رسائی کے لنکس

logo-print

ماؤنٹ ایورسٹ پر پلاسٹک کی اشیا لے جانے پر پابندی


ماؤنٹ ایوریسٹ (فائل فوٹو)

نیپال میں حکام نے ماؤنٹ ایورسٹ کے قریبی علاقے میں پلاسٹک کی بنی ڈسپوزبل اشیا کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔

حکام نے پلاسٹک کی بنی ان اشیا پر پابندی کوہ پیماؤں اور سیاحوں کی جانب سے گندگی کی بڑی مقدار چھوڑ جانے کی وجہ سے لگائی ہے۔

رواں برس دنیا کے بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ پر کوہ پیماؤں کی زیادہ تعداد میں آمد دیکھی جا رہی ہے۔ جبکہ اسی دوران حکومت نے اس علاقے میں صفائی مہم کا بھی آغاز کیا ہے جس کے دوران اب تک دس ٹن سے زائد گندگی جمع کی جا چکی ہے۔

ماؤنٹ ایورسٹ کے ساتھ اس علاقے میں برف سے ڈھکی اور بھی کئی چوٹیاں ہیں۔ یہاں کے محکمہ بلدیہ نے 30 مائیکرون سے کم وزن پلاسٹک کی بنی ہر قسم کی اشیا اور پانی کی پلاسٹک کی بوتلوں پر پابندی عائد کی ہے۔

اس پابندی کا باقاعدہ اطلاق آئندہ برس جنوری سے ہوگا۔ پابندی کے حوالے سے مقامی افسر گنیش گھیمائر کا کہنا تھا کہ پابندی کا فوراً اطلاق کرنے سے پہاڑ اور اس سے متصل علاقوں کی صفائی طویل عرصے تک برقرار رہے گی۔

حکام نے 30 مائیکرون سے کم وزن پلاسٹک کی بنی اشیا پہاڑ پر لے جانے پر پابندی عائد کی ہے۔ (فائل فوٹو)
حکام نے 30 مائیکرون سے کم وزن پلاسٹک کی بنی اشیا پہاڑ پر لے جانے پر پابندی عائد کی ہے۔ (فائل فوٹو)

یاد رہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ اور اس سے متصل علاقوں کی سیر کے لیے سالانہ 50 ہزار سے زائد سیاح اور کوہ پیما آتے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق مقامی بلدیہ کوہ پیماؤں کی کمپنیوں، ایئر لائنز اور نیپال مونٹئنیرنگ ایسوسی ایشن کے اشتراک سے اس پابندی کے اطلاق کو ممکن بنائے گی۔

پابندی کی خلاف ورزی پر جرمانے کے حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ماہرین ماحولیات بھی اس علاقے میں آلودگی پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں کیونکہ خطے میں پانی کے ذخائر کی سطح متواتر کم ہوتی جا رہی ہے۔

نیپال کی حکومت نے چھ سال قبل ایک اسکیم متعارف کرائی تھی۔ جس کے تحت جب بھی کوہ پیماؤں کی کوئی ٹیم ماؤنٹ ایورسٹ سے واپس آئے اور اس کا ہر رکن اپنے ساتھ آٹھ کلو گندگی ساتھ لائے، تو ایسی ٹیم کو چار ہزار امریکی ڈالرز بطور انعام دی جائے گی۔ لیکن کوہ پیماؤں کی نصف تعداد ہی ایسا کر رہی ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں اور عالمی حدت کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے سے جہاں برف میں دبی کوہ پیماؤں کی لاشیں مل رہی ہیں۔ وہیں کوہ پیماؤں کی چھوڑی ہوئی گندگی بھی سامنے آرہی ہے۔

ماہرین ماحولیات نے ماؤنٹ ایورسٹ میں آلودگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ (فائل فوٹو)
ماہرین ماحولیات نے ماؤنٹ ایورسٹ میں آلودگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ (فائل فوٹو)

واضح رہے کہ ماؤنٹ ایوسٹ کو پہلی بار 66 سال قبل ایڈمنڈ ہیلری اور ٹینزنگ نورگے نے سر کیا تھا۔ اس کے بعد کئی بار اسے سر کیا جا چکا ہے۔

پہاڑ کی چوٹی تک پہنچنے کی کوشش میں متعدد کوہ پیما ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔ کبھی تو ان کی لاشیں مل جاتی ہیں تو کبھی برف میں ہی دب کر گم ہوجاتی ہیں۔

رواں برس اب تک 855 افراد ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔ جن میں سے 644 افراد نے پہاڑ کے جنوب جبکہ 241 نے شمال سے اس کی بلندی تک جانے کی کوشش کی۔

گزشتہ سات ماہ میں دنیا کا سب سے بلند پہاڑ سر کرنے کی کوشش میں 11 کوہ پیماؤں کی موت بھی ہوئی۔

گزشتہ ماہ حکومتی کمیٹی نے تجویز دی تھی کہ کسی بھی کوہ پیما کو ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی اجازت دینے سے قبل اس کا نیپال کی کسی بھی 6500 میٹر بلنڈ پہاڑی کو سر کیا جانا لازم قرار دیا جائے۔

کمیٹی نے یہ بھی تجویز کیا تھا کہ ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کے اجازت نامے کی کم سے کم فیس 35 ہزار ڈالرز ہونی چاہیے۔ جبکہ نیپال کے آٹھ ہزار میٹرز سے بلند کسی بھی پہاڑ پر کوہ پیمائی کی فیس 20 ہزار ڈالرز مقرر کی جانی چاہیے۔

خیال رہے کہ اس وقت ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا اجازت نامہ 11 ہزار ڈالرز میں دیا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG