رسائی کے لنکس

logo-print

ڈاکٹر عثمان اور ارشد محمود کو پھانسی دے دی گئی


عقیل عرف ڈاکٹر عثمان، جی ایچ کیو، سری لنکن کرکٹ ٹیم اور فوج کے سرجن جنرل پر حملوں جب کہ ارشد محمود سابق صدر جنرل پرویز مشرف پر حملے میں ملوث تھا۔

سزائے موت پانے والے دہشت گردی کے مجرموں کی سزاوٴں پر عملدرآمد پر پابندی ختم کرنے کے حکومتی اعلان کے بعد، جمعے کو تقریباً چھ سال بعد، دو مجرموں کو پھانسی دے دی گئی۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق، جمعے کو مقامی وقت کے مطابق رات نو بجے فیصل آباد کی ڈسٹرکٹ جیل میں عقیل عرف ڈاکٹر عثمان اور ارشد محمود کو پھانسی دے دی گئی۔

ڈاکٹر عثمان پاکستانی فوج کے شعبہٴصحت کا سابق اہلکار تھا اور حکام کے مطابق وہ مارچ 2009 میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے اور اکتوبر 2009 میں راولپنڈی میں فوج کے صدر دفتر جی ایچ کیو پر حملے میں ملوث تھا۔

جی ایچ کیو حملے میں فوج کے ایک بریگیڈیئر سمیت 11 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے جب کہ حملہ کرنے والے دس میں سے نو دہشت گردوں کو سکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا تھا۔ اس دوران ہونے والی کارروائی میں ڈاکٹر عثمان کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

35 سالہ ڈاکٹر عثمان پر 2008ء میں راولپنڈی میں ہی فوج کے سرجن جنرل لیفٹیننٹ جنرل مشاق بیگ پر ہونے والے خودکش حملے کی منصوبہ بندی میں بھِی شامل تھا۔

ارشد محمود 2003ء میں فوجی صدر جنرل پرویز مشرف پر ہونے والے ناکام قاتلانہ حملے میں ملوث بتایا جاتا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں اس وقت پھانسی دیے جانے کا یہ پہلا واقعہ ہے جب کہ اس سے قبل مجرموں کو علی الصبح پھانسی دی جاتی تھی۔

حکام کے مطابق یہ پھانسیاں دینے کے لیے جیل کے قواعد و ضوابط میں ترمیم کی گئی ہے اور اب ڈیتھ وارنٹ جاری ہونے کے بعد کسی بھی وقت پھانسی دی جاسکے گی۔

پاکستان کی جیلوں میں قید سزائے موت کے مرتکب دہشت گردوں کو پھانسی دیے جانے کا سلسلہ منگل کو پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردانہ حملے کے تناظر میں حکومتی فیصلے کے بعد شروع ہوا ہے۔

اس حملے میں 132 بچوں سمیت کم ازکم 148 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ملک کی حالیہ تاریخ کے اس بدترین دہشت گردانہ حملے کے بعد سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی پر اتفاق کیا تھا۔

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے جمعرات کو چھ دہشت گردوں کے بلیک وارنٹ یعنی موت کے پروانے پر دستخط کیے تھے۔ ان دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں کی طرف سے موت کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

علاوہ ازیں، ملک کی مختلف جیلوں میں سزائے موت کے مرتکب دہشت گردوں کو پھانسیاں دیے جانے کے لیے بھی حکام کے بقول انتظامات اور قانونی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔

کراچی میں بھی کل سے سزائے موت پر عمل آمد کے امکانات

فیصل آباد کے بعد سینٹرل جیل کراچی، ملیر اور سکھر جیلوں میں بھی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق دہشت گردی کے مقدمات میں سزا یافتہ مجرموں کی سزا موت پر عمل درآمد ہفتے سے شروع ہو رہا ہے۔

ڈسٹرکٹ آفیسر ایف سی، احمد جمال کے حوالے سے زیرگردش خبروں میں کہا جا رہا ہے کہ ایل ایم جی اور دیگر جدید اسلحے سے لیس پیرا ملٹری کے اہلکاروں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے اور انہیں کسی بھی ناخوش گوار صورتحال سے نمنٹے کے لئے موقع پر ہی ملزموں کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فاٹا میں مصروف عمل خصوصی کمانڈوز کی بھاری نفری کو سینٹرل جیل کراچی، ملیر اور سکھر جیلوں میں تعینات کردیا گیا ہے۔

سندھ کے جیل حکام کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ اسوقت سندھ کی جیلوں میں دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت پانے والے افراد کی تعداد 450سے زائد ہے۔ سندھ میں سنہ 2008 میں آخری مجرم کو پھانسی کی سزا ہوئی تھی۔

حکام کے مطابق، کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے مجرمان میں عطااللہ عرف قاسم، محمد اعظم، بہرام خان، شفقت حسین، جلال موریجو اور عبدالرحیم شامل ہیں۔ انہیں پہلے مرحلے میں پھانسی دیئے جانے کا امکان ہے۔

XS
SM
MD
LG