رسائی کے لنکس

logo-print

کرم ایجنسی کے سرحدی علاقے میں مبینہ امریکی ڈرون حملہ


فائل فوٹو

کرم ایجنسی کے مرکزی قصبے پاڑہ چنار میں موجود حکام نے سرحدی علاقے میں امریکی ڈرون حملے کی تصدیق کی ہے مگر وہ اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں کہ یہ حملہ پاکستانی حدود میں کیا گیا۔

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا سے ملحق قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں مبینہ عسکریت پسندوں کے ایک مرکز پر امریکی ڈرون حملہ ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کرم ایجنسی کے سرحدی علاقے غوز گڑھی میں رشید نامی مبینہ عسکریت پسند کمانڈر کے مرکز پر جمعرات کی صبح ساڑھے چار بجے امریکی ڈرون نے دو میزائل داغے۔

ڈرون حملے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کے بارے میں اطلاعات تاحال موصول نہیں ہوسکی ہیں۔

کرم ایجنسی کے مرکزی قصبے پاڑہ چنار میں موجود حکام نے ایجنسی کے سرحدی علاقے میں امریکی ڈرون حملے کی تصدیق کی ہے مگر وہ یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ یہ حملہ پاکستانی حدود میں کیا گیا۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ حملہ جس علاقے میں ہوا وہ افغانستان کی حدود میں ہے۔

رواں سال ستمبر اور اکتوبر میں امریکی ڈرون طیاروں کے پاک افغان سرحدی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے مراکز پر تواتر سے حملوں میں بعض شدت پسندوں کے اہم کمانڈروں سمیت متعدد عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG