رسائی کے لنکس

فلاحی تنظمیوں کے پاس کھالوں کو محفوظ کرنے کی کوئی سہولت موجود نہ ہونے کے باعث لیدر انڈسٹری کو نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان کی اہم صنعت جسے چمڑے کی صنعت بھی کہا جاتا ہے اس کا بہت بڑا دارومدار پاکستان میں قربانی کے جانوروں کی کھالوں پر بھی ہے۔

قربانی کے موقع پر عام دنوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ جانور قربان کیے جاتے ہیں اس لیے ان کی کھالوں کو محفوظ بنا کر ٹینریز تک پہنچانا بھی ایک اہم عمل ہوتا ہے۔

چمڑا اور اس کی مصنوعات پاکستان کی تیسری بڑی برآمدی شے ہے۔ کراچی، لاہور اور سیالکوٹ میں ان کھالوں سے جوتے، لیدر جیکٹس، بیلٹس، بیگز، صنعتی اشیا، اسٹیشنری وغیرہ تیار ہوتی ہے۔

بقر عید کا تہوار چمڑے کی صنعت کو بڑی مقدار میں سستا خام مال مہیا کرتا ہے۔ تمام ملک سے قربانی کے جانوروں کی کھالیں کراچی، لاہور اور قصور کے تین بڑی چمڑا منڈیوں میں جمع ہوتی ہیں۔

کھالوں کو نمک لگا کر محفوظ کیا جا رہا ہے
کھالوں کو نمک لگا کر محفوظ کیا جا رہا ہے

عیدِ قرباں پر حاصل ہونے والی کھالیں چمڑہ سازی کی سالانہ 25سے 30فیصد طلب پوری کرتی ہیں، باقی طلب سال بھر ذبح ہونے والے مویشیوں کی کھالوں سے پوری کی جاتی ہے۔

عید کا تہوار چمڑے کی صنعت کے علاوہ ملک کی زرعی معیشت کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے، تاہم، فلاحی تنظمیوں کے پاس کھالوں کو محفوظ کرنے کی کوئی سہولت موجود نہ ہونے باعث لیدر انڈسٹری کا نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

چمڑا منڈی کے ایک کارکن شاہد عباسی نے وائس آف امیریکہ کو بتایا کہ اس مرتبہ گزشتہ عیدوں کی نسبت اس سال بڑے جانور بیل کی کھالیں زیادہ تعداد میں منڈی لائی گئیں جن کو نمک لگا کر محفوظ کر دیا گیا ہے۔

ایک اور کارکن مرزا صدیق نے بتایا کہ کھالوں کو نمک لگانے کے بعد کچھ عرصہ سوکھنے کے لئے محفوظ رکھا جاتا ہے جس کے بعد اسکی کٹائی اور چاکنگ کر کے سوڈیم اور مختلف کیمیکلز لگا کر مشین میں ڈال کر صاف کیا جاتا ہے اس عمل میں چونے سے بھی مدد لی جاتی ہے جس کے بعد بلیو اور کرسٹ کے عمل سے گزار کر چمڑے کو کالے ، سفید اور براؤن کلر میں ٹینری کو بھجوایا جاتا ہے۔

کارکن کھالوں کو محفوظ کر رہے ہیں
کارکن کھالوں کو محفوظ کر رہے ہیں

چمڑا منڈی میں ایک کھال کو نمک لگانے کی مزدوری 50 روپے دی جا رہی ہے۔ سارا دن کام کرنے کی مزدوری پانچ سو سے آٹھ سو روپے ہے۔

کھالوں کو محفوظ بنانے کیلئے اس مرتبہ پاکستان کی صوبہ پنجاب میں حکومت پنجاب کی جانب سے آگاہی مہم کے طور پر اشتہار بھی جاری کیے گئے ہیں جس میں شہریوں کو کھالیں محفوظ بنانے کے طریقہ کار سے آگاہ کیا گیا تھا۔ اشتہار میں یہ بھی تجویز دی گئی کہ جو قصائی جانوروں کی کھال کو کٹ لگائے اس سے سو روپے کی کٹوتی کرلی جائے۔

چمڑے کی صعنت سے وابستہ تنظیم آل پاکستان ٹینریز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس سال کھالوں کا کاروبار ساڑھ چھ ارب روپے سے زائد رہنے کی توقع ہے۔ عید پرامکان ہے کہ 30 ہزار اونٹ، 8 لاکھ دنبوں اور25 لاکھ بیل کی قربانی کی جائے گی۔

چمڑے سے پاکستان میں تیار کھلیوں کے سامان کو دنیا بھر میں اہم اہمیت حاصل ہے اور کھیلوں کے سامان کے خریداروں میں جرمنی، فرانس، برطانیہ ، اٹلی، اسپین، ہالینڈ، ہانک کانگ، ڈنمارک، کینیڈا، بیلجیم اور دبئی شامل ہیں۔ تاہم بھارت، جاپان، تائیوان اور جنوبی کوریا کی جانب سے کم ہوتی قیمتوں کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات کو سخت مسابقت کا سامنا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG