رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: ایک اور اعلیٰ عہدیدار کا قتل، ایک ماہ میں 67 افراد ہلاک


کراچی کے لئے اپریل کا مہینہ بھی اچھا ثابت نہیں ہوا تھا۔ یکم اپریل سے یکم مئی تک کئی اہم اور ہائی پروفائل شخصیات سمیت 67 افراد گولیوں کا نشانہ بنے

کراچی کے لئے مئی کے مہینے کا آغاز بھی اچھے انداز میں نہیں ہوا اور پہلے ہی دن ایک اور اعلیٰ سرکاری عہدیدار، ڈی ایس پی عبدالفتح سانگری، ان کے گارڈ اور ڈرائیور کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا۔

واقعہ جمعہ کی صبح گلشن حدید کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب محافظ اور ڈرائیور کے ہمراہ، ڈی ایس پی عبدالفتح سانگری کار میں سوار ہوکر اپنے دفتر جارہے تھے۔

قائم مقام ایس ایس پی ملیر پیر محمد شاہ نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ عبدالفتح بحیثیت ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بن قاسم تھانے میں تعینات تھے۔ انہیں دفتر جاتے ہوئے نامعلوم مسلح افراد نے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے اس قدر اندھا دھند فائرنگ کی کہ پولیس عہدیداروں کو سنبھلنے کا بھی موقع نہیں مل سکا اور تینوں نے طبی امداد ملنے سے پہلے ہی دم توڑ دیا۔

عبدالفتح سانگری کی راوٴ انوار کی پریس کانفرنس میں موجودگی
ڈی ایس پی عبدالفتح سانگری جمعرات کی شام ایس ایس پی ملیر راوٴ انوار کی اس پریس کانفرنس میں بھی موجود تھے، جس میں انہوں نے دوملزمان کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کرکے میڈیا کے سامنے پیش کیا تھا۔ راوٴ انوار کو پریس کانفرنس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد برطرف کردیا گیا اور پیر محمد شاہ کو قائم مقام ایس ایس پی ملیر کا چارج دے دیا گیا تھا۔

اراکین قومی اسمبلی کی مذمت
پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی میر منور تالپور، نواب یوسف تالپور اور میر شبیر علی بجارانی نے سابق ڈی ایس پی عبدالفتح سانگری کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ جمعہ کو جاری ایک بیان میں ان افراد کا یہ بھی کہنا تھا اس طرح کی ’بزدلانہ کارروائیوں‘ سے دہشت گرد شہر میں خوف کی فضاء پیداکرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ کبھی اپنے ان مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کی کمر توڑ رکھی ہے۔

یکم اپریل سے یکم مئی تک 67 افراد ہلاک
کراچی کے لئے اپریل کا مہینہ بھی اچھا ثابت نہیں ہوا تھا۔ یکم اپریل سے یکم مئی تک کئی اہم اور ہائی پروفائل شخصیات سمیت 67 افراد اندھی گولیوں کا نشانہ بنے۔ ان میں غیرسرکاری تنظیم ٹی ٹو ایف کی سربراہ سبین محمود، کراچی یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر وحید الرحمٰن اور ایس ایچ او پریڈی تھانہ اعجاز خواجہ شامل ہیں، جبکہ آج ڈی ایس پی عبدالفتح سانگری، ان کے گارڈ اور ڈرائیور کو نشانہ بنایا گیا۔

واقعات کی بنیاد پر جمع کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق ان افراد کو شہر کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ، اغوا کے بعد قتل، لاشیں ملنے اور قتل و غارت گری میں جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔

XS
SM
MD
LG