رسائی کے لنکس

جماعت الاحرار کے کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق


عمر خالد خراسانی کی فائل فوٹو

رواں ہفتے سرحد پار افغانستان میں شدت پسندوں کے مبینہ مراکز پر امریکی ڈرون طیارون کے حملوں میں خالد خراسانی کے مارے جانے سے متعلق خبریں سامنے آ رہی تھیں۔

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے دھڑے جماعت الاحرار نے اپنے سربراہ عمر خالد خراسانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

رواں ہفتے سرحد پار افغانستان میں شدت پسندوں کے مبینہ مراکز پر امریکی ڈرون طیارون کے حملوں میں خالد خراسانی کے مارے جانے سے متعلق خبریں سامنے آ رہی تھیں۔

تاہم اب جماعت الاحرار کے ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے عمر خالد خراسانی افغانستان میں مبینہ امریکہ ڈرون سے کیے گئے میزائل حملے میں مارا گیا ہے۔

اس سے قبل رواں ہفتے ہی تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان نے درہ آدم خیل اور پشاور کے لیے اپنے کمانڈر عمر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

پاکستانی حکام کے مطابق عمر منصور دسمبر 2014ء میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کے علاوہ 2016ء کے اوائل میں چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر کیے جانے والے حملے کا بھی مرکزی منصوبہ ساز تھا۔

جماعت الاحرار نے رواں سال اور اس سے قبل ملک میں ہونے والے کئی مہلک حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں گزشتہ سال لاہور کے ایک پارک میں ایسٹر کے موقع پر کیا گیا خودکش حملہ بھی شامل تھا جس میں کم از کم 75 افراد مارے گئے تھے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ عمر خالد خراسانی کے مارے جانے سے پاک امریکہ تعاون اور اعتماد میں بھی مزید اضافہ متوقع ہے۔

پاکستانی طالبان کے دو اہم کمانڈروں کی ہلاکت کی تصدیق ایسے وقت سامنے آئی ہے جب آئندہ ہفتے امریکہ کے وزیر خارجہ پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔

پاکستان افغان حکومت اور وہاں تعینات بین الاقوامی افواج سے افغانستان کی سرزمین پر موجود پاکستانی طالبان بشمول جماعت الاحرار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ کابل اور حال ہی میں امریکی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر پاکستانی علاقے کرم ایجنسی سے امریکی خاتون کیٹلن کمولن، اُن کے کنیڈین شوہر اور تین بچوں کی بازیابی کے بعد باہمی رابطوں اور تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔

رواں ہفتے ہی پاکستانی فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستانی سرحد سے ملحق افغان صوبوں پکتیا اور خوست میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کیا جا رہا ہے جس میں متعدد عسکریت پسندوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ کابل کے بعد فورسز کے درمیان تعاون میں اضافہ ہوا ہے اور افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج نے خوست اور پکیتا میں کارروائی سے متعلق پاکستان سے بروقت معلومات کا تبادلہ بھی کیا، جس کی وجہ سے پاکستانی فوج سرحد کی اپنی جانب چوکس ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG