رسائی کے لنکس

logo-print

یوسف رضا گیلانی کا بیان، کیا پاکستان میں اب اسٹیبلشمنٹ واقعی غیر جانب دار ہے؟


پاکستان کی حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے سینیٹ یعنی ایوان بالا کے انتخابات میں مقتدر حلقوں کے غیر جانب دار ہونے کے بیانات دیے ہیں جس کے بعد اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کی قربتوں سے متعلق قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

سیاسی رہنماؤں کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ سے متعلق رائے میں تبدیلی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حال ہی میں پاکستان کی فوج کے ترجمان نے فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹنے پر زور دیا تھا۔

اس سے قبل حزبِ اختلاف کی جماعتیں فوج کو سیاست میں عدم مداخلت اور حکومت کی حمایت سے دست بردار ہونے کے مطالبے کرتی رہی ہیں۔

فوج کی جانب سے سیاست میں ملوث نہ کرنے اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے مقتدر قوتوں کے غیر جانب دار دکھائی دینے کے بیانات نے تین مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات کو دلچسپ اور مزید اہم بنا دیا ہے۔

ایسے میں سیاسی و دفاعی تجزیہ کار مقتدر قوتوں کی سیاست میں عدم مداخلت کو جمہوریت اور اداروں کے لیے مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

سابق وزیرِ اعظم اور اسلام آباد سے سینیٹ کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کہتے ہیں کہ "نظر آرہا ہے کہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ مکمل طور پر غیر جانب دار ہے۔"

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثنااللہ بھی سمجھتے ہیں کہ حالیہ ضمنی انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ نے غیر جانب داری کا مظاہرہ کیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں اسکینڈل پر مبنی دھاندلی کے حوالے سے پارٹی کی تحقیقات میں اسٹیبلشمنٹ کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

پاکستان کی حزبِ اختلاف ملکی سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت اور موجودہ حکومت کی سیاسی طور پر پشت پناہی کی بات کرتی رہی ہے۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے حکومت مخالف تحریک چلا رکھی ہے اور اپوزیشن رہنما یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ فوج حکومت کی پشت پناہی سے دست بردار ہو جائے۔

حزبِ اختلاف رہنماؤں کے اسٹیبلشمنٹ کے کردار میں تبدیلی کے حوالے سے حالیہ بیانات کے بعد یہ بحث کی جارہی ہے کہ کیا مقتدر قوتیں سیاسی معاملات میں غیر جانب دار ہو گئی ہیں اور اگر ایسا ہے تو اس کے سینیٹ انتخابات کے نتائج پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا یہ گلہ رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ حکمراں جماعت تحریک انصاف کی حمایت کر رہی ہے۔
پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا یہ گلہ رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ حکمراں جماعت تحریک انصاف کی حمایت کر رہی ہے۔

تجزیہ کار لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کہتے ہیں کہ سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کے بعد فوج نے بہت سوچ و بچار سے سیاست میں دخل نہ دینے کا ایک سخت فیصلہ لیا جو کہ ان کی نظر میں فوج پر تنقید کی روایت کو روکنے کے لیے اچھا فیصلہ تھا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ فوج کی سیاست میں مداخلت کا معاملہ 2018 کے عام انتخابات سے شروع ہوا تاہم فوج بار بار یہ کہہ رہی ہے کہ ہماری سیاست میں دخل اندازی نہیں ہے۔

امجد شعیب کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے جس قدر فوج کو سیاست میں ملوث کیا اور عسکری قیادت پر الزام تراشی کی ایسا ماضی میں کبھی نہیں ہوا جس سے فوج کے مورال پر بھی منفی اثر پڑا اور سیاسی قیادت کی اپنی عزت متاثر ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق گورنر محمد زبیر جب آرمی چیف کے پاس مریم نواز کے مقدمات کے حوالے سے گئے تو جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کیا کہ یہ معاملات عدالت میں ہیں اور فوج اس میں کوئی مدد نہیں کر سکتی۔

امجد شعیب نے کہا کہ فوج براہ راست سیاست میں ملوث نہیں ہوتی البتہ انٹیلی جنس کی سطح پر ایسی مداخلت ہو سکتی ہے اور اس حوالے سے فوج نے انفرادی طور پر ملوث افراد کو روکا ہو گا ان کے خلاف کارروائی کی ہدایات دی گئی ہوں گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوج کے سیاست میں مداخلت کا تاثر زائل ہونے سے سیاسی جماعتوں کی اداروں سے محاذ آرائی کے ماحول کا خاتمہ ہوسکے گا۔

تجزیہ کار اور جامعہ پنجاب میں سیاسیات کے پروفیسر حسن عسکری کہتے ہیں کہ فوج کی طرف سے یہ بیانات کہ سیاست میں کوئی کردار نہیں اور منتخب حکومت کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں یہ روایتی پوزیشن ہے لیکن حقیقت حالات و واقعات کے تحت بدلتی رہتی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ حزبِ اختلاف رہنماؤں کے فوج کے سیاست میں کردار کے حوالے سے حالیہ بیانات مستقل پالیسی یا حقیقت کی بنیاد پر نہیں بلکہ وقتی سیاسی ضروریات کی بنیاد پر ہیں۔

حزبِ اختلاف کی جماعتیں کہتی ہیں کہ وہ اُن کی تحریک کا مقصد اسٹیبلشمنٹ کا سیاست سے کردار ختم کرنا ہے۔
حزبِ اختلاف کی جماعتیں کہتی ہیں کہ وہ اُن کی تحریک کا مقصد اسٹیبلشمنٹ کا سیاست سے کردار ختم کرنا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر سینیٹ انتخابات کے نتائج حزبِ اختلاف کی توقع کے برعکس آئے تو ان کے فوج کے سیاست میں کردار کے حوالے سے بیان بھی بدل سکتے ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ کے کردار میں تبدیلی کے حزبِ اختلاف رہنماؤں کے بیانات کے بعد سینیٹ کے حوالے سے انتخابی مہم میں حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے تیزی دیکھائی دیتی ہے۔

تجزیہ کار و صحافی سلیم بخاری کہتے ہیں کہ یوسف رضا گیلانی پاکستان کے وزیرِ اعظم رہے ہیں اور حزبِ اختلاف کے مشترکہ امیدوار کے طور پر آنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ سے متعلق اُن کا بیان معنی خیز ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج کے ترجمان بھی یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہمیں سیاست میں نہ گھسیٹا جائے تو ان بیانات کی تواتر سے ضرورت کیوں محسوس ہوئی اس کی وجوہات بھی سمجھ میں آتی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ بدل ضرور گیا ہے جو کہ متوقع نتائج کو بدل سکتا ہے۔

سلیم بخاری نے کہا کہ وہ یہ اس لیے بھی کہہ رہے ہیں کیوں کہ ماضی میں چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریکِ عدمِ اعتماد اور بجٹ کی منظوری سے لے کر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی قانون سازی تک سب کام کسی اور نے عمران خان کو کر کے دیے تھے۔

سلیم بخاری کہتے ہیں کہ اب چوں کہ پہلی مرتبہ یہ تاثر ابھرا ہے کہ حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل نہیں ہے تو وزیرِ اعظم کراچی، لاہور اور پشاور کے طوفانی دورے کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ سرکاری حلقوں میں ایک اضطراب کی سی صورتِ حال ہے جس کے لامحالہ اثرات سینیٹ انتخابات پر مرتب ہوں گے۔

حزب اختلاف رہنماؤں کی جانب سے فوج کے سینیٹ انتخابات میں غیر جانب دار دیکھائی دینے کے بیانات کے بعد حکمران جماعت ایوان بالا میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے متحرک دیکھائی دیتی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان اپنی جماعت کی حکومت والے خیبر پختونخوا اور پنجاب کے اراکین اسمبلی سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ تاہم پیر کو پشاور میں خیبر پختونخوا کے اراکین اسمبلی سے وزیر اعظم کی ہونے والی ملاقات میں متعدد اراکین کی عدم شرکت نے حکمران جماعت کے اراکین کے درمیان اختلافات کی خبروں کو ہوا دی ہے۔

تجزیہ کار یہ اندازے لگا رہے ہیں کہ حکومتی اراکین کی ناراضگی کے باعث حزب اختلاف کے اتحاد کو سینیٹ میں اکثریت برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت نے اسی خدشے کے پیش نظر سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے کے لیے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کررکھا ہے جس پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں آسکا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق انتخابات اوپن بیلٹ سے ہونے کی صورت میں حکومت کو اپنی متوقع نشستیں حاصل کرنے میں آسانی رہے گی۔

تاہم عمران خان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر انتخابات خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوئے تو حکومت کی اندازہ لگائی گئی نشستوں میں اضافہ ہوگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG