رسائی کے لنکس

ہیم برگ: مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں، درجنوں افراد زخمی


جھڑپوں کا سلسلہ جمعرات کی شام ہیم برگ کی تاریخی مچھلی مارکیٹ سے شروع ہوا جہاں ہزاروں مظاہرین احتجاج کے لیے جمع تھے۔

جرمنی کے شہر ہیم برگ میں دنیا کے 20 بڑی معاشی طاقتوں کی نمائندہ تنظیم 'جی-20' کے سربراہی اجلاس کے خلاف احتجاج کرنے والے سرمایہ داری مخالف مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

جھڑپوں کا سلسلہ جمعرات کی شام ہیم برگ کی تاریخی مچھلی مارکیٹ سے شروع ہوا جہاں ہزاروں مظاہرین احتجاج کے لیے جمع تھے۔

پولیس حکام کے مطابق رات گئے تک جاری رہنے والی جھڑپوں اور مظاہرین کے پتھراؤ سے 75 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

مظاہرین نےکئی مقامات پر توڑ پھوڑ بھی کی اور بعض گاڑیوں اور دکانوں کو نذرِ آتش کردیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور مرچوں کا اسپرے کیا اور پانی کی بوچھاڑ کی۔

عینی شاہدین کے مطابق جھڑپوں میں کئی مظاہرین بھی زخمی ہوئے ہیں جنہیں رضاکاروں نے موقع پرہی طبی امداد فراہم کی۔

یورپی ٹیلی ویژن چینلز پر نشر کی جانے والی مظاہروں کی ویڈیوز میں گیس ماسک پہنے مظاہرین کو سڑکیں بلاک کرتے اور چھوٹی موٹی چیزوں کو آگ لگاتے دیکھا جاسکتا ہے۔

'جی-20' کا دو روزہ سربراہی اجلاس جمعے کو ہیم برگ میں شروع ہورہا ہے جس کی حفاظت کے لیے ملک بھر سے طلب کیے گئے جرمن پولیس کے 20 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

جرمنی کا یہ شمالی ساحلی شہر تاریخی طور پر بائیں بازو اور سرمایہ داری مخالف مظاہروں کا مرکز رہا ہے۔

اجلاس کی میزبان اور جرمن چانسلر آنگیل مرخیل کا موقف ہے کہ انہوں نے 'جی-20' اجلاس کی میزبانی کے لیے ہیم برگ کا انتخاب اس لیے کیا ہے تاکہ عالمی رہنماؤں کو اختلافِ رائے برداشت کرنے کی جرمن روایت سے آشنا کیا جاسکے اور وہ 'پروٹیکشن ازم' کے خلاف عام لوگوں کے جذبات جان سکیں۔

جرمن پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اجلاس کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے یورپ کے مختلف ملکوں سے لگ بھگ ایک لاکھ مظاہرین کی ہیم برگ آمد متوقع ہے۔

پولیس کے مطابق ان متوقع مظاہرین میں پر تشدد احتجاج کے لیے مشہور بائیں بازو کے نظریات کے حامل مختلف یورپی گروپوں کے آٹھ ہزار ارکان بھی شامل ہیں۔

جمعرات کو ہیم برگ میں ہونے والے مرکزی مظاہرے میں 13 ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے جن میں بائیں بازو کے پرتشدد گروہوں سے تعلق رکھنے والے سیاہ لباس پہنے لگ بھگ ایک ہزار نقاب پوش مظاہرین بھی شامل تھے جو پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں پیش پیش رہے۔

مظاہرین رواں ہفتے کی آغاز سے ہی ہیم برگ کی سڑکوں اور چوراہوں پر دھرنے دیے ہوئے ہیں اور عالمی رہنماؤں خاص طور پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی شہر میں آمد کے منتظر ہیں جن کی پالیسیوں پر یورپ کے آزاد خیال اور لبرل سیاست دان اور عوامی حلقے خاصے برہم ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG