رسائی کے لنکس

'بھائی، ہم محاذ جنگ پر جا رہے ہیں'


شمالی کیرولائنا کے فورٹ بریگ اڈے سے فوجیوں کی پہلی کھیپ کویت روانہ ہو رہی ہے

امریکی ڈرون حملے میں ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور ایران کی طرف سے بدلہ لینے کے اعلان کے بعد امریکہ کے یورپی اتحادیوں نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کی شدت کم کرنے کی کوشش کریں۔

جنرل قاسم سلیمانی کو گزشتہ جمعے کو بغداد ایئرپورٹ پر ایک ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ان کی ہلاکت کے بعد تمام تر مشرق وسطیٰ میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اس واقعے کے بعد مشرق وسطیٰ میں مزید ساڑھے تین ہزار فوجی بھیجنے کا اعلان کیا تھا، اگرچہ ان فوجیوں کی تعیناتی کا مقام فی الحال خفیہ رکھا گیا ہے۔

ان میں سے 600 کے لگ بھگ فوجی ریاست نارتھ کیرولائنا کے فورٹ بریگ اڈے سے کویت روانہ ہو گئے ہیں۔ روانگی سے قبل ان فوجیوں نے اپنے خاندان کے افراد سے فون پر بات کر کے انہیں خدا حافظ کہا اور پھر اپنے سیل فون حکام کے حوالے کر دیے۔

نیوز ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق، ان میں سے ایک فوجی کو اپنے ساتھیوں سے یہ کہتے سنا گیا کہ ’’بھائی، ہم محاذ جنگ پر جا رہے ہیں۔‘‘

کشیدگی میں اضافے کے خدشے کے باعث نیٹو نے عراق میں اپنا تربیتی مشن روک دیا ہے۔

امریکہ نے ایران کے جنرل قاسم سلیمانی پر حملے کے سلسلے میں اپنے یورپی اتحادیوں کو پیشگی اطلاع نہیں دی تھی۔ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ ان کا ملک جنرل سلیمانی کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار نہیں کرے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طرح برطانیہ نے بھی جنرل سلیمانی کے ہاتھوں نقصان اٹھایا ہے۔ رائل یونائٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کی کیرن وان ہپّل کا کہنا ہے کہ قاسم سلیمانی سیکڑوں امریکی اور دیگر یورپی فوجیوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں، جن میں برطانوی فوجی بھی شامل ہیں۔

اس وقت جب ایران میں لاکھوں لوگ ان کی ہلاکت کا سوگ منا رہے ہیں، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایک مشترکہ بیان میں تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ انتہائی صبر و تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

یورپی یونین نے کشیدگی کم کرنے کی خاطر ایران کے وزیر خارجہ کو برسلز آنے کی دعوت دی ہے۔

یورپین کمیشن کے ترجمان پیٹر سٹانو کہتے ہیں کہ اس بارے میں رابطے جاری رکھنے کے سلسلے میں مشترکہ طور پر افہام و تفہیم موجود ہے۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے بھی انہیں مطلع کرنا ضروری ہے کہ وہ کیا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔

اگرچہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب جوہری افزودگی پر عائد پابندیوں کا احترام نہیں کرے گا، یورپی ممالک کو اب بھی امید ہے کہ 2015 میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو بچایا جا سکتا ہے۔

امریکہ کے معروف تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل کی فیلو ہولی ڈاگریس کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں 2015 کا جوہری معاہدہ اس وقت تک غیر مؤثر نہیں ہو گا جب تک کشیدگی اس قدر نہ بڑھ جائے کہ وہ جنگ کی طرف لے جائے۔

ایران نے بدلہ لینے کے لیے فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے اور امریکہ کے اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ انہیں بھی ہدف بنایا جا سکتا ہے۔ نیٹو نے عراق میں اپنا تربیتی مشن روک دیا ہے۔ یہ مشن کئی سو فوجیوں پر مشتمل ہے جو داعش کو شکست دینے کے لیے مغربی اتحاد کا ایک حصہ ہے۔

اتحاد کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے پیر کے روز یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ ایران کے ساتھ جنگ کی صورت میں نیٹو امریکہ کا ساتھ دے گا یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے حال ہی میں ایران کی طرف سے کشیدگی میں اضافہ دیکھا ہے جس میں سعودی تیل کی تنصیبات پر حملہ اور ایک امریکی ڈرون کو مار گرانے کے اقدامات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ منگل کو ہونے والے اجلاس میں اتحادیوں نے صبر و تحمل اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے اور سب کا خیال ہے کہ کوئی نئی محاذ آرائی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہو گی۔

روس اور چین دونوں نے جنرل سلیمانی کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اب اپنے اتحادیوں سے زیادہ بھرپور حمایت کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ اٹلانٹک کونسل کی ہولہ دیگریس کہتی ہیں کہ ایران امریکہ کشیدگی میں اضافے سے قبل چین، روس اور ایران نے خلیج فارس اور خلیج اومان میں مشترکہ بحری مشقیں منعقد کی تھیں۔

مشرق وسطیٰ میں امریکہ مخالف مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں اور اب یہ ایران اور عراق سے باہر نکل کر ترکی، فلسطین، لبنان اور پاکستان تک پھیل گئے ہیں۔

ادھر امریکہ کے دیرینہ حلیف ملک اسرائیل نے جنرل سلیمانی کو ہلاک کرنے کے امریکی اقدام کی حمایت کی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ فیصلہ کن انداز میں قدم اٹھانے پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔

تاہم، اس وقت سب کی نظریں ایران پر ہیں کہ کیا وہ عالمی سطح پر صبر و تحمل کے مشورے کو مانتا ہے یا پھر بدلہ لینے کے وعدے پر عمل کرتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG