رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ ایردوان ٹیلی فون رابطہ، شام کے ساتھ ’سیف زون‘ کے قیام پر گفتگو


صدر طیب ایردوان نے بتایا ہے کہ منگل کے روز اُنھوں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران ’سیف زون‘ کے معاملے پر بات کی جسے ترکی اپنی سرحد کے ساتھ شام کے اندر تعمیر کرے گا۔ ایردوان نے بات چیت کو مثبت قرار دیا۔

ٹرمپ نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ امریکہ شمال مشرقی شام سے امریکی فوجیں واپس بلا رہا ہے۔ تفصیل دیے بغیر، اتوار کے روز کے ایک ٹوئیٹ میں اُنھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں محفوظ علاقہ قائم کیا جائے گا۔

ایردوان نے پارلیمان میں اپنی ’اے کے پارٹی‘ کے ارکان کو بتایا کہ ’’یہ سیف زون، جس میں ترکی کی سرحد کے ساتھ محفوظ علاقہ شامل ہوگا، ایسا معاملہ ہے جو میں نے اوباما کے دور میں بھی اٹھایا تھا، جو 20 میل پر مشتمل ہوگا‘‘۔

بعدازاں اُنھوں نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ یہ زون 20 میل سے زیادہ فاصلے پر مشتمل ہوگا، لیکن یہ نہیں کہا کہ اصل فاصلہ کتنا ہوگا۔

ترکی نے وعدہ کیا ہے کہ امریکی انخلا کے بعد شام میں داعش کے خلاف لڑائی جاری رکھی جائے گی۔ تاہم، کرد ’وائی پی جی‘ ملیشیا کے حوالے سے امریکہ اور ترکی کے درمیان شدید اختلاف رائے ہے، جس کے باعث نیٹو کے دونوں ساتھیوں کے تعلقات کشیدہ ہیں۔

داعش کے خلاف لڑائی میں کرد ملیشیا، ’وائی پی جی‘ امریکہ کا ایک اہم اتحادی رہا ہے۔ لیکن، ترکی اُسے ایک دہشت گرد تنظیم اور کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی طفیلی تنظیم گردانتا ہے، ’’جس نے کئی عشروں سے ترکی میں سرکشی جاری رکھی ہوئی ہے‘‘۔

دونوں سربراہان کے درمیان پیر کے روز کی ٹیلی فون گفتگو ایسے میں ہوئی ہے جب امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ترکی کی افواج نے ’وائی پی جی‘ ملیشیا پر حملہ کیا تو ترکی کو تباہ کُن معاشی نقصان پہنچایا جائے گا۔

ایردوان نے کہا کہ اُنھیں ٹرمپ کے ٹوئیٹ پر افسوس ہوا۔ لیکن بعد کی ٹیلی فون کال مثبت تھی۔

ترکی کی معشیت کو تباہ کن نقصان پہنچائے جانے کی ٹرمپ کی دھمکی کے بعد سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا ہوئی اور پیر کو لیرے کی قدر 1.6 فی صد تک گر گئی۔ ایردوان نے کہا کہ ٹیلی فون بات چیت کے دوران ٹرمپ نے اُن کے ساتھ معاشی تعلقات میں بہتری لانے سے اتفاق کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG