رسائی کے لنکس

یورپی یونین ترکی سے مہاجرین پر نیا سمجھوتا کرنے کی خواہاں


زغرب میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا اجلاس۔

یورپی یونین نے ترکی کے ساتھ نیا سمجھوتا کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں تاکہ شام، عراق، افغانستان اور دوسرے ملکوں کے تارکین وطن کے قافلوں کو روکا جاسکے جو پناہ کے لیے یورپ آنا چاہتے ہیں۔

شمالی مشرقی شام میں سرکاری فوج اور باغیوں میں کی لڑائی میں شدت آنے کے بعد لاکھوں پناہ گزینوں نے ترکی کا رخ کرلیا ہے۔ ترکی نے 28 فروری کو اعلان کیا تھا کہ وہ 2016ء میں ہوئے اس معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا جس میں اس نے یورپی یونین کی مالی اعانت کے بدلے اپنے علاقے میں پناہ گزینوں کو روکنے کا وعدہ کیا تھا۔

ترکی نے الزام لگایا ہے کہ یورپی یونین نے اپنی ضمانتوں پر عمل نہیں کیا۔ اس وقت بھی 35 ہزار تارکین وطن ترکی اور یونان کی سرحد پر جمع ہیں جنھیں یونان کی افواج سختی سے روک رہی ہیں۔

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ بحرانی صورتحال پر غور کے لیے اجلاس کررہے ہیں۔ یورپی یونین کے پالیسی سربراہ جوزف بریل نے جمعہ کو زغرب میں بتایا کہ رکن ممالک ترکی کو زیادہ رقوم فراہم کرنے کی پیشکش کریں گے۔ 2016ء کے معاہدے میں ترکی کو 6 ارب یورو دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

لیکن ترکی واضح کرچکا ہے کہ وہ کوئی سودے بازی نہیں کرنا چاہتا۔ وہ پہلے ہی تقریباً 40 لاکھ تارکین وطن کو پناہ دے چکا ہے۔

بوریل نے کہا کہ ''ترکی پر بہت بڑا بوجھ پڑچکا ہے جس کا ہمیں مکمل ادراک ہے۔ لیکن ہم یہ بھی تسلیم نہیں کرسکتے کہ مہاجرین کو دباؤ کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جائے۔''

اب تک یورپی یونین اس بات کی نگرانی کرتی آئی ہے کہ مختص کی گئی رقوم کو کس طرح خرچ کیا جاتا ہے۔ لیکن زغرب میں یورپی یونین کے سفارت کاروں کے اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ ترکی اس بات کا خواہاں ہے کہ اسے یہ رقوم براہ راست دی جائیں۔ اس مطالبے کو تسلیم کیے جانے کا امکان کم ہے۔

XS
SM
MD
LG