رسائی کے لنکس

logo-print

یورپی پارلیمان سے بھی بریگزٹ کی منظوری


برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کے باعث کاروباری طبقے اور عام شہریوں پر معمولی اثرات مرتب ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

یورپی یونین کی پارلیمان نے برطانیہ کی یونین سے علیحدگی کی منظوری دے دی۔برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) کی یہ آخری کڑی تھی جو مکمل ہو گئی ہے۔ اب بروز جمعہ 31 جنوری 2020 سے برطانیہ یونین کا حصہ نہیں رہے گا۔

برسلز میں ہونے والے یونین کے اجلاس میں برطانیہ کی علیحدگی کے لیے جمعے کی نصف شب کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔

برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کے باعث کاروباری طبقے اور عام شہریوں پر معمولی اثرات مرتب ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یورپ اور برطانیہ میں مشکل مذاکرات کا وقت قرار دیا جا رہا ہے کیوں کہ اس میں مستقبل کے تعلقات کا فیصلہ کیا جائے گا۔

پارلیمان میں گفتگو کرتے ہوئے یورپین کمیشن کی سربراہ ارسلا وون ڈیر لیئن کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور یونین کے درمیان کوئی نئی شراکت داری وہ تمام فوائد اور سہولیات واپس نہیں لا سکیں گی جو یونین کا حصہ ہوتے ہوئے برطانیہ کو حاصل تھیں۔

یونین اور برطانیہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ طرفین کی ذمہ داری ہے کہ بہترین ممکنات کو سامنے لائیں۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن کی جانب سے 'ٹیرف فری' اور 'کوٹہ فری' تجارت کے معاہدے کی خواہش برابری کی بنیاد پر مشترکہ قواعد کے تحت ہی ہو سکے گا۔

خیال رہے کہ برطانیہ کی کاریں اور ہوا بازی کی کمپنیاں حکومت پر زور دے رہی ہیں کہ وہ یورپی یونین کے معیار کو برقرار رکھنے کی کوشش کرے۔

برطانیہ کی علیحدگی کے بعد یورپی پارلیمان میں 73 ارکان کی کمی ہو جائے گی۔

یورپی یونین کے پارلیمان کے برگزیٹ کوآرڈینیٹر گی فروسدات کا کہنا تھا کہ پارلیمان میں ووٹ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں یا مخالفت میں نہیں تھا بلکہ یہ طریقہ کار کے تحت برطانیہ کی علیحدگی سے متعلق رائے شماری تھی۔

اُن کے بقول، "یہ بہت افسوس ناک ہے کہ ایک ایسے ملک کو علیحدہ ہوتے ہوئے دیکھا جائے جس نے دو بار ہماری آزادی کے لیے کردار ادا کیا ہو۔ جس نے دو بار یورپ کی آزادی کے لیے خون دیا ہو۔"

برطانیہ اور یورپی یونین میں اس بات پر کشیدگی کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئرلینڈ کی سرحد کے حوالے سے معاہدے کے نکات پر عمل در آمد کیسے ممکن ہو پائے گا۔

بورس جانسن نے انتخابی مہم کے دوران اعلان کیا تھا کہ شمالی آئر لینڈ سے برطانیہ یا برطانیہ سے شمالی آئرلینڈ جانے والی خوارک کی اشیا پر کسی بھی قسم کی پابندی یا روک ٹوک نہیں ہوگی۔ ان کا یہ اعلان یورپی یونین کے ساتھ معاہدے میں شامل کسٹمز اور ریگولیٹری سسٹم کے بالکل برخلاف ہے۔

خیال رہے کہ تین سال کے دوران دو وزرائے اعظم کی سبکدوشی کے باوجود برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا کا معاملہ سیاسی بحران کا شکار رہا تھا۔

برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی سے متعلق 2016 میں ہونے والے ریفرنڈم میں 52 فی صد عوام نے یونین سے علیحدگی کے حق میں رائے دی تھی۔ جس پر کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے اُس وقت کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا کیوں کہ وہ خود یورپی یونین میں رہنے کے خواہاں تھے۔

بعد ازاں، کنزرویٹو پارٹی کی رکن تھریسامے نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا اور بریگزٹ کے معاملے پر ناکامی کی صورت میں انہوں نے بھی عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ جس کے بعد بورس جانسن نے وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالا تھا۔

یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے اسمبلی میں مطلوبہ تعداد حاصل کرنے کے لیے بورس جانسن نے نئے انتخابات کا اعلان کیا اور دسمبر 2019 میں ہونے والے انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی نے 365 نشستیں حاصل کیں۔

اس سے قبل کنزرویٹو پارٹی کے پاس 650 کے ایوان میں 317 نشستیں تھی جب کہ سادہ اکثریت کے لیے اسے 326 ارکان کی ضرورت تھی۔

بورس جانسن نے انتخابات میں کامیابی کے بعد اسمبلی سے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ حاصل کیے اور اب جمعے کو برطانیہ باضابطہ طور پر یونین سے علیحدگی اختیار کرنے جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG