رسائی کے لنکس

logo-print

ایفل ٹاور کو 3 ماہ بعد عوام کے لیے کھول دیا گیا


فرانس کی پہچان ایفل ٹاور کو تین ماہ بعد جمعرات کو عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ اسے کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے مارچ میں بند کیا گیا تھا۔

فرانس کرونا وائرس سے بدترین متاثر ملکوں میں سے ایک ہے جہاں وبائی بیماری کی وجہ سے 29 ہزار سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں اور ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ صدر میکخواں کو وبا سے متعلق پالیسی پر کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

ایفل ٹاور کے کھلنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یورپ وبا پر کسی حد تک قابو پانے کے بعد سست رفتاری سے معمولات زندگی کی بحالی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سب سے بڑا سوال بدستور معیشت اور عوام کی صحت میں توازن برقرار رکھنے کا ہے۔

کئی ممالک موسم گرما کے سیاحتی عرصے کے بارے میں محتاط امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ سماجی فاصلے کے اقدامات اور کرونا وائرس کی روک تھام میں مددگار ایپس کی وجہ سے سیاحوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

ایفل ٹاور پیرس کے ان چند مقامات میں سے ایک ہے جہاں سیاحوں کو آنے کی اجازت دی گئی ہے۔ لوو میوزیم سمیت کئی دوسرے مقامات 6 جولائی تک بند رہیں گے۔

سیاحوں کے تحفظ کی خاطر 324 میٹرز بلند ایفل ٹاور کی لفٹیں نہیں چلائی جا رہیں، جبکہ تین میں سے دو منزلیں کھولی گئی ہیں۔ سب سے بلند منزل کو کھولنے کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا، کیونکہ وہاں کم جگہ ہونے کی وجہ سے سماجی فاصلہ برقرار رکھنا مشکل ہے۔

ایفل ٹاور کی ویب سائٹ کے مطابق، سیاح 674 سیڑھیاں چڑھ کر دوسری منزل تک جاسکتے ہیں۔ اس میں عموماً 30 سے 45 منٹ لگتے ہیں۔

ایفل ٹاور انتظامیہ کے ڈائریکٹر جنرل پیٹرک برینکو روئیوو کے مطابق، تین ماہ کی بندش میں 3 کروڑ ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ایفل ٹاور کبھی اتنے طویل عرصے کے لیے بند نہیں کیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG