رسائی کے لنکس

آرٹیکل 370 کے خاتمے کا ایک سال: 'خوف وخدشات ختم کرنا بھارتی حکومت کا کام ہے'


فائل فوٹو
فائل فوٹو

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ سال پانچ اگست کو جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے بعد اس کی معیشت زوال پذیر ہے۔ جس کی وجہ سے شورش زدہ علاقے کا کاروباری طبقہ پریشان ہے اور حکومت سے فوری 'اکنامک بیل آؤٹ پیکج' کی توقع کر رہا ہے۔

دوسری جانب بعض سیاسی جماعتوں کا الزام ہے کہ بھارت کی حکومت جان بوجھ کر کشمیر کو اقتصادی لحاظ سے کمزور اور اس کے عوام کو محتاج بنا رہی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کی معیشت کو موجودہ بحرانی کیفیت سے نکالنے کے لیے حکومت کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کر رہی۔ اس لیے لوگ یہ اخذ کر رہے ہیں کہ انہیں سیاسی وجوہات کے باعث کمزور کیا جا رہا ہے۔

'لوگوں کو معاشی معاملات سے متعلق کافی خدشات ہیں'

'یونیورسٹی آف کشمیر' کے شعبۂ سیاسیات کے سابق پروفیسر نور احمد بابا کا کہنا ہے کہ لوگوں کو معاشی معاملات سے متعلق کافی خدشات ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تقریباً ایک سال سے یہاں کے لوگوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کی اقتصادیات اور تعلیم وغیرہ کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ تاکہ وہ حکومت کی اطاعت قبول کریں۔ تاہم ان کے بقول انہیں نہیں لگتا کہ ایسا ہو گا۔

شورش کے سبب معیشت تباہ

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی معیشت گزشتہ تین دہائیوں سے مشکلات سے دو چار ہے۔ تشدد اور مخدوش سیاسی صورتِ حال کے سبب سیاحت کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

آرٹیکل 370 کے خاتمے کا ایک سال: کشمیر کے فن کاروں پر کیا گزری؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:03 0:00

ماہرین کے بقول اگرچہ باغبانی اور دستکاری کے شعبہ جات اپنا وجود برقرار رکھنے میں بڑی حد تک کامیاب رہے تھے۔ تاہم پہلے ستمبر 2014 میں آنے والے سیلاب اور پھر گزشتہ پانچ اگست کو بھارت کی حکومت کے اقدام کسر پوری ہو گئی ہے۔ جب کہ کرونا وائرس کے باعث رواں سال مارچ سے عائد پابندیوں سے بھی معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔

کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز’ کی گزشتہ سال دسمبر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 5 اگست 2019 کے بعد نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے صرف وادیٔ کشمیر کے 10 اضلاع کو 4 ماہ کے دوران لگ بھگ 18 ہزار کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔

چیمبر کی رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں تقریباً ختم ہو گئی ہیں اور کوئی بھارتی یا غیر ملکی سیاح وادی کا رُخ نہیں کر رہا جس سے یہ خسارہ بڑھ گیا ہے۔

ایک سال میں 40 ہزار کروڑ روپے کا نقصان

کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر شیخ عاشق نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ گزشتہ برس پانچ اگست کے بعد سے عام کاروباری سرگرمیاں متاثر ہیں اور سیاحت کا شعبہ مکمل طور پر ٹھپ ہو گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وادیٔ کشمیر کے 10 اضلاع میں ایک سال کے دوران 40 ہزار کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔

شیخ عاشق کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی مجموعی پیداوار میں کشمیر کا حصہ 0.77 فی صد ہے۔

ان کے بقول ہینڈی کرافٹس کا شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔

صرف سرکاری ملازمین کا روزگار محفوظ

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں پابندیوں کی وجہ سے عام آدمی کے لیے معاش کمانا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔

جموں و کشمیر میں بے روزگاری کی نئی لہر
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:00 0:00

یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور، دکان دار، چھوٹے تاجر، ٹرانسپورٹرز، میوہ باغات کے مالکان اور ان میں کام کرنے والے مزدور، روایتی دستکاری کی صنعت سے وابستہ کاریگر اور تاجر، ہوٹلز اور ہاؤس بوٹ مالکان اور ان کا عملہ، ٹؤر آپریٹرز اور سیاحت کے شعبے سے منسلک دوسرے افراد بحرانی کیفیت کی وجہ سے اپنا روزگار کھو چکے ہیں اور مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ایسی صورتِ حال میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اگر کوئی بچا ہے تو وہ سرکاری ملازمین ہیں۔

کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر شیخ عاشق کا کہنا ہے کہ پانچ اگست 2019 کے اقدامات سے پہلے اور اس کے بعد آنے والی رکاوٹوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مالیاتی اداروں سے قرضہ لینے والے قرضہ واپس کرنے کی استطاعت کھو چکے ہیں۔ جب کہ کاروباری اداروں کی ایک بڑی تعداد دیوالیہ ہو گئی ہے۔

حکومت کی اقتصادی پیکج فراہم کرنے کی یقین دہانی

رواں سال کے شروع میں جموں و کشمیر کی کاروباری برادریوں کے نمائندوں نے بھارت کے وزیرِ داخلہ امیت شاہ، وزیرِ خرانہ نرملا سیتھا رمن اور جموں و کشمیر کے لیفٹننٹ گورنر گریش چندر مرمو سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں میں معاشی بیل آؤٹ پیکج دینے کی درخواست کی تھی۔

شیخ عاشق کا جو ان وفود میں شامل تھے، کہنا تھا کہ انہیں یقین دلایا گیا کہ معیشت کو تباہی سے بچانے کے لیے بہت جلد ایک جامع منصوبے کے تحت اقدامات کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔

ان کے بقول لیکن ایسا لگتا ہے کہ کرونا وائرس نے حکومت کے ممکنہ اقدامات میں رکاوٹ پیدا کر دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ اب بھی پر امید ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی حکومت کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ اگر فوری اکنامک بیل آؤٹ پیکج نہیں دیا جاتا تو جموں و کشمیر بالخصوص وادیٔ کشمیر کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔

پاکستان بھارت کشیدگی سے کشمیر میں پھلوں کے تاجر متاثر
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:50 0:00

'یونیورسٹی آف کشمیر' کے شعبۂ سیاسیات کے سابق پروفیسر نور احمد بابا کا کہنا تھا کہ کشمیر کے بہت سے لوگوں کو پختہ یقین ہے کہ حکومت انہیں سیاسی طور پر قابلِ رحم، ثقافتی طور پر بانجھ اور معاشی طور پر منحصر بنا رہی ہے۔

ان کے بقول اس خوف اور ان خدشات کو ختم کرنا بھارت کی حکومت کا کام ہے۔

دوسری جانب لیفٹننٹ گورنر کشمیر گریش مرمو کا کہنا ہے کہ حکومت نے مقامی معیشت کو فروغ دینے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور جموں و کشمیر کی مجموعی ترقی کو یقینی بنانے کے اقدامات پہلے ہی شروع کر دیے ہیں۔

گریش مرمو کے ایک معاون کے مطابق جموں و کشمیر انتظامی کونسل کے ایک حالیہ اجلاس میں علاقے کی معیشت کو بحال کرنے اور کرونا وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والی سست روی سے نمٹنے کے لیے ایک امدادی پیکج کی منظوری دی گئی ہے۔

معاون نے مزید بتایا کہ اس پیکج کی تفصیلات عن قریب منظرِ عام پر لائی جائیں گی۔

ان کے بقول اس سے پہلے وفاقی حکومت نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ملک میں نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن سے پیدا شدہ اقتصادی اور معاشی بحران سے باہر آنے کے لیے 20 لاکھ کروڑ روپے کے پیکج کا اعلان کیا تھا۔ لیکن جموں و کشمیر حکومت نے یہ ضرورت سمجھی کہ یہاں ایسے لوگوں خاص طور پر قرض دہندگان، کی مالی مدد کی جائے جو مرکزی حکومت کے پیکج میں شامل نہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کی انتظامیہ آئے دن کچھ ایسے اقدامات بھی کرتی رہتی ہے جس سے لوگوں میں یہ تاثر جڑ پکڑ رہا ہے کہ انہیں اقتصادی طور پر کمزور کرنے کی دانستہ کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ کشمیر میں تاریخ میں پہلی مرتبہ مختلف دریاؤں سے ریت نکالنے کے 60 فی صد سے زائد ٹھیکے غیر مقامی افراد اور اداروں کو دیے گئے ہیں۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ٹھیکے بھارت کی سپریم کورٹ اور جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ‘ای ٹینڈرنگ’ کے ذریعے صاف و شفاف طور پر الاٹ کیے گئے ہیں۔

  • 16x9 Image

    یوسف جمیل

    یوسف جمیل 2002 میں وائس آف امریکہ سے وابستہ ہونے سے قبل بھارت میں بی بی سی اور کئی دوسرے بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نامہ نگار کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ انہیں ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں اب تک تقریباً 20 مقامی، قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا جاچکا ہے جن میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی طرف سے 1996 میں دیا گیا انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG