رسائی کے لنکس

logo-print

انگلینڈ نے بھارت کو 31 رنز سے شکست دے دی


بھارت مقررہ 50 اوورز میں 338 رنز کا ہدف حاصل نہ کرسکا اور 5 وکٹ کے نقصان پر 306 رنز ہی بنا سکا۔ ایم ایس دھونی 42 اور کیدر جادیو 12 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔ سیمی فائنل میں رسائی کیلئے اب انگلینڈ کو صرف ایک میچ اور جیتنا ہو گا۔

ورلڈ کپ 2019 کے 38 ویں میچ میں انگلینڈ نے اب تک ناقابل شکست رہنے والی بھارتی ٹیم کو 31 رنز سے شکست دے دی۔

بھارت کو برمنگھم میں کھیلے گئے اس میچ میں 338 رنز کا ہدف حاصل کرنا تھا لیکن وہ مقررہ 50 اوورز میں 5 وکٹس کے نقصان پر 306 رنز ہی بنا سکا۔

اس جیت کے ساتھ ہی انگلینڈ کی سیمی فائنل میں رسائی کے امکانات مزید روشن ہو گئے ہیں۔ سیمی فائنل میں رسائی کیلئے اب اسے صرف ایک میچ اور جیتنا ہو گا۔

بھارت 11 پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر دوسرے اور انگلینڈ 10 پوائنٹس کے ساتھ چوتھے نمبر پر آ گیا ہے۔

اس سے قبل بھارتی اننگز کا آغاز کے ایل راہول اور روہت شرما نے کیا۔ لیکن راہول اسکور بنانے میں زیادہ اہم کردار ادا نہ کر سکے اور ووکس نے انہیں میچ کی آٹھویں بال پر بغیر کوئی رنز بنائے آؤٹ کر دیا۔ وہ کاٹ اینڈ بولڈ ہوئے۔

ان کے جانے کے بعد بھارت کے کپتان ویراٹ کوہلی نے بیٹنگ اینڈ سنبھالا جبکہ دوسرے اینڈ پر روہت شرما موجود تھے۔

دونوں بلے بازوں نے بغیر کسی غلطی اور دباؤ میں آنے کے 124 بالوں پر 100 کی پارٹنر شپ کی۔ انگلینڈ نے بھارت کے خلاف پانچ سے زائد بالرز کو قسمت آزمانے کا موقع دیا جن میں سے ابھی تک صرف ایک بالر یعنی ووکس وکٹ لینے میں کامیاب ہو سکے تھے۔

آخر کار 146 کے اسکور پر لیام پلنکیٹ اس جوڑی کو توڑنے میں کامیاب رہے اور ویراٹ کوہلی کو 66 رنز پر ڈھیر کر دیا۔ ان کی جگہ رشبھ پنت آئے جنہیں بھارت نے وجے شنکر کی جگہ آج ہی ٹیم کا حصہ بنایا تھا۔

198 کے اسکور پر روہت شرما 102 رنز بنا کر ووکس کی بال پر آؤٹ ہو گئے جبکہ پنت ابھی 32 رنز ہی بنا سکے تھے کہ پلنکیٹ نے انہیں آؤٹ کر دیا۔

اس موقع پر بھارت کے 4 کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے جبکہ اس کا اسکور ہدف سے تقریباً 90 رنز دور تھا۔

اسی دوران جبکہ بھارت کا اسکور 267 رنز تھا ہاردک پانڈیا 45 رنز بنا کر پلنکیٹ کی بال پر آؤٹ ہو گئے۔

بھارت کو 338 رنز کا ہدف

اس سے قبل انگلینڈ نے ٹاس جیت کر بھارت کے خلاف پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور مقررہ 50 اوورز میں سات وکٹس کے نقصان پر 337 رنز بنائے۔

جونی بیرسٹو اور جیسن روئے نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔ دونوں نے ٹیم کے ابتدائی اسکور کو 160 رنز تک پہنچایا۔

جیسن نے 66 اور جونی بیرسٹو نے 109 بالز پر 6 چھکوں اور 10 چوکوں کے ساتھ 111 رنز بنائے۔ کلدیب یادو نے جیسن کو آؤٹ کیا تو ان کی جگہ جوئے روٹ بیٹنگ کرنے آئے۔

پہلی وکٹ 160 رنز پر گری تھی جبکہ 205 رنز کے اسکور پر جونی بیرسٹو 111 رنز بنا کر محمد شامی کی بال پر آؤٹ ہو گئے۔

تیسری وکٹ گرانے میں بھارت کو زیادہ محنت نہیں کرنا پڑی اور مورگن جیسے بیٹسمین صرف 1 رنز پر آؤٹ ہو گئے۔ اس وکٹ کو گرانے کا سہرا بھی محمد شامی کے سر سجا۔

چوتھی اور پانچویں وکٹ کے طور پر جوئے روٹ اور بین اسٹوکس نے جم کر بیٹنگ کی اور شاندار شارٹس کھیلے۔ انہوں نے اسکور بڑھانے کے ساتھ ساتھ وکٹیں بھی نہیں گرنے دیں۔

انہی کی مہارت اور تجربے کی بدولت انگلینڈ کو صرف تین وکٹ پر ایک بڑا اسکور بنانے میں مدد ملی۔ تاہم اسی دوران جوائے روٹ 44 رنز بنا کر محمد شامی کی بال پر پانڈیا کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔ ان کی جگہ نئے بیٹسمین بٹلر نے لی۔

بٹلر نے اسکور کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لئے تیز رفتاری سے بیٹنگ کی مگر وہ اسکور میں صرف 20 ہی رنز کا اضافہ کر سکے ۔ محمد شامی نے انہیں اپنی ہی بال پر خود کیچ کر لیا۔

ان کی جگہ ووکس بیٹنگ کرنے آئے لیکن محمد شامی نے انہیں بھی صرف سات رنز پر کیچ کرا دیا اور یوں انگلینڈ کے 6 کھلاڑی آؤٹ ہو گئے۔

50 ویں اور آخری اوور میں بین اسٹروکس 79 رنز پر بمراہ کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ یہ انگلینڈ کی 7 ویں وکٹ تھی۔

یہ میچ پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی کے لیے بہت اہمیت کا حامل تھا کیونکہ اگر بھارت اس میچ میں انگلینڈ کو شکست دے دیتا تو پاکستان کے سیمی فائنل تک پہنچنے کے امکانات مزید روشن ہو جاتے۔

انگلینڈ کی ٹیم: انگلینڈ نے معین علی اور جیمز ونسے کی جگہ جیسن روئے اور لیام پلنکٹ کو ٹیم کا حصہ بنایا ہے، تمام کھلاڑیوں کے نام اس طرح ہیں: جونی بیرسٹو، جیسن روئے، جوئے روٹ، اوئن مورگن، بین اسٹوکس، جوس بٹلر، کرس ووکس، لیام پلنکٹ، عادل رشید، جوفرا آرچر اور مارک ووڈ ۔

بھارتی ٹیم:
روہت شرما، کے ایل راہول، ویراٹ کوہلی، کیدر یادیو، ایم ایس دھونی، پینٹ، ہاردک پانڈیا، کلدیپ یادو، محمد شامی، رشبھ پنت اور یوزویندر چہل۔

اس سے قبل انگلینڈ دو ایشیائی ٹیموں سے میچ ہار چکا ہے جن میں پاکستان اور سری لنکا شامل ہیں۔

بھارت کی نئی کٹ
بھارتی کھلاڑیوں نے آج کا میچ نئی کٹ پہن کر کھیلا۔ اس تبدیلی کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ٹیموں کی کٹس ایک جیسے کلر کی تھیں۔ لہذا آئی سی سی قوانین کے مطابق میزبان ٹیم کی وردی وہی رہی جبکہ بھارت کو اپنی کٹ کا کلر تبدیل کرنا پڑا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG