رسائی کے لنکس

پاکستانی فوج کا اس سال 10 واں بھارتی جاسوس ڈرون مار گرانے کا دعویٰ


کنٹرول لائن کے قریب مار گرایا جانے والا مبینہ بھارتی ڈرون

پاکستان کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے والا ایک اور بھارتی ڈرون (کواڈکوپٹر) مار گرایا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ رواں سال سرحدی خلاف ورزی پر گرایا جانے والا بھارت کا یہ دسواں ڈرون ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ایک بیان کے مطابق بھارتی جاسوس ڈرون ایل او سی کے پانڈو سیکٹر میں گرایا گیا۔

پاکستان کے مطابق ڈورن لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 200 میٹر تک پاکستان کی حدود میں داخل ہو گیا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال کے 7 ماہ میں اب تک پاکستانی فوج نے بھارت کے دس کواڈ کاپٹرز کو نشانہ بنایا ہے۔

اس سے قبل 28 جون، 5 جون، 27 اور 25 مئی کو بھی پاکستانی فوج نے ایل او سی پر بھارت کے کواڈ کاپٹرزمارگرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ 28 جون کو بھارتی کواڈ کاپٹر نکرون سیکٹر میں پاکستانی حدود میں 700 میٹر اندر تک داخل ہوا تھا۔

پاکستان کی طرف سے کواڈ کوپٹر گرانے کے حوالے سے دعویے پر بھارت کی جانب سے بھی ایسے ہی دعوے کیے جاتے ہیں اور رواں سال 20 جون کو بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی فوج نے ایک پاکستانی ڈرون کو تباہ کر دیا، جس کے ساتھ مختلف گنز اور گرینیڈز بھی لگے ہوئے تھے۔ بھارتی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ کہوٹہ پنسر کے علاقہ میں یہ ڈرون گرایا گیا جس کے ساتھ گنز اور گرینیڈز لگے ہوئے تھے۔

لائن آف کنٹرول پر جاسوسی

پاکستان کی جانب سے جو کواڈ کاپٹرز بتائے گئے ہیں وہ عام طور پر امریکی ساختہ جی جے آئی کمپنی کے بنے ہوتے ہیں جنہیں عام طور پر فلم سازی یا شوقیہ فوٹوگرافی وغیرہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کی رینج عام طور پر 5 سے 7 کلومیٹر تک ہوتی ہے۔

لیکن پہاڑی علاقوں میں بعض اوقات ان کی رینج اور تیز ہوا کی وجہ سے اڑنے کی صلاحیت میں کمی ہو جاتی ہے۔ انہیں پروفیشنل ڈرون کہا جاتا ہے لیکن فوجی جاسوسی کے لیے ملٹری ڈرون سے یہ مختلف ہیں۔

پاکستانی ڈرون

پاکستان کے پاس جاسوسی کے لیے پاکستان فضائیہ کے تیار کردہ براق ڈرون موجود ہیں۔ اس ڈرون کو نیسکام کی مدد سے بنایا گیا ہے اور سال 2009 سے یہ پاکستان کے استعمال میں ہے۔

پاکستان کا یہ ڈرون ملٹری مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور 7 ستمبر 2015 میں اسے پہلی مرتبہ شمالی وزیرستان کی شوال ویلی میں دہشت گردوں کے خلاف استعمال کیا گیا اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

لائن آف کنٹرول کی صورت حال

لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور پاکستان کے مطابق گذشتہ ہفتے 20 جولائی کو بھی بھارتی افواج کی فائرنگ سے باگسر سیکٹر میں ایک نوجوان شدید زخمی ہوا تھا۔ بھارت بھی پاکستان پر لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتا ہے اور بھارتی فوج کے مطابق گذشتہ ہفتے پاکستان فوج کی فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستان نے گذشتہ ہفتے صحافیوں کے ایک وفد کو لائن آف کنٹرول کا دورہ بھی کروایا تھا اور چری کوٹ سیکٹر میں مبینہ بھارتی فائرنگ سے تباہ ہونے والے گھر بھی دکھائے تھے۔ پاکستان کے مطابق سال 2015 سے اب تک بھارت کی طرف سے 11ہزار 815 مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی گئی جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG