اب بھی میٹھادر کے میٹرنٹی ہوم میں کام کرنے والی نرسوں کے ساتھ ان کا وقت گزرتا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ شیلٹر ہومز میں بزرگوں اور عورتوں کی تعداد میں اضافے پر انھوں نے کہا کہ اب معاشرے میں برداشت ختم ہو چکی ہے۔ جب بوڑھے والدین کو نفسیاتی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں اور اس کا علاج جو ویسے ہی مہنگا ہے تو اولاد مہنگے علاج کی بجائے انھیں ہمارے پاس چھوڑ جاتی ہے۔

ان کے بقول، کئی عورتیں گھر کی لڑائیوں سے تنگ آ کر پناہ لینے آ جاتی ہیں جنھیں ہم سمجھاتے ہیں تو اکثر واپس لوٹ جاتی ہیں۔

بلقیس ایدھی نے بتایا کہ کئی خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہو کر ان کے پاس آتی ہیں۔ وہ ان سے وجہ پوچھتی ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ شوہر سے باز برس کرنے پر اس نے ہاتھ اٹھایا، جس پر بلقیس انھیں بحث نہ کرنے اور خاموش رہنے کا مشورہ دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آج کے دور میں شوہر کما کر گھر لا رہا ہے اور اپنی بیوی اور اولاد کے اخراجات اٹھا رہا ہے تو ایسے میں عورت کو بھی اس بات کا احساس کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ شوہر سے زبان نہ چلائے۔

بلقیس ایدھی کے مطابق اگر ایسا ہو گا تو گھر کے کئی مسائل گھر ہی میں حل ہو جائیں گے، کیونکہ مرد ذات کو نہ تو روکا جا سکتا ہے۔ نہ ہی اس سے سوال کیا جا سکتا ہے۔ اسے ایسا ہمارے معاشرے نے بنایا ہے۔

پاکستان کے علاوہ کون سے ممالک ایدھی فاؤنڈیشن کو سب سے زیادہ امداد دیتے ہیں؟ اس سوال پر بلقیس ایدھی نے بتایا کہ امریکہ اور برطانیہ اس فہرست میں سب سے آگے ہیں۔ خاص کر امریکی پاکستانی کمیونٹی ایدھی فاؤنڈیشن میں دل کھول کر اپنا حصہ ڈالتی ہے۔

بلقیس ایدھی کا کہنا تھا کہ ہم نے کبھی بھی کسی اور سے مدد نہیں مانگی باہر رہنے والے پاکستانی ہماری دل سے مدد کرتے ہیں۔ ان کی کرنسی مضبوط ہے وہ تھوڑا بھی دیں تو وہ یہاں زیادہ ہو جاتا ہے۔ کوئی بھی موقع ہو یہ لوگ کبھی پیچھے نہیں رہے۔

انھوں نے بتایا کہ کوئی بھی حکومت ہو سب نے ہم سے تعاون کیا۔ لیکن ہم نے کبھی کسی حکومت سے مدد نہیں لی۔ ملکی و غیر ملکی ادارے سب ہی ایدھی صاحب کو امداد کی پیشکش کیا کرتے تھے۔ لیکن ایدھی صاحب منع کر دیتے تھے۔ وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ مجھے اپنے عوام کی مدد حاصل رہی ہے یہی مجھے دیں گے۔ یہی میری طاقت ہیں۔

بلقیس ایدھی کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج ہم جو بھی ہیں اور جو بھی کر پا رہے ہیں یہ سب اس قوم کی وجہ سے ہے۔ ’’آج بھی مدد میں سب سے آگے رہنے والا طبقہ یا تو غریب ہے یا متوسط طبقہ ہے یہ سب سے زیادہ دل کھول کر ایدھی فاؤنڈیشن کو دیتے ہیں۔‘‘

بلقیس ایدھی کہتی ہیں کہ جب ایدھی صاحب زندہ تھے تب بھی ہمیں عوام کا ساتھ حاصل تھا اب وہ نہیں ہیں تو بھی عوام ہمارے ساتھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں کبھی بھی فنڈز کی کمی نہیں رہی اور انسانیت کی خدمت کا مشن جاری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG