رسائی کے لنکس

logo-print

تنزانیہ: جھیل میں کشتی ڈوبنے سے 86 افراد ہلاک


جھیل وکٹوریہ کا رقبہ 70 ہزار اسکوائر کلومیٹر کے لگ بھگ ہے اور یہ رقبے کے اعتبار سے برِ اعظم افریقہ کی سب سے بڑی جھیل ہے۔

افریقہ کے ملک تنزانیہ میں ایک جھیل میں فیری کے ڈوبنے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 86 ہوگئی ہے جب کہ امدادی اہلکار مزید سیکڑوں لاپتا مسافروں کی تلاش میں مصروف ہیں۔

اطلاعات کے مطابق فیری پر 300 کے لگ بھگ مسافر سوار تھے جو جمعرات کی سہ پہر وکٹوریہ نامی جھیل میں ڈوبی۔

حکام کے مطابق فیری جھیل میں واقع سب سے بڑے جزیرے اوکیروی کی بندرگاہ سے محض 50 میٹر دور ڈوبی۔ اوکیروی کا جزیرہ تنزانیہ کی ملکیت ہے۔

علاقائی پولیس کے کمانڈر جوناتھن شانا نے ٹیلی فون پر برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ اب تک 37 افراد کو زندہ بچایا جاسکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امدادی سرگرمیوں کے لیے دیگر علاقوں سے بھی اہلکار اور رضاکار طلب کرلیے گئے ہیں جب کہ فوج اور پولیس کے غوطہ خوروں کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔

ایک اور مقامی عہدیدارکے مطابق ڈوبنے والے 86 افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں جب کہ مزید 150 سے زائد افراد کی تلاش جمعے کو دوسرے روز بھی جاری ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق فیری پر گنجائش سے زیادہ مسافر سوار تھے جب کہ اس پر تجارتی سامان بھی لدا ہوا تھا۔

جھیل وکٹوریہ کا رقبہ 70 ہزار اسکوائر کلومیٹر کے لگ بھگ ہے اور یہ رقبے کے اعتبار سے برِ اعظم افریقہ کی سب سے بڑی جھیل ہے۔

جھیل کی سرحدیں تنزانیہ کے علاوہ یوگینڈا اور کینیا سے بھی ملتی ہیں۔

اس جھیل میں اس سے قبل بھی کشتیوں کے ڈوبنے کے واقعات پیش آچکے ہیں جس کا ذمہ دار حکام گنجائش سے زیادہ وزن لادنے اور مناسب حفاظتی اقدامات نہ ہونے کو ٹہراتے آئے ہیں۔

سنہ 1996 میں تنزانیہ ہی کی حدود میں جھیل میں ایک کشتی ڈوبنے سے کم از کم 500 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG