رسائی کے لنکس

logo-print

ٹانک: حکومت کے حامی سابق جنگجو کمانڈر ترکستان بیٹنی قتل


فائل فوٹو

پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث رہنے والے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے علیحدگی اختیار کرکے حکومت کا ساتھ دینے والے جنگجو کمانڈر ترکستان بیٹنی کو فائرنگ کے ایک واقعے میں قتل کر دیا گیا ہے۔

فائرنگ کا واقعہ خیبر پختونخوا میں جنوبی وزیرستان اور ضلع ٹانک کو ملانے والے نیم قبائلی علاقے جنڈولہ میں ھفتے کی صبح پیش آیا۔ اس واقعے میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں ترکستان بیٹنی کا بیٹا بھی شامل ہے۔

حکام اور قبائلی ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق جنڈولہ میں ایک بس اڈے پر ملک ترکستان بیٹنی کسی سے تنازع ہوا تھا۔ دونوں جانب کے مسلح افراد نے ایک دوسرے پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ملک ترکستان بیٹنی اور ان کا بھتیجا موقعے پر ہلاک ہوئے جبکہ دو زخمیوں کو بھی طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا۔

پولیس حکام نے بھی ملک ترکستان بیٹنی اور ان کے بھتیجے کے ہلاک ھونے کی تصدیق کی ہے تاہم ابھی تک متاثرہ خاندان نے کسی کے خلاف مقدمہ درج نہیں کروایا ہے۔

ملک ترکستان بیٹنی نے 2007 کے اوائل میں کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے سیکیورٹی اداروں اور مقامی حکام کی مدد سے ایک امن کمیٹی قائم کی تھی۔

رپورٹس کے مطابق 2009 میں انہوں نے سیکیورٹی اداروں کے سامنے اپنے 500 ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈالے تھے اور اپنی تحریک ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ طالبان عسکریت پسندوں کی جانب سے مسلسل حملوں کی کوشش کے باعث کئی سال تک انہیں حفاظتی تحویل میں بھی رکھا گیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'بی بی سی' کی ایک رپورٹ کے مطابق جون 2008 میں طالبان نے جنڈولہ میں 22 افراد کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور اپنے بیان میں کہا تھا کہ ملک ترکستان کی قیادت میں یہ افراد اس علاقے میں راہزنی اور لوٹ مار کے واقعات کے ذمہ دار تھے۔

جرمن خبر رساں ادارے 'ڈی ڈبلیو' نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ حاجی ترکستان بیتنی نے طالبان مخالف گروہ بنانے کے لیے جو نوجوان بھرتی کیے ان کو اسلحے کے ساتھ ساتھ ماہانہ آٹھ ہزار روپے دیے جاتے تھے۔

مارچ 2009 میں طالبان نے ان پر خود کش حملہ بھی کیا تھا جس میں 10 افراد ہلاک ہوئے تھے تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔ طالبان ان کو ڈرون حملوں کے لیے مخبری کرنے کا بھی ذمہ دار سمجھتے تھے۔

کئی سال قبل ترکستان بیٹنی نے پاکستانی میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا تھا کہ بیت اللہ محسود نے پاکستان کی اعلیٰ شخصیت کو مارنے کے لیے خود کش حملہ آور بھیجے تھے۔

مبینہ طور پر ان کو ابھی تک کالعدم شدت پسندوں سےخطرات اور مخالفت کاسامنا تھا۔ ان کا شمار 'گُڈ طالبان' میں بھی کیا جاتا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG