رسائی کے لنکس

پاکستان کے انتخابی عمل میں بےضابطگیاں دیکھی گئیں: امریکی سفارت کار ڈونلڈ لو


  • ڈونلڈ لو نے ایوانِ نمائندگان کی کمیٹی برائے امور خارجہ میں پیش ہونے سے قبل تحریری جواب جمع کرا دیا۔
  • پاکستان کے انتخاب کی نگرانی کرنے والے مبصرین کی تنظیموں نے نتیجہ اخذ کیا کہ آٹھ فروری کے انتخابات بڑی حد تک مسابقتی اور منظم تھے، لو
  • پاکستان کے عوام ایک پرامن، جمہوری اور خوش حال ملک کے مستحق ہیں، ڈونلڈ لو

امریکہ کے جنوبی و وسطی ایشیائی امور کے معاون وزیرِ خارجہ ڈونلڈ لو نے ایوانِ نمائندگان کی ایک کمیٹی کو پاکستان کے آٹھ فروری کے انتخابات پر جمع کرائے گئے بیان میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے۔

امریکی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان کی کمیٹی برائے امورِ خارجہ میں بدھ کو پاکستان کے انتخابات سے متعلق سماعت ہونے جا رہی ہیں جس میں ڈونلڈ لو کو بطور گواہ طلب کیا گیا ہے۔

اس سماعت کو 'پاکستان انتخابات کے بعد؛ ملک میں جمہوریت کے مستقبل کا جائزہ اور پاکستان، امریکہ تعلقات' کا عنوان دیا گیا ہے۔

یہ سماعت ایک ایسے موقع پر ہو رہی ہے جب نہ صرف پاکستان میں آٹھ فروری کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں بلکہ امریکہ میں بھی دو درجن سے زائد ارکانِ کانگریس نے انتخابی شفافیت پر سوال اٹھائے ہیں۔

ڈونلڈ لو نے کمیٹی میں پیشی سے قبل جمع کرائے گئے اپنے تحریری بیان میں بتایا ہے کہ وہ 31 برس قبل جب پشاور میں بطور جونیئر افسر تعینات تھے تو انہوں نے پاکستان کے انتخابات کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔

رواں برس آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات سے متعلق ڈونلڈ لو نے کہا کہ پاکستان میں انتخابات کی نگرانی کے لیے پانچ ہزار سے زائد آزاد مبصرین موجود تھے اور مبصرین کی تنظیموں نے نتیجہ اخذ کیا کہ آٹھ فروری کے انتخابات بڑی حد تک مسابقتی اور منظم تھے۔ البتہ انتخابی نتائج مرتب ہونے کے عمل میں بعض بے ضابطگیاں دیکھی گئیں۔

ڈونلڈ لو نے کہا کہ الیکشن کے روز مقامی انتخابی نگران تنظیموں نے کہا کہ انہیں ملک بھر میں آدھے سے زیادہ حلقوں پر ووٹوں کی گنتی کے عمل کی نگرانی سے روک دیا گیا جب کہ ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود حکام نے موبائل ڈیٹا سروس بند کر دی جس کا مقصد پاکستانیوں کی سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپلی کیشنز تک رسائی کو روکنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن سے قبل ہونے والے تشدد اور انتخابی زیادتیوں پر ہم نے تحفظات کا اظہار کیا تھا، کیوں کہ سیاست دانوں سمیت سیاسی اجتماعات اور پولیس پر حملے ہوئے اور کئی صحافیوں خاص طور پر خواتین صحافیوں کو سیاسی جماعتوں کے حامیوں کی جانب سے ہراساں بھی کیا گیا۔

ڈونلڈ لو نے کہا کہ کئی سیاسی رہنما خود کو مخصوص سیاسی جماعت کے ساتھ رجسٹر نہیں کرا سکے۔

ڈونلڈ لو نے کہا کہ پاکستان کے انتخابات کا مثبت پہلو یہ ہے کہ تشدد کے خطرے کے باوجود چھ کروڑ سے زائد شہریوں نے ووٹ کا حق استعمال کیا جس میں دو کروڑ سے زائد خواتین تھیں جب کہ ووٹرز نے 2018 کے انتخابات کے مقابلے میں پچاس فی صد زیادہ خواتین کو منتخب کیا۔

امریکی سفارت کار نے کہا کہ پاکستان میں ریکارڈ تعداد میں مذہبی اقلیتوں اور نوجوانوں نے پارلیمنٹ کی نشستوں پر انتخاب لڑا۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ لو وہی امریکی شخصیت ہیں جن پر سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے ایک سائفر کا حوالہ دیتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت گرانے کا الزام لگایا تھا۔ امریکہ کی جانب سے کئی بار ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

امریکی پالیسی

ڈونلڈ لو نے امورِ خارجہ کی کمیٹی کو اپنے تحریری بیان میں کہا کہ پاکستان امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے اور واشنگٹن پاکستان میں جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لیے پرعزم ہیں۔

امریکی سفارت کار کے مطابق انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کے احترام کے ساتھ پاکستان کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی میں تعاون بہت اہم ہے۔

ڈونلڈ لو نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے اور ہم پاکستان کی برآمدات وصول کرنے والے بڑوں ملکوں میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام ایک پرامن، جمہوری اور خوش حال ملک کے مستحق ہیں اور ہم اس مقصد کے لیے کام کر رہے ہیں۔

امریکی سفارت کار نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے امورِ خارجہ کی ذیلی کمیٹی کی قیادت کا شکریہ بھی ادا کیا۔

فورم

XS
SM
MD
LG