رسائی کے لنکس

logo-print

مصر میں متنازع آئینی ترامیم پر ریفرنڈم کا آغاز


ترامیم کی منظوری کی صورت میں صدر عبدالفتاح السیسی کے لیے 2030ء تک برسرِ اقتدار رہنے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

مصر کے آئین میں مجوزہ ترامیم پر کرائے جانے والے ملک گیر ریفرنڈم کا آغاز ہوگیا ہے جس میں تین روز تک پولنگ جاری رہے گی۔

ترامیم کی منظوری کی صورت میں صدر عبدالفتاح السیسی کے لیے 2030ء تک برسرِ اقتدار رہنے کی راہ ہموار ہوجائے گی جب کہ اقتدار پر فوج کی گرفت مزید مضبوط ہوگی۔

ریفرنڈم میں تمام آئینی ترامیم کے بآسانی منظور ہوجانے کا امکان ہے۔ لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی تعداد صدر السیسی کا مقبولیت کا تعین کرے گی جو 2016ء میں سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بعد سے روبۂ زوال ہے۔

صدر السیسی پہلی بار 2014ء اور دوسری بار 2018ء میں چار سال کی مدت کے لیے صدر منتخب ہوئے تھے۔ سن گزشتہ سال کے صدارتی انتخاب میں ٹرن آؤٹ41 فی صد رہا تھا جس میں انہیں 97 فی صد ووٹ ملے تھے۔ لیکن حزبِ اختلاف نے انتخاب میں دھاندلی کا الزام لگایا تھا۔

ہفتے کو جن ترامیم پر ریفرنڈم ہو رہا ہے ان میں سے ایک صدر کے عہدے کی مدت چار سال سے بڑھا کر چھ سال کرنے کے بارے میں ہے۔

مصر کی 596 رکنی پارلیمان میں بھی السیسی کے حامیوں کی اکثریت ہے جنہوں نے رواں ہفتے ہی کثرتِ رائے سے مجوزہ ترامیم منظور کرلی تھیں۔
مصر کی 596 رکنی پارلیمان میں بھی السیسی کے حامیوں کی اکثریت ہے جنہوں نے رواں ہفتے ہی کثرتِ رائے سے مجوزہ ترامیم منظور کرلی تھیں۔

اگر یہ ترمیم منظور ہوگئی تو اس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا جس کے نتیجے میں صدر السیسی 2024ء تک برسرِ اقتدار رہ سکیں گے۔

ایک اور مجوزہ ترمیم کی منظوری کی صورت میں وہ 2024ء میں مسلسل تیسری مدت کے لیے بھی صدر کا انتخاب لڑنے کے اہل ہوجائیں گے۔

مجوزہ ترامیم کے تحت صدر کو اعلیٰ عدالتوں کے جج اور پبلک پراسکیوٹرز کی تعیناتی کے عمل میں بھی وسیع اختیارات مل جائیں گے۔

ایک اور مجوزہ آئینی ترمیم کے تحت مصر کی فوج آئین، جمہوریت اور ملک اور اس کے سول طرزِ حکومت کے بنیادی ڈھانچےکی حفاظت کی ذمہ دار ہوگی۔

صدر السیسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ آئینی ترامیم کے نتیجے میں صدر کو معاشی اصلاحات سے متعلق اپنے ایجنڈے پر عمل درآمد اور ملک میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے مزید وقت مل سکے گا۔

مخالفین صدر السیسی پر حزبِ اختلاف کو بزور قوت دبانے کا الزام لگاتے ہیں لیکن مغربی ممالک اور امریکہ ان کی حکومت کو مشرقِ وسطیٰ میں شدت پسندی کے خلاف جنگ میں اہم اتحادی قرار دیتا ہے۔
مخالفین صدر السیسی پر حزبِ اختلاف کو بزور قوت دبانے کا الزام لگاتے ہیں لیکن مغربی ممالک اور امریکہ ان کی حکومت کو مشرقِ وسطیٰ میں شدت پسندی کے خلاف جنگ میں اہم اتحادی قرار دیتا ہے۔

لیکن ناقدین اور حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ ان ترامیم کے نتیجے میں مصر میں ایک بار پھر اسی آمرانہ طرزِ حکومت کی راہ ہموار کی جا رہی ہے جس سے مصری عوام نے 2011ء میں نجات حاصل کی تھی۔

مصر میں 2011ء میں عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں 30 سال سے برسرِ اقتدار حسنی مبارک کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔

ان کا طویل دور ختم ہونے کے بعد ملک میں ہونے والے پہلے عام انتخابات کے نتیجے میں اسلام پسند جماعت اخوان المسلمون کی حکومت برسرِ اقتدار آئی تھی۔ لیکن اس حکومت کا تختہ کچھ ہی عرصے بعد 2013ء میں مصر کی فوج نے حکومت کے اپنے وزیرِ دفاع جنرل عبدالفتاح السیسی کی قیادت میں الٹ دیا تھا۔

بعد ازاں السیسی نے خود اقتدار سنبھال لیا تھا اور 2014ء میں پہلی بار ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے۔

اس وقت مصر کی 596 رکنی پارلیمان میں بھی السیسی کے حامیوں کی اکثریت ہے۔ پارلیمان نے رواں ہفتے ہی مجوزہ آئینی ترامیم کی 22 کے مقابلے میں 531 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظوری دی تھی۔

مصر کی آبادی 10 کروڑ کے لگ بھگ ہے جس میں سے چھ کروڑ 10 لاکھ سے زائد ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG