رسائی کے لنکس

افغانستان اور شام سے یورپ آنے والے مہاجرین کی تعداد میں دو گنا اضافہ


شام سے ترکی آنے والے مہاجرین (فائل فوٹو)

مغربی بلقان کے خطے کو پار کرکے یورپی ملکوں میں غیرقانونی طور پر آنے والے مہاجرین کی تعداد میں دو گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ ان مہاجرین میں اکثریت کا تعلق تنازعات میں گھرے شام اور افغانستان کے ملکوں سے ہے۔

یورپی یونین کی سرحدوں سے متعلق ادارے فرانٹیکس نے انکشاف کیا ہے کہ اس سال جنوری اور جولائی کے دوران بلقان کے راستے غیر قانونی طور پر یورپ میں داخل ہونے والے مہاجرین کی تعداد 22,600 تک جا پہنچی ہے۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے انہی مہینوں کی تعداد سے90 فیصد زیادہ ہے۔

رواں سال جولائی میں گزشتہ سال جولائی کے مقابلے میں اس راستے سے آنے والے مہاجرین کی تعداد میں 67 فیصد اضافہ ہوا۔

یورپ کے بہت سے ممالک پریشان ہیں کہ افغانستان میں طالبان جنگجوؤں کے کنٹرول میں کئی علاقے آنے سے لوگ ملک چھوڑنے کے بعد یورپ کا رخ کریں گے اور انہیں پھر 2015 اور 2016 جیسے مہاجرین کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جب مہاجرین کی بہت بڑی تعداد بیک وقت براعظم آئی تھی۔

اس وقت مشرق وسطی اور افغانستان سے دس لاکھ سے زائد لوگوں کی آمد نے یورپ کے سکیوریٹی اور عوام کی فلاح کے اداروں پر شدید دباو ڈال دیا تھا جس کے نتیجے میں یورپ میں دائیں بازو کے سیاسی گروپوں کے لیے عوام میں حمایت میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

فرانٹیکس کے مطابق پھچلے سال کے آغاز سے 82,000 مہاجرین غیر قانونی طور پر یورپ پہنچے ہیں۔ اس طرح گزشتہ سال کی نسبت یہ اضافہ 59 فیصد ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس بحرانی کیفیت سے نمٹنے کے لیے ایک میٹنگ میں یورپی ممالک کے وزرائے داخلہ، بیلاروس اور لیتھوانیا کی سرحد پر مہاجرین کی آمد میں اضافے پر بدھ کے روز بات کر رہیے ہیں۔

یورپی یونین نے بیلاروس پر الزام لگایا ہے کہ وہ یورپ کی طرف سے اس پر عائد کردہ پابندیوں کے خلاف غیر قانونی طور پر آئے عراقی مہاجرین کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG