رسائی کے لنکس

logo-print

الیکشن کمیشن کا سینیٹ انتخابات ماضی کی طرز پر کرانے کا فیصلہ


فائل فوٹو

سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے صدارتی ریفرنس پر رائے کے بعد الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات ماضی کی طرح کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کی وجہ وقت کی کمی بتائی جاتی ہے۔

سینیٹ انتخابات کے لیے اراکینِ صوبائی و قومی اسمبلی تین مارچ کو پولنگ میں حصہ لیں گے۔

سینیٹ انتخابات سے متعلق اعلیٰ عدالت نے پیر کو صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے میں کہا تھا کہ سینیٹ انتخآبات آئین و قانون کے مطابق ہوں گے اور بیلٹ پیپر کا خفیہ رکھنا حتمی نہیں ہے۔

الیکشن کمیشن نے اعلیٰ عدالت کے فیصلے کے مطابق سینیٹ انتخابات میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو آئندہ کے لیے لائحہ عمل بنائے گی۔

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر کہا ہے کہ کمیشن حیران کن طور پر اصلاحات کو اگلے انتخابات کے لیے مؤخر کر رہا ہے۔ لیکن سپریم کورٹ کا فیصلہ بہرحال مختلف رائے دیتا ہے۔

سپریم کورٹ کا اپنی رائے میں کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات آئین اور قانون کے مطابق ہوں گے۔ بیلٹ پیپر کا خفیہ رکھنا حتمی نہیں ہے۔

تین مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ کی رائے میں کوئی واضح ہدایت نہ ہونے کے باعث الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ماضی کے طریقہ کار کے مطابق سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے ہی الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ سینیٹ انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔

کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو تاحال سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پر تفصیلی رائے موصول نہیں ہوئی۔ تاہم کمیشن نے سپریم کورٹ کی رائے پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کمیشن کے مطابق سپریم کورٹ کی رائے کی روشنی میں تین رکنی کمیٹی بنا دی ہے جو نادرا، ایف آئی اے اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی سے مدد لے گی۔

ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق کمیٹی چار ہفتوں میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

اس بارے میں حکومتی وزیر فواد چوہدری نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے سینٹ کے انتخابات میں ووٹوں کی خرید و فروخت اور کرپشن روکنے کے لیے ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ لیکن حیران کن طور پر وہ ان اصلاحات کو اگلے انتخابات کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔

فواد چوہدری کے مطابق سپریم کورٹ کا فیصلہ بہرحال مختلف رائے دیتا ہے لیکن ہمارے لیے دونوں ادارے محترم ہیں۔

سینیٹ انتخابات پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں سینیٹ انتخابات ماضی کے طریقۂ کار کے مطابق ہوں گے۔ پارلیمان سے ہی ایوانِ بالا کے الیکشن کا طریقۂ کار تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

حزبِ اختلاف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے کٹھ پتلی حکمران اتحاد کے فرار کا آخری راستہ بھی بند کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کی رائے کی من مانی تشریح کرنے والے اب منہ چھپا کر روئیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سے نامراد لوٹنے کے بعد الیکشن کمیشن کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی اور ادارے پر دباؤ ڈالا گیا۔ اگر قابل شناخت ووٹ کے ذریعے انتخابات نہ ہوئے تو توہین عدالت ہوگی۔

مولا بخش چانڈیو کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ایک آئینی ادارے کے کام میں مسلسل مداخلت کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن الیکشن کمیشن کے فیصلے سے جمہوریت کی جیت اور کٹھ پتلی راج کو شکست ہوئی ہے۔

سپریم کورٹ کی رائے کیا تھی؟

صدر عارف علوی نے سپریم کورٹ سے سینیٹ انتخابات کے انعقاد سے متعلق آئینی تشریح کے لیے ایک ریفرنس بھجوایا تھا جس پر سپریم کورٹ نے پیر کو اپنی رائے دی تھی۔

سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں قرار دیا تھا کہ سینیٹ الیکشن آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت ہوں گے، یہ آرٹیکل خفیہ بیلٹ کی تشریح کرتا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں قرار دے چکی ہے کہ سیکریسی کبھی بھی مطلق نہیں ہوسکتی اور ووٹ ہمیشہ کے لیے خفیہ نہیں رہ سکتا۔

ووٹنگ میں کس حد تک سیکریسی ہونی چاہیے یہ تعین کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔

اس رائے کے بعد صدر کی طرف سے بھجوایا گیا ریفرنس مسترد ہوگیا تھا۔

اس رائے کے حوالے سے سیاسی جماعتیں اور وکلا مختلف دلائل دے رہے ہیں۔ بعض وکلا کا کہنا ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق ہونے کا مطلب کہ اوپن بیلٹ کا قصہ ختم ہو گیا جب کہ بعض وکلا اور سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے کہہ دیا کہ ووٹ ہمیشہ کے لیے خفیہ نہیں رہ سکتا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG