رسائی کے لنکس

logo-print

مصر کا مسلم قانون وراثت عیسائی خاندانوں پر لاگو نہیں ہو سکتا، مسیحی خاتون کا چیلنج


ہدیٰ نصراللہ

مصر کی ایک عدالت میں ان دنوں انوکھا مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔ مقامی مسیحی خاتون مصر میں رائج وراثتی تقسیم کے قانون کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔

مصر ایک مسلم اکثریتی ملک ہے جہاں آئین کی کئی دفعات اسلامی قوانین کے مطابق ہیں۔ ان ہی میں سے ایک وراثت کی تقسیم کی دفعہ بھی ہے۔

مصر کے مقامی قانون کے تحت والد کی میراث کی تقسیم میں بیٹی کو بیٹے کے مقابلے میں ایک تہائی حصہ ملتا ہے لیکن مصر کی ایک مسیحی خاتون ہدیٰ نصر اللہ نے اس حوالے سے عدالتی فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

ہدیٰ نصراللہ نامی خاتون کا مطالبہ ہے کہ اُنہیں والد کی میراث میں سے بھائیوں کے برابر حصہ دیا جائے۔

ہدیٰ نصراللہ کے والد سرکاری ملازم تھے جن کا گزشتہ برس انتقال ہوا۔ انہوں نے وراثت میں دو بیٹوں اور ہدیٰ نصراللہ کے لیے ایک چار منزلہ عمارت اور کچھ نقد رقم چھوڑی تھی۔

خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق ہدیٰ نصر اللہ کے بھائیوں نے والد کے انتقال کے بعد وراثت کی تقسیم کے لیے عدالت سے درخواست کی اور عدالت نے مروجہ قانون کے تحت فیصلہ دیا جس میں ہدیٰ کو ان کے بھائیوں کے مقابلے میں ایک تہائی حصہ ملا۔

ہدیٰ نے عدالتی فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی کی اپیل کی اور مؤقف اختیار کیا کہ اُنہیں عیسائیت کے مذہبی قوانین کے تحت وراثت میں بھائیوں کے برابر حصہ دیا جائے۔

عدالت نے نظر ثانی اپیل پر بھی ملک کے مروجہ قوانین کے تحت ہدیٰ نصر اللہ کے خلاف فیصلہ دیا۔

مقدمے کے دوران ہدیٰ کے بھائیوں نے بھی عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان کی بہن کو عیسائی قوانین کے تحت ان کے برابر حصہ دیا جائے۔ لیکن عدالت نے مقامی قانون کے مطابق ہی فیصلہ سنایا۔

چالیس سالہ ہدیٰ نصراللہ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ انہوں نے اب اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کی ہے جس کا حتمی فیصلہ رواں ماہ کے اختتام تک آنے کا امکان ہے۔

ہدیٰ نے اپنے مقدمے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اُنہیں ان کے مذہبی قوانین کے تحت وراثت میں بھائیوں کے برابر حصّہ دیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کی جانب سے کی جانے والی یہ کوششیں وراثت کا حصہ حاصل کرنے کے لیے نہیں ہیں۔

ہدیٰ کے بقول، "میرے والد ہمارے لیے لاکھوں مصری پاؤنڈز چھوڑ کر نہیں گئے۔ لیکن مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں اپنے بھائیوں کے برابر حصے کا تقاضا کر سکوں۔"

خیال رہے کہ مصر میں 10 لاکھ عیسائی آباد ہیں جو اقلیت میں ہیں جب کہ اکثریت مسلمانوں کی ہے۔

ہدیٰ نصراللہ نے کہا ہے کہ مصر میں رائج وراثت کے اسلامی قوانین سے کئی عیسائی مرد بھی فائدہ اٹھاتے ہیں جو یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ ملکی قوانین کے مقابلے میں ہم کچھ نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ بعض اقلیتی گھرانے اب وراثتی معاملات ملکی قانون کے دائرے سے باہر رہ کر ہی آپس میں نمٹانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان کے بقول وہ اپنے مقدمے سے دوسروں کے لیے ایک مثال قائم کرنا چاہتی ہیں۔

ہدیٰ نصراللہ کا کہنا تھا کہ میں ایک وکیل ہوں۔ اگر میں ایسے معاملات عدالت نہیں لے کر جاؤں گی تو اور کون لے کر جائے گا؟

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG