رسائی کے لنکس

logo-print

'تیل اور گیس کے ذخائر کی دریافت کے قریب پہنچ گئے ہیں'


علی زیدی نے اُمید ظاہر کی کہ اگر یہ ذخائر دریافت ہو گئے تو پاکستان کے معاشی حالات بہتر ہو جائیں گے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے بحری اُمور نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی میں زیرِ سمندر تیل و گیس کی دریافت کے لیے کھدائی کا کام جاری ہے۔ ان کے بقول، ماہرین ہدف سے محض 200 میٹر دور ہیں اور قوم کو جلد بڑی خوش خبری ملے گی۔

تاہم، اسلام آباد میں ’وائس آف امریکہ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں علی زیدی نے خود اعتراف کیا کہ تاحال یہ واضح نہیں کہ زیرِ سمندر یہ تیل کے ذخائر ہیں یا گیس کے۔ لیکن، ان کے بقول "کچھ نہ کچھ تو ضرور ہے۔"

علی زیدی نے اُمید ظاہر کی کہ اگر یہ ذخائر دریافت ہو گئے تو پاکستان کے معاشی حالات بہتر ہو جائیں گے۔

علی زیدی کا کہنا تھا کہ اگر ان ذخائر کی دریافت کے بعد بہتر انتظامی حکمتِ عملی اختیار کی گئی تو پاکستان ناروے بن سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر پاکستان کی مثال نائیجیریا جیسی ہوگی جہاں، ان کے بقول، امیر طبقے نے قدرتی وسائل کو اپنی دولت میں اضافے کے لیے استعمال کیا۔

کیا وزیر اعظم نے قبل از وقت قوم کو اُمید دلائی؟

زیرِ سمندر قدرتی وسائل کی دریافت کے بارے میں وزیرِ اعظم عمران خان کے بیان سے متعلق ایک سوال پر علی زیدی کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم کا بیان قبل از وقت نہیں تھا۔

علی زیدی کے بقول، وزیرِ اعظم عمران خان نے قوم سے دعا کی اپیل کی تھی کیوں کہ جب کمپنیوں نے کھدائی کا کام شروع کر دیا تھا تو اس کے بعد کوئی بات چھپانے والی نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ ذخائر کی تلاش کے لیے ساڑھے پانچ ہزار میٹر تک کھدائی کرنا تھی جو اب تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

واضح رہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے مارچ کے آخر میں کہا تھا کہ کراچی میں زیرِ سمندر ایشیا کے سب سے بڑے تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہونے کا اشارہ ملا ہے اور قوم دعا کرے کہ یہ دریافت قوم کی تقدیر بدل دے۔

'گوادر اور چاہ بہار کا کوئی مقابلہ نہیں'

وی او اے سے گفتگو میں وزیر بحری امور نے کہا کہ گوادر اور ایران کی بندرگاہ چاہ بہار ایک دوسرے کی مدِ مقابل نہیں بلکہ شراکت دار ہوں گی۔

انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کے حالیہ دورۂ تہران کے دوران گوادر اور چاہ بہار کو ریلوے لائن کے ذریعے منسلک کرنے پر بھی بات ہوئی ہے۔

علی زیدی کا کہنا تھا کہ ایران ہمارا پڑوسی اور دوست ملک ہے جس کے ساتھ غلط فہمیوں کو دور کر کے تجارت اور شراکت داری کو بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

کراچی سے ایران تک فیری سروس

کراچی سے ایران تک فیری سروس شروع کرنے کے بارے میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مذہبی سیاحت بڑھ رہی ہے اور ہر سال لاکھوں زائرین مقدس مقامات کی زیارت کے لیے ایران جاتے ہیں۔

ان کے بقول، کراچی تا بندر عباس براستہ گوادر فیری سروس شروع کرنے پر اتفاق ہوا ہے اور اس حوالے سے سمری منظوری کے لیے سیکورٹی اداروں کو بجھوائی جا چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر سیکورٹی اداروں سے اس فیری سروس کو شروع کرنے کی کلیئرنس مل گئی ہے اور ایک دو باقی رہ جانے والے اداروں سے بھی جلد اجازت مل جانے کے بعد اس کا باقاعدہ آغاز کردیا جائے گا۔

ان کے مطابق، اس فیری سروس سے زائرین کو پاک ایران سرحد پر درپیش مشکلات سے نجات ملے گی اور تافتان بارڈر پر مسائل بھی کم ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ گوادر اور چاہ بہار بندرگاہوں کے درمیان صرف مسافر سروس ہی نہیں بلکہ مال بردار بحری سروس بھی شروع کرنا چاہتے ہیں۔

وزیر بحری امور نے بتایا کہ بندر عباس کے بعد دبئی اور اومان کے لیے بھی فیری سروس شروع کرنے پر کام کیا جائے گا۔

گوادر بندرگاہ پر کام کہاں تک پہنچا؟

وفاقی وزیر علی زیدی کے مطابق گوادر بندرگاہ مکمل طور پر شروع کرنے کے راستے میں تین بڑے مسائل ہیں۔ ایک تو زمینی رسائی مکمل نہیں ہوئی جب کہ بجلی اور پانی کی فراہمی بھی بڑا مسئلہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کی ساحلی پٹی پر کام کیا جائے تو وزارتِ بحری امور پاکستان کی سب سے اہم وزارت بن سکتی ہے۔ ان کے بقول، جس ملک کے پاس ایک ہزار کلومیٹر طویل ساحلی پٹی ہو وہ قرض لیا نہیں کرتے بلکہ قرض دینے والے ملک بن سکتے ہیں۔

علی زیدی نے بتایا کہ کوسٹل بیلٹ کو 'بلیو اکانومی' کہا جاتا ہے جس کا کل حجم دنیا میں 230 کھرب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ لیکن، ان کے بقول، پاکستان نے تاحال اس جانب توجہ نہیں دی۔ انہوں نے بتایا کہ ’بلیو اکانومی‘ پر ایک پالیسی پیپر تیار کیا جا رہا ہے جسے منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG